آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ندا یاسر نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی


پاکستان کی معروف ٹی وی میزبان اور اداکارہ ندا یاسر نے اپنے پروگرام میں زیادتی کا نشانہ بننے والی 5 سالہ مروہ کے والدین کو مدعو کرنے پر معافی مانگ لی۔

 ندا یاسر نے مروہ  کے والدین کو  اپنے شو پر  بلانے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بچی کے اہلخانہ نے ان سے خود رابطہ کیا تھا اور یہ پروگرام ریٹنگ کیلئے نہیں کیا گیاتھا۔

 سوشل میڈیا پر ندا یاسر کور شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا اور پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر ہیش ٹیگ BanNidaYasir کا ٹرینڈ بھی زیر گردش رہا۔

سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے ندا یاسر کے خلاف پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) میں شکایت بھی درج کرائی۔

صارفین کا کہنا تھا کہ ندا یاسر نے یہ پروگرام  محض ریٹنگ حاصل کرنے کیلئے کیا تھا اور صارفین یہ کہتے بھی دکھائی دیے کہ بچی کے والدین کو مدعو کر کے نامناسب سوال کرنے سے اُن کے احساسات مجروح ہوئے ہیں۔

مذکورہ شو پر پابندی کے مطالبے نے ایک تنازع کی صورت اختیات کرلی تھی جس پر ندا یاسر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں مداحوں سے معافی مانگ لی۔

03 منٹ اور 23 سیکنڈ پر مبنی ویڈیو پیغام شیئر کرتے ہوئے ندا یاسر نے لکھا کہ ’براہِ کرم مجھے معاف کردیں۔‘


اپنے ویڈیو پیغام میں میزبان نے شو سے متعلق کھڑے تنازع پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’دیکھنے میں آرہا ہے کہ کچھ لوگ مجھ سے ناراض ہیں، اور ان کی ناراضی کی وجہ یہ ہے کہ میں نے مروہ کے والدین کو بلا کر کچھ ایسے سوالات کیے جو مجھے نہیں کرنے چاہیے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سب سے پہلے تو میں معافی مانگنا چاہوں گی میں آپ لوگوں کو ناراض نہیں دیکھ سکتی، اگر جانے انجانے میں مجھ سے کوئی ایسی بات ہوئی یا سوال ہوئے ہیں تو میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی ہوں۔‘

ندا یاسر نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ’میں وضاحت دینا چاہوں گی کہ ہم ایک ہفتہ قبل شو کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ایسے پروگرام ترتیب دیتے ہیں جس سے آپ کی صبح خوشگوار ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ ہم نے مروہ کے اہلخانہ سے رابطہ نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے صارم برنی کے توسط سے ہم سے رابطہ کیا تھا کیونکہ انہیں میڈیا سپورٹ کی ضرورت تھی۔

ندا یاسر نے کہا کہ پورا شو دیکھا جائے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ پہلے دن ان کی ایف آئی آر بھی نہیں درج ہوئی تھی اور جب انہوں نے احتجاج کیا تو دوسرے دن ایف آئی آر درج کی گئی تھی، اس طرح کے کیسز کو جب میڈیا سپورٹ ملتی ہے تو اداروں کا کام تیز ہوجاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ روزانہ ایسے بہت سے کیسز ہوتے ہیں اور آپ کو پتا بھی نہیں چلتا اور ریپسٹ اسی طرح کھلے عام گھومتے رہتے ہیں۔

ندا یاسر نے کہا کہ مروہ کے اہلخانہ کی درخواست سن کر مجھے لگا کہ سارے کام، پروگرامز چھوڑ کر اس وقت مجھے انہیں سپورٹ کرنا ہے اور خدا گواہ ہے یہ کسی ٹی آر پی کے لیے نہیں کیا گیا۔

میزبان نے کہا کہ یہ شوز مجھے ڈپریس اور اداس کردیتے ہیں، میں خود ایک ماں ہوں مگر اس وقت اس بچی کے اہلخانہ کو میرے تعاون کی ضرورت تھی اور میں نے اپنا فرض سمجھ کر انہیں یہاں بلایا تاکہ ہماری سپورٹ مل سکے۔

ندا یاسر نے کہا کہ یقین جانیں اس شو کے 2 دن بعد وہ ریپسٹ پکڑا گیا، اس خاندان نے مجھے بہت دعائیں دی، ندا یاسر نے کہا کہ ’میں اس خاندان کو مروہ تو واپس نہیں کرسکتی لیکن جو تسکین ان کو ملی، ریپسٹ ان کے ہاتھ میں آیا تو یقین جانیں وہ لوگ مجھے دعائیں دے کر گئے۔‘

ندا یاسر نے یہ بھی کہا کہ پھر بھی میں انسان ہوں جانے انجانے میں مجھ سے غلطی ہوسکتی ہے، کچھ غلط بولا ہو تو براہِ کرم مجھے معاف کردیں۔

اپنے ویڈیو پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ میں تہہ دل سے معذرت کرتی ہوں اور کوشش کروں گی کہ آئندہ اور بھی زیادہ پھونک پھونک کر قدم رکھوں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید