آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نیب کی گولہ باری کے باوجود شہباز شریف مفاہمتی پالیسی پرگامزن

ان دنوں پراپیگنڈے اور مسلسل بیانات کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ملکی زبوں حال معیشت بحال ہو رہی ہے اور تحریک انصاف کی یہ حکومت اس مدت کے پانچ سال پورے کرے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ تمام ادارے اور قوتیں پہلے کی طرح عمران خان کے ساتھ ہیں خراب معاشی صورتحال کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑا اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن یکسو اور متحد نہیں ہے ہو سکتا ہے کہ پانچ سال پورے کرنے کا یہ تاثر اس لئے بھی قابل فہم ہو کہ فی الحال عمران خان کو ہٹا کر متبادل شخصیت یا انتظام موجود نہ ہو اپوزیشن کی قیادت کو پے درپے الزامات سے اس قدر گندا کر دیا گیا ہے کہ عام آدمی ابہام اور شکوک وشبہات کا شکار ہوجاتا ہے ۔

نواز شریف ،شہباز شریف ، مریم نواز، آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے بارے میں عمومی تصور دھندلا دیا گیا ہے تاہم کہنے والے کہتے ہیں کہ یہاں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ اگر حالات کو پلٹا دینے والے پلٹنے پر آئیں تو گرے ہوئے بت اٹھ بھی سکتے ہیں اور قدآور بھی بن سکتے ہیں یہ بات بھی درست ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں میں سے اکثر قائدین ابھی بھی مقتدر قوتوں کی جانب سے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے کے قائل بھی ہیں اور قدرے مائل بھی ہیں کہ عمران خان کو ہٹا کر ہمیں گود لے لیا جائے اس لئے مولانا فضل الرحمن کی اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کی خواہش بار بار دم توڑ جاتی ہے۔

اپوزیشن کے اکثر لیڈر ’’گرین سگنل‘‘ کے منتظر ہیں یہ اشارہ کبھی گرین اور کبھی سرخ ہو جاتا ہے ملے جلے اشاروں سے اپوزیشن کنفیوژن کا شکار رہتی ہے اب سنا ہے کہ ستمبر کے دوسرے ہفتے کے اختتام تک اے پی سی کا انعقاد ہونے جا رہا ہے لیکن یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اپوزیشن تنہا کچھ نہیں کر سکتی اس کو وہ سپورٹ درکار ہو گی جس طرح بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت اکثریت کے باوجود راتوں رات ختم ہوئی تھی یا سینٹ انتخابات میں اکثریت کے باوجود ان کا امیدوار ناکام ہوا تھا جب سے اپوزیشن نے دل ہارا ہوا ہے۔ شہباز شریف ، آصف زردری تو خاص طور پر سمجھتے ہیں کہ مقتدر قوتوں کے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ 

اسی ماحول میں نواز شریف کی واپسی یا نہ واپسی کے حوالے سے شوروغوغا سننے میں آرہا ہے دراصل مریم نواز کی نیب میں پیشی کے بعد اس حوالے سے صورتحال میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ورنہ ’’ووٹ کو عزت دو ‘‘ کا بیانیہ ٹھنڈا ٹھار ایک کونے میں پڑا تھا ایک طویل اور مسلسل خاموشی سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایک غیر اعلانیہ خاموشی کا معاہدہ ازخود وجود میں آ چکا ہے یہ بھی عموماً تحریک انصاف کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ نواز شریف کی لندن روانگی میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں بلکہ ’’اوپر‘‘ کا کمال ہے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے تو کسی لگی لپٹی کے بغیر یا جل کر کہہ دیا کہ نواز شریف کی روانگی کا سوال تو ’’محکمہ زراعت ‘‘ والوں سے کرو اشارہ واضح تھا۔ 

شیخ رشید اپوزیشن کے مستقبل کے حوالےسے یہ سوچ رکھتے ہیں کہ جب ہم جی ایچ کیو کے دروزے پر بیٹھے ہیں تو کسی اور کی کیا ضرورت ہے البتہ وہ خاص طور پر شہباز شریف کے رابطوں اور ماضی کی کارکردگی کے حوالے سے خائف اور پریشان نظر آتے ہیں اس لئے وہ ہر ایک پریس کانفرنس اور گفتگو میں یہ کہتےضرور نظر آتے ہیں کہ شہباز شریف کے کیس بہت خطرناک ہیں نہ معلوم وہ کس کو یہ باور کراتے ہیں کہ شہباز شریف، نواز شریف سے بھی زیادہ کرپٹ ہے لیکن ساتھ ہی وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ شہباز شریف اور میں ایک ہی لائن اور پارٹی کے ہیں۔بات نواز شریف کی واپسی کی ہو رہی تھی یہ معاملہ مریم نواز کی نیب پیشی کے بعد زیر موضوع بن گیا یہ سوال بھی اپنی جگہ ہے کہ نیب کی پیشی کس کے ایماءپر ہوئی؟ کیا یہ ایک انحراف تھا؟ لیکن کس کی طرف سے؟ نیب پیشی کے بعد مریم نواز اور نواز شریف بھی محتاط انداز میں متحرک ہوئے ہیں لیکن بظاہر اتنا کہ واپسی کا راستہ کھلا رہے ۔ 

مریم نواز نے نہ تو جلسے کئے نہ کارکنوں سے خطاب کی نوبت آئی ہے ملاقاتیں بھی بے حداحتیاط کے ساتھ کی گئی ہیں۔ نواز شریف نے بھی لندن میں کوئی پریس ٹاک نہیں کی مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ آپ پرانی صورتحال واپس لے آئیں ہم بھی اپنی جگہ پر واپس آ جائیں گے ۔ مسلم لیگ (ن)کے رہنما میاں جاوید لطیف کہتے ہیں کہ نواز شریف صحت کی پرواہ کئے بغیر جلد وطن آجائیں گے لیکن رانا ثناءاللہ کا کہنا یہ کہ جس طرح نوازشریف کو سزا دی گئی وہ واپس کیوں آئیں یہ ان کی سیاسی جلاوطنی ہے جب نواز شریف کی صحت بحال اور حکومت کی خراب ہو گی تو وہ واپس آ جائیں گے۔ اشارہ تو پھر واضح ہے کہ وہ کس بات کا انتظارکر رہے ہیں۔

ادھر شہباز شریف وہی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں نیب کی گولہ باری کے باوجود وہ اپنی پرانی پالیسی پر گامزن ہیں۔ پنجاب میں عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ تبدیل ہونے کا شور پھر مدہم پڑتا جا رہا ہے عمران خان کو معلوم ہے کہ اگر پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا شوشہ نمودار ہو گیا تو کئی امیدوار میدان میں آ جائیں گے گروپوں اور دھڑوں کو سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔پرویز الٰہی جیسا کہنہ مشق تجربہ کار امیدوار کو روکنا مشکل ہو جائے گا اس کے علاوہ جہانگیر ترین فیکٹر بھی موجودہے علیم خاں اور اسلم اقبال جیسے باصلاحیت امیدوار بھی موجود ہیں اس لئے عمران خان بار بار عثمان بزدار کے باصلاحیت ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔ 

عثمان بزدار نے تازہ بحران سے فارغ ہونے کے بعد کچھ سرگرمی دکھائی ہے کچھ پریس ٹاک کی گئی اللہ کی طرف سے کورونا کمزور ہو گیا اس کا کریڈٹ بھی تحریک انصاف اور عثمان بزدار لے رہے ہیں۔دراصل تحریک انصاف کی معاشی سرگرمیوں کے ضمن میں بعض حلقوں کی جانب سے جو اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ بس اتنا ہی ہے کہ ایک گرا ہوا شخص اٹھنے کیلئے کچھ ہاتھ پائوں کو جنبش دے رہا ہے۔

ایک معاملہ یہ بھی ہے کہ نواز شریف شہباز شریف کی حکومت کو گئے ہوئے دو سال سے زائد عرصہ گزر گیا اس وقت کی معاشی اقتصادی سرگرمیوں کو بہت سے حلقے بھول گئے خاص طور پر اگر پنجاب کی بات کریں تو شہباز شریف کا جس طرح عثمان بزدار سے ابتدائی سال میںموازنہ کیا جاتا تھا اب اتنا عرصہ گزرنے کے بعد انہیں کیا جاتا یا نہیں کیا جا سکتا یہ ایک قدرتی اور فطری عمل ہے ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ عوام کی یاداشت کمزور ہوتی ہے تاہم آٹے، گندم، چینی اور دیگر اشیائے خورونوش کے نرخ ماضی کی یاد دلاتے ہیں لیکن تحریک انصاف اس کو ماضی کے کرپٹ حکمران اور کرپشن کی سچی یا جھوٹی کہانیوں میں چھپانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

عثمان بزدار صاحب نے پناہ گاہوں پر بہت زور رکھا ہوا ہے بہتر ہوتا کہ وہ بیروزگار نوجوانوں کو ملازمتیں دلانے کی کوئی منصوبہ بندی اور سبیل کرتے یہ طریقہ تو لوگوں کو بھیک کی اور بغیر محنت کے روٹی اور ٹھکانہ حاصل کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید