آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایک باپ کی تڑپ اور مخصوص سیکولر طبقہ کی سرد مہری

ایک دکھی باپ کے پہلے مجھے وٹس ایپ پر پیغام موصول ہوئے پھر فون پر اُس سے گفتگو ہوئی تو اُس کی بات سن کر دل دہل گیا۔ اُس کے پانچ سالہ بیٹے عمر راٹھور کو 21دسمبر 2019کو بھارہ کہو اسلام آباد سے تاوان کے لئے اغوا کیا گیا پھر زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا لیکن وہ کہتا ہے کہ انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔

پھول جیسا بچہ، جس کی تصویریں بھی مجھے بھیجی گئیں، کو زیادتی کا شکار بناکر انتہائی وحشیانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔ باپ کہتا ہے کہ بچے کی ماں اور بہن، بھائیوں کی حالت بھی بہت خراب ہے، جب واقعہ ہوا تو حکمران آئے، میڈیا نے بھی خوب کوریج دی لیکن اب کیس ہے کہ چلتا ہی نہیں۔

اسلام آباد کی ماڈل کورٹ میں کیس بھیجا گیا کہ تین ماہ میں فیصلہ ہو لیکن ابھی تک ملزموں پر فردِ جرم بھی عائد نہیں کی گئی۔ اب نہ حکمران اور رہنما نظر آتے ہیں، نہ ہی میڈیا کو اب اس کیس میں کوئی دلچسپی ہے۔ اُس باپ، جس کا نام مختار راٹھور ہے، نے بتایا وہ بڑے کرب سے گزر رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ بہت بےقرار اور مایوس ہو چکا ہے۔

کہنے لگا کہ کہنے کو تو میرے بچے کا کیس ماڈل کورٹ میں اس لئے بھیجا گیا کہ جلد انصاف ملے لیکن وہاںسے بھی ہر ماہ نئی تاریخ مل جاتی ہے۔ یہ بھی کہا کہ جب اپنے بیٹے کے بارے میں سوچتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ قاتل آرام سے جیل میں بیٹھے ہیں بلکہ اب عدالتوں میں اپنی ضمانتوں کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں تو میں برداشت سے باہر ہو جاتا ہوں۔

کہنے لگا، قاتلوں کو سرِعام پھانسی لگے دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہمارا دل اور کلیجہ بھی ٹھنڈا ہو لیکن اب مایوسی کی یہ حالت کہ سوچتا ہوں، اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سپریم کورٹ کے سامنے جا کر خود سوزی کر لوں۔ میرے پوچھنے پر مختار راٹھور نے بتایا کہ پولیس نے چالان مکمل کر لیا، ملزموں کی ڈی این اے رپورٹس بھی آ چکیں، فنگر پرنٹس کی بھی تصدیق ہو چکی، پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی موجود ہے لیکن کیس ہے کہ چلنے کا نام ہی نہیں لیتا، جس کے وجہ سے ہر گزرتا دن مایوسی کو بڑھائے چلا جارہا ہے۔

مختار کا کہنا تھا کہ بیٹا گنوا دیا، اپنا محلہ بھی چھوڑ دیا کیوںکہ ملزمان اُسی محلہ میں رہتے تھے لیکن انصاف ہے کہ سب ثبوتوں کے باوجود مل نہیں رہا۔ کہنے لگا کہ میرے ساتھ ظلمِ عظیم ہوا، بیٹے کو اغوا کرکے چار درندوں نے زیادتی کے بعد قتل کر دیا تھا۔ الماری میں بند ٹیپوں سے جکڑی ہوئی نعش ملی جسے دیکھ ہر آنکھ اشک بار ہوئی اور لوگوں کے سینے چھلنی ہوئے۔ قتل سے پہلے عمر کے پیٹ میں لاتیں بھی ماری گئیں ، اس کو اذیت کا نشانہ بنایا گیا لیکن ہم ابھی تک انصاف کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

یہ ایک نہیں بلکہ ہزاروں ماں باپ کی کہانی ہے۔ کوئی دو تین سال قبل قصور کی زینب کے ساتھ جو زیادتی ہوئی تو پورے ملک میں ایک بےچینی پھیل گئی۔ ہر کوئی قاتل کو پکڑ کر اُسے نشانِ عبرت بنانے کا مطالبہ اوردعائیں کرتا رہا لیکن اُس کے قاتل، جس نے کم از کم آٹھ بچیوں کے ساتھ زیادتی کی اور اُنہیں قتل کیا، کو نشانِ عبرت نہ بنایا گیا۔

پھانسی دے دی گئی لیکن زینب کے باپ اور کروڑوں پاکستانیوں کے مطالبہ کے باوجود اُسے سرعام نہیں لٹکایا گیا۔ وہ نشانِ عبرت تو نہ بنا لیکن اُس واقعہ کے بعد کوئی دن نہیں گزرا جب کسی نہ کسی بچے کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات سامنے نہ آئے ہوں۔

سینکڑوں یا شاید ہزاروں بچوں کو اس عرصہ میں زیادتی کا نشانہ بنایااور قتل کیا گیا لیکن مجھے زینب کے قاتل درندہ صفت عمران علی کے علاوہ کسی ایک ایسے درندے کا نام بتا دیں جسے پھانسی دی گئی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ چند ایک کو پھانسی دی بھی گئی ہو لیکن نہ اُس کا عوام کو کوئی علم نہ میڈیا کو اور یہ وہ بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر درندہ صفت روز بروز اپنی درندگی میں آگے سے آگے ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں جبکہ مظلوموں کی لسٹ ہے کہ اُس میں بےپناہ اضافہ ہو رہا ہے اور اب حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ موٹروے پر خاتوں کو اُس کے بچوں کے سامنے ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

لاہور موٹروے سانحہ کے ایک یا دو روز بعد ہی کوئی دس ریپ کے واقعات میڈیا کے ذریعے سامنے آئے جن کا شکار بچے اور عورتیں تھیں۔ نشانِ عبرت بنائیں تو دیکھیں کہ کیسے معاشرہ سدھرتا ہے۔ جنرل ضیاء مرحوم کے دور میں لاہور میں ایک کیس جسے شاید پپو کیس کے حوالے سے جانا جاتا ہے، میںبچے کے ساتھ زیادتی اور اُسے قتل کرنے والے کو سرعام پھانسی دی گئی۔ میری این جی اوز، سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے ایک خاص طبقہ جو اسلامی سزائوں کا مخالف ہے، سے گزارش ہے کہ ذرا ڈیٹا نکالیں کہ اُس پھانسی کے بعد چار پانچ سال ایسے واقعات میں کتنی کمی ہوئی۔

میری اسلامی سزاؤں کے مخالفین سے یہ بھی درخواست ہے کہ ذرا سعوی عرب اور ایران کا امریکا اور برطانیہ سے بھی موازنہ کرکے دیکھ لیں۔ اگر بُرا نہ منائیں تو افغانستان میں طالبان دور میں کرائم ریٹ کا موازنہ اُن سے پہلے اور بعد کے ادوار سے بھی کر لیں۔ اپنے سیکولر نظریہ اور مغرب پسندی کی وجہ سے خدارا اس قوم کے بچوں اور خواتین کو مزید غیرمحفوظ نہ کریں۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)