آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بین الافغان مذاکرات، طالبان کا افغانستان میں اسلامی نظام کامطالبہ


قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب کے آغاز پر امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ پائیدارامن ممکن ہے،جبکہ طالبان نے افغانستان میں اسلامی نظام کامطالبہ کیا ہے۔

دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نےاسے تاریخی موقع قرار دیا اور کہا کہ طالبان دہشتگرد عناصر کی میزبانی نہ کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کےدوران بلاشبہ چیلنجز آئیں گےتاہم فریقین امن کیلئے موقع سے فائدہ اٹھائیں، دیرپا امن ممکن ہے، افغان حکومت اور طالبان تشدد، کرپشن سےبچیں اور امن وخوشحالی کی جانب بڑھیں۔

طالبان کا کہنا تھا کہ وہ پرامن، مستحکم، آزاد افغانستان کیلئےپرعزم ہیں، مستقبل کے افغانستان میں اسلامی نظام ہونا چاہئے، مذاکرات میں مشکلات آسکتی ہیں تاہم اسے جاری رہنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئیے: طالبان وفد بین الافغان مذاکرات کیلئے قطر پہنچ گیا

افغان امن کمیٹی کےسربراہ عبداللہ عبداللہ نےملک کےتمام حصوں میں انسانی بنیادوں پر سیز فائر کامطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ امن معاہدےکےبعد بھی بین الاقوامی معاونت کی ضرورت ہوگی۔

عبداللہ عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ نسلوں کےمستقبل کی بقا ءکیلئےمتحد ملک کی ضرورت ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید