آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ٹیسٹ کرکٹ میں ایک ہی قسم کی گیند مقرر کرکے فاسٹ بولرز کی مدد کی جاسکتی ہے

وقار یونس

(سابق کپتان، بولنگ کوچ پاکستان کرکٹ ٹیم )

فاسٹ بولنگ پاکستانی کرکٹ کی پہچان ہے۔ گزشتہ کئی سالوں میں بہت سےعظیم بولرز سامنے آچکے ہیں اور جس طرح یہ فاسٹ بولرز 150 کی رفتار سے گیند کررہے ہیں میں پرامید ہوں کہ ہمارا مستقبل روشن ہے۔خوش قسمتی سے ہمارے پاس چند باصلاحیت نوجوان فاسٹ فاسٹ بولرز موجود ہ ہیں مگر بدقسمتی سے گراونڈ میں ان کی رہنمائی کرنے کے لیےزیادہ تجربہ کار بولر موجود نہیں ہیں۔ ہمیں پٹری پر واپس آنے کے لیے ابھی مزيد وقت درکار ہے ۔کھلاڑیوں کی ڈویلمپنٹ کے ضمن میں ہر ملک کو کبھی کبھار ایک مشکل وقت سے گزرنا پڑتا ہےاورانہی میں سے کسی کے بڑے کھلاڑی بننے تک آپ کو ان مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔کوویڈ 19کے سبب دورہ انگلینڈ کی تیاری مثالی نہیں تھی۔ 

یہ کھلاڑی تقریباََ تین ماہ انڈور رہے اور اس دوران زیادہ ٹریننگ بھی نہیں کر سکے۔ اس ٹور کے دوران بعض مواقع پر موسم بھی کافی مایوس کن رہا مگر نوجوان فاسٹ بولرز کی کارکردگی متاثر کن رہی اور ہم ان کی کارکردگی سے خوش ہیں ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان میں ٹیلنٹ موجود ہے ، انہیں اب صرف زیادہ کرکٹ ، خصوصاََ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے بولرز کی شناخت کرنی ہوگی جو ٹیسٹ کرکٹ کے لیے موزوں ہوں اور وہ طویل طرز کی کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار ہوں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی زبردست بولر ہیں۔ اسی طرح انگلینڈ کے اسکواڈ کا حصہ رہنےوالے محمد موسیٰ اور انڈر 19 کے کچھ بولرز بھی زبردست ہیں، بے شک محمد عباس بہت باصلاحیت اور تجربہ کار بولر ہیں۔ 

ہم انہیں مواقع فراہم کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ ان لڑکوں کی توجہ ٹیسٹ کرکٹ پر مرکوز ہو اور اس کا مطلب ہے کہ یہ چار روزہ کرکٹ کو بھی سنجیدگی سے لیں۔ اگر آپ ٹیسٹ کرکٹ میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے جسم کو لمبے اور طویل باؤلنگ اسپیلزکروانے کی عادت ڈالنی ہے جو کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنےسے ہو گا ۔ چھ ٹیموں پر مشتمل پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا ڈومیسٹک نظام ہمارے فاسٹ باؤلرز کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لئے معاون ثابت ہو گا۔ لیکن میں انہیں دنیا بھر میں کھیلتا دیکھنا چاہتا ہوں، پھر چاہے وہ آسٹریلیا ہو یا انگلش کاؤنٹی کرکٹ۔مجھے ذاتی طور پر انگلینڈ میں کھیلنے کا تجربہ ہے ، یہاں مختلف موسم، پچز ، اور میدانوں میں کرکٹ کھیلنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ 

محمد عامر اور محمد عباس دونوں ہی انگلش کاؤنٹیز کے لیے کامیاب بولر رہےاور ساتھ ساتھ یہاں کھیلنے کے تجربہ ان کے کیریئرکے لیے بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوا۔اگر آپ انگلینڈ کےدو سینئر بولرز اسٹیورٹ براڈ اور جمی اینڈرسن کے کیریئر پر نظر ڈالیں ، تو بے شک دونوں لیجنڈ بولرز نے اپنے کیرئیر کے آغاز میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کردیا تھا مگر یہ دونوں بھی اپنے کیرئیر کے دوران ٹیم میں ان اور آؤٹ ہوتے رہے ہیں۔ انہیں بھی یہاں اپنے قدم جمانے اور اس ماحول میں اپنی پہچان بنانے میں ایک مخصوص وقت لگا ہے۔حالیہ ٹیسٹ سیریز میں دونوں ٹیموں کو جن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ان میں سے ایک گیند کو چمکانےکے لئے تھوک کے استعمال پر پابندی بھی تھی۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس موسم کے باعث یہ کوئی ایک بڑا مسئلہ بنا۔ یہاں پچز پہلے سے ہی بہت خشک تھیں لیکن ہوا میں نمی ہمیشہ رہی اور آؤٹ فیلڈ سرسبز رہنے کی وجہ سے یہاں گیند کو اچھی حالت میں رکھنا کوئی زیادہ مسئلہ نہیں تھا۔ 

دنیا کے دوسرے حصوں میں ، گیند کو اچھی حالت میں برقرار رکھنا ہمیشہ مشکل رہتا ہے۔انگلینڈ میں استعمال ہونے والی ڈیوک کی گیند دوسری گیندوں کے مقابلے میں زیادہ سخت رہتی ہیں ، جس کی وجہ سے بھی تھوک کا مسئلہ کم رہا۔ میں کئی برسوں سے ڈیوک کی گیندکا بڑا حامی رہا ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کے لئے پوری دنیا میں صرف ایک ہی قسم کا گیند استعمال ہونا چاہئے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا ہے کہ برانڈ کونسا ہے لیکن آئی سی سی کو اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔ جب باؤلرز پوری دنیا میں کھیلتے ہیں توان کے لیے مختلف قسم کی گیند کو استعمال کرتے ہوئے خود کو ایڈجسٹ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ہمارے فاسٹ بولرز کوصرف فاسٹ بولنگ کے گر ہی نہیں سیکھنے بلکہ ان کے لیے فٹنس کی بھی بہت اہمیت ہے ۔ ایک اسکواڈ کی حیثیت سے ہماری فٹنس میں بہتری آ رہی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم ابھی بھی دنیا کی بہت سی دوسری ٹیموں سے پیچھے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں فاسٹ بوز کا طویل اسپیلز کرنے کے لیے سپر فٹ ہونا ضروری ہےتاکہ جب ٹیم کو ان کی ضرورت ہوتو وہ نا چاہتے ہوئے بھی لمبے اسپیلز کرنے کے لیے تیار ہوں ۔فاسٹبولنگ بہت مشکل ہے اور اسے راتوں رات نہیں سیکھا جاسکتا۔ 

ہم سب کو ان لڑکوں کے حوالے سے صبر کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں بھوک ہے اور مجھے اعتماد ہے کہ اگر انہوں نے محنت جاری رکھی تو یہی پاکستان کی کرکٹ کا مستقبل ہیں ۔ان کی فٹنس اور صلاحیتوں میں نکھار آتا چلا جائے گا۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید