اسلامی سال1441ہجری اختتام کو پہنچا اورنئے اسلامی سال 1442ہجری کا آغاز ہوچکا۔ عالمِ اسلام کے لیے اسلامی سالِ نو کا آغاز انتہائی اہمیت کا حامل اور عظیم قربانیوں کاپیام بَر ہے۔ دیگر مذاہب میں سالِ نو کے آغاز پر رقص وسرود کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں، شراب کے جام چھلکائے جاتے ہیں، مختصر یہ کہ دنیا کا ایک بڑا طبقہ نئے سال کا جشن مناتے ہوئے ناچ گانے، شراب و شباب، فحاشی و عریانی میں ڈوب جاتا ہے، شیطانیت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ خواتین، مردوں کااختلاط ہوتا ہے، نوجوان غل غپاڑا کرتے ہیں، لیکن جشن کایہ طریقہ یہودونصاریٰ کا تو ہوسکتا ہے، اہلِ اسلام کا ہرگز نہیں۔
ہر نئے اسلامی سال کا آغاز ہمیں ہجرتِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے عظیم واقعے کی یاد دلاکر اس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ اگر مسلمانوں کو اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر تنگی و دشواری کا سامنا کرنا پڑے، ان پر ظلم وبربریت کے پہاڑ توڑے جائیں اور عرصہ حیات تنگ کر دیا جائے، تو ایسے کڑے وقت میں وہ کفر کے ساتھ رواداری کا رویّہ اپناتے ہوئے اپنے عقائد ونظریات میں لچک ہرگز پیدا نہ کریں، بلکہ اپنے دین وایمان کی حفاظت کی خاطر اپنا سب کچھ لٹانا پڑے تو لٹا دیں، حتیٰ کہ اپنی جان تک نچھاور کردیں، لیکن اپنی استقامت میں لغزش نہ آنے دیں۔ اہلِ اسلام مغربی تہذہب کے دل دادہ نہیں بلکہ پروردئہ آغوشِ غیرت اور عفّت و عِصمت کے محافظ ہیں، تہذیب وتمدّن کے نام پر انسانیت کی دھجّیاں نہیں اڑاتے، بلکہ اخلاق کی اعلیٰ قدروں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خالقِ کائنات، مالکِ ارض و سماء، اللہ عزوجل نے جب سے زمین وآسمان کی تخلیق کی، اُسی وقت سے کتاب اللہ میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے، جن میں چار مہینے حُرمت والے ہیں۔
محرم الحرام بھی ان چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے، جس سے نئے اسلامی سال (سنِ ہجری) کا آغاز ہوتا ہے۔ اسلامی سال کے اس پہلے مہینے کے دسویں روز یعنی یومِ عاشورکی احادیثِ مبارکہ میں بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ مختلف روایات کے مطابق دس محرم الحرام کو ’’یومِ عاشور‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دن اللہ ربّ العزت نے دس پیغمبروں (علیہ السلام) کو دس اعزازات عطا فرمائے۔ اس روزحضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔ حضرت ادریس علیہ السلام کو مقامِ رفیع پر اُٹھایا گیا۔
حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری۔ سیّدنا ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی روز ربِ کائنات نے انہیں اپنادوست (خلیل) بنایا۔ سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگِ نمرود سے بچایا گیا۔ حضرت دائودعلیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، حضرت سلیمان علیہ السلام کو دوبار بادشاہت عطا کی گئی، حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری ختم ہوئی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دریائے نیل سے راستہ ملا، اور فرعون غرق کردیا گیا۔
اسی روز سیدنا یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا۔ نیز، روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ اسی روز قیامت قائم ہوگی (نزہتہ المجالس، معارف القرآن، معارف الحدیث)۔ اور اسی یومِ عاشور کے روز امامِ عالی مقام، حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جامِ شہادت نوش کیا، جسے ظالم و مظلوم، حق و باطل کے درمیان ایک عظیم معرکۂ کربلا کے نام سے تاریخ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کرلیا۔
اسلام، ایثارکی تعلیم دیتا ہے، حتیٰ کہ ختم ہوتا ہوا اسلامی سال حضرت ابراہیم وحضرت اسماعیل علیہم السلام کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتاہے اور نئے اسلامی سال کا پہلا دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عاشورہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے رفقا ء کی شہادت کی یاد دلوں میں زندہ کرکے اسلام کی سربلندی کے لیے قربانی کا جذبہ بے دار کرتا ہے۔ قرآنِ مجید، فرقانِ حمید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اللہ کے ہاں تو ان ہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے، جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں ہجرت کی اور جان و مال سے جہاد کیا۔ ان کا ربّ انہیں اپنی رحمت اور خوش نودی اور ایسی جنّتوں کی خوش خبری دیتا ہے، جہاں ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والے عیش کے سامان ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کے پاس خدمات کا صلہ دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔‘‘ (سورۃ التوبہ، آیت 19 تا21 )۔
بلاشبہ، ہجرت و شہادت جیسے معیاری اوصاف کے ذریعے ہی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچّی محبت، دینِ اسلام کی دعوت و اشاعت، برائیوں کے خلاف پیہم کوشش، فکرِ آخرت اور دنیا سے بے رغبتی ممکن ہے۔ ان اوصاف کے حامل بندوں ہی کو دنیا و آخرت کی کام یابی نصیب ہوگی۔ آنے والا ہر نیا اسلامی سال، زندہ دلوں پر صراطِ مستقیم پر چلنے کی دستک دیتا ہے۔ اور یہ جائزہ لیتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پسندیدہ اعمال و افعال، اوراسلام کی سربلندی کے لیے کس قدر جذبہ رکھتے ہیں۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اچھی عادات اور مثالی اخلاق کو اپنا شعار بنانا چاہیے ، سماجی برائیوں سے اجتناب اور بُری عادات کو ترک کردینا چاہیے، تاکہ غیر مسلم بھی ہمارے عمدہ اخلاق سے متاثر ہوکر دائرئہ اسلام میں آجائیں۔