آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

منیب بٹ اپنی بیٹی کیلئے کیوں خوفزدہ ہیں ؟

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے اداکار منیب بٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ موٹروے زیادتی حادثے کے بعد سے وہ اپنی بیٹی امل کے لیے نہایت خوفزدہ ہیں ۔

گزشتہ دنوں لاہور موٹروے پر پیش آنے والے اجتماعی زیادتی کے حادثے کے بعد سے جہاں ہر ایک پاکستانی خاتون خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہے وہیں شوبز انڈسٹری کی شخصایت بھی اس حادثے پر افسوس اور پریشانی کی سی کیفیت کا اظہار کر رہی ہیں ۔

پاکستان سمیت شوبز انڈسڑی کے ستارے بھی اپنی بیٹیو ں کے لیے نہایت پریشان اور فکر مند نظر آ رہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیے: موٹروے واقعہ، فنکاروں کا ملزمان کو سرعام پھانسی کا مطالبہ

یہ بھی پڑھیے: عورت قبر میں بھی محفوظ نہیں، یہی اِس ملک کی حقیقت ہے، عائشہ عُمر

ایسی ہی فکر اور پریشانی کا اظہار پاکستان کے معروف ڈرامہ ہیرو منیب بٹ کی جانب سے اپنی بیٹی امل کے لیے کیا گیا ہے، منیب بٹ کی جانب سے فوٹو ، ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن انسٹاگرام پر اپنی بیٹی امل کے لیے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کی گئی ہے ۔

View this post on Instagram

#hangtherapists

A post shared by Muneeb Butt (@muneeb_butt) on


منیب کی جانب سے انسٹا پر شیئر کی گئی پوسٹ میں اپنی ننھی سی بیٹی امل کے لیے لکھا گیا ہے کہ ’وہ ہر روز صبح اُٹھ کر اپنی بیٹی امل کو دیکھتے ہیں، محبت سے، اطمینان سے، بے حد چاہت سے لیکن اب اس میں خوف بھی شامل ہو گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید لکھا کہ ’وہ سوچتے ہیں کہ کیا یہ خوف ہمیشہ رہے گا؟،‘ اس پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے ساتھ میں منیب کی جانب سے ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے موٹروے میں ملوث مجرموں کو لٹکائے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس سے چند دن قبل منیب بٹ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر زیادتی کیسز اور ان میں ملوث مجرموں کی سزاؤں سے متعلق بات کی گئی تھی ۔

منیب بٹ کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ ’بد قسمتی سے زیادتی کے حادثات پوری دنیا میں ہوتے ہیں مگر مجرموں کے خلاف بر قت کارروائی کی جاتی ہے اور مظلوم کو انصاف ملتا ہے۔‘

انہو ں نے قانون بدلنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید لکھا کہ ’مگر بد قدقسمتی سے ہمارے ہاں مظلوموں کو وقت پر انصاف نہیں ملتا ہے اور نہ ہی وقت پر کارروائی کی جاتی ہے  جس سے ایسے مجرموں کا جرائم کے لیے مزید حوصلہ بڑھتا ہے ۔‘ 

انٹرٹینمنٹ سے مزید