آپ آف لائن ہیں
منگل 2ربیع الاول 1442ھ20؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم سیکھنے کا عمل تیز کررہی ہے

زبان ہر علم کی اساس ہے، اسی لیے سیکھنے کی بنیاد مضبوط بنانی ہوتو کم عمری میں ہی زبان کی مہارت کو فروغ دینا ضروری ہے۔ پہلے روزمرہ زندگی میں کامیابی کیلئے درکار زبان کی بنیادی مہارت کے حصول کیلئے شاید سب کو یکساں رسائی حاصل نہیں تھی۔ تاہم اب وقت بدل رہا ہے اور ٹیکنالوجی اس خلا کوپُر کرنے میں مدد فراہم کررہی ہے۔

محققین کی ایک رپورٹ کے مطابق پری اسکول کے زمانےمیں پسماندہ معاشرے کے بچوں کوزبان سیکھنے کیلئے اکثر کم معیار اور کم دورانیہ ملتاہے۔ بچوں میں تعلیم کو فروغ دینے والی امریکا کی ایک غیر منافع بخش تنظیم کے مطابق، کنڈرگارٹن میں داخل ہونے والے34فیصد بچوں میں پڑھنے کے لئے ضروری زبان کی بنیادی صلاحیتوں کا فقدان ہوتا ہے۔ 

ایک رپورٹ کے مطابق 2019ءمیں چوتھی جماعت کے صرف35فیصد بچے اپنی زبان میں ماہر تھے، جبکہ2017ء میں یہ شرح 37فیصد تھی۔ جو طلبا تیسری یا چوتھی جماعت کی کتابیں پڑھنے میں ماہر نہیں ہوتے ان کا اسکول چھوڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتاہے۔ اگر کسی میں پڑھنے کی اہلیت نہیں ہے تو ا س کی مستقبل کی آمدنی، روزگار کے مواقع اور معاشرے کا ایک فعال فرد بننے کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔

ٹیکنالوجی، جیسا کہ اصطلاح سے پتہ چلتا ہے ، تیز رفتاری کا دوسرا نام ہے۔ آج ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر سیکھنے کے ماحول کے ساتھ مربوط کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے سیکھنے کے آن لائن طریقوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جیسا کہ MOOCs، ویبنار، آن لائن لیکچرز، ڈسکشن بورڈز، ای میلز، ویڈیو لرننگ اور بہت کچھ شامل ہے۔ ٹیکناجی پر مبنی تعلیم چونکہ ایک وسیع موضوع ہے اس لیے ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئے تناظر میں بحث کی جاسکتی ہے۔

ٹیکنالوجی بنیادی تبدیلیوں کا آغاز کرتی ہے جو کہ سیکھنے والوں کی پیداوری صلاحیتوں میں نمایاں بہتری لانے میں اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ سیکھنے اور سکھانے کے لئے ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کلاس رومز کو ڈیجیٹل لرننگ ٹولز سے ہم آہنگ کرتی ہے جیسے ہینڈ ہولڈ ڈیوائسز اور کمپیوٹرز؛ کورسز کی پیشکشوں کی رینج بڑھنا ، سیکھنے کے مٹیریل اور تجربات کو وسعت دینا، دن کے 24گھنٹے اور ہفتے کے سات دن سیکھنے میں معاونت فراہم کرنا، معلومات کے دور میں مطلوبہ مہارتوں کو تیار کرنا، طلبا کی مشغولیت اور حوصلہ افزائی میں اضافہ کرنا اور سیکھنے کےعمل کو تیز کرنا وغیرہ وغیرہ۔ 

ٹیکنالوجی منسلک تدریس کے ایک جدید ماڈل کی ابتداء کرکے اس کی ہدایات کو بھی تبدیل کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ یہ ماڈل انسٹرکٹرز یا ٹرینرز کو اپنے طلبا یا سیکھنے والوں کو پیشہ ورانہ وسائل ، کونٹینٹ اور نظاموں سے جوڑتا ہے تاکہ تعلیم میں بہتری لائی جاسکے اور سیکھنے کے تجربے کو ذاتی بنایا جائے۔

پری کے سے آٹھویں جماعت تک ڈیجیٹل نصاب فراہم کرنے والی کمپنی، امییجین لرننگ، کے صدر جیریمی کائوڈری کا کہنا ہے، ’’ہم سبھی طلبا کو ٹیکنالوجی کے ذریعہ یکساں تعلیم فراہم کرنے کے بارے میں پرجوش ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہر طالب علم کو اپنی منفرد صلاحیت حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ ہمارا مقصد ہے کہ ہم طلبا سے ملیں اور ان کو انہی کی جگہ پر اساتذہ فراہم کریں۔ یہ اساتذہ اپنی ڈیجیٹل بصیرت کے ذریعے درس و تدریس کے عمل میں بچوں کے سیکھنے کو کامیابی سے ہمکنا ر کریں ‘‘۔ 15سال پہلے قائم ہونے والی اس کمپنی کے پروگراموں سے امریکا میں روزانہ30لاکھ سے زائد طلبا مستفید ہوتے ہیں۔ان کوششیں میں زبان کے سیکھنے کے عمل کو آسان بنانا اور مساوی نشوونما کو فروغ دینا ہے جس کی مدد سے طلبا گہری تفہیم ، مشغولیت اور سیکھنے سے مراحل سے لطف اندوز ہوسکیں۔

 یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ٹیکنالوجی ایک ضمیمہ ہے، یہ مکمل طور پر اساتذہ کی جگہ نہیں لے سکتی ۔البتہ اس کے ذریعے اساتذہ اپنے طلبا کو سکھانے میں مدد کرنے کے طریقوں کی تائید اور اصلاح کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کسی طالب علم کو کسی چیز کو سیکھنے میں پریشانی ہو رہی ہو تو ٹیکنالوجی اس کی مدد کرسکتی ہے، ممکن ہے کہ طالب علم کے زبان سیکھنے کے عمل میں کوئی رکاوٹ آرہی ہو یا اس کے معنی خیز استعمال میں کہیں سقم موجودہو۔ ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کا فائدہ یہ ہے کہ ہر طالب اس سے اتنا زیادہ ہی استفادہ حاصل کرسکتا ہے جتنا کہ کوئی دوسرا شخص حاصل کرے۔ اب یہ ہر طالب علم کی ذہنی استعداد پر منحصر ہے کہ وہ کتنی جلدی سیکھتا ہے۔ 

لیکن یہ حقیقت موجود ہے کہ اگر کوئی طالب دو گھنٹے میں کوئی چیز سیکھتا ہے توممکن ہے کہ دوسرا چار گھنٹے لگا دے لیکن بہر حال وہ ضرور سیکھے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی مدد فراہم کرسکتے ہیں تاکہ طالب علم کو کسی بھی موضوع کو سمجھنے اور آگے بڑھنے میں مدد مل سکے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے تمام طلبا کو یکساں تعلیمی مواقع میسر آتے ہیں۔ وہ گھر بیٹھے یا تعلیمی مراکز میں ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بھر کے تعلیمی مواد سے استفادہ کرسکتے ہیں اور یہ عمل ان کے پیشہ ورانہ کیریئر میں بھی معاون ثابت ہوگا۔