آپ آف لائن ہیں
منگل 2ربیع الاول 1442ھ20؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’لوئس پاسچر‘ ریبیز کا علاج اور پاسچرائزیشن کا عمل دریافت کیا

لوئس پاسچر حیاتیات، مائیکروبائیولوجی اور کیمیا کے فرانسیسی ماہر تھے، جنہوں نے کتے کے کاٹنے کا اعلاج دریافت کیا اور یہ ثابت کیا کہ بہت سی بیماریاں ازخود نہیں بلکہ جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ خمیر کے بارے میں ان کی تحقیقات سے جرثومیات کا نیا علم وجود میں آیا اور متعدی امراض کے اسباب اور ان کی روک تھام کے بارے میں تحقیقات سے ایک نئے شعبے کا اضافہ ہوا۔ پاسچر نے جانوروں اور پرندوں میں متعدی امراض پھیلانے والے جراثیم کا بھی مطالعہ کیا۔ لوئس پاسچر نے دودھ کو حرارت پہنچا کر بیکٹریا سے محفوظ کرنے کا عمل ایجاد کیا جو انہی کے نام سے موسوم ہے۔

1822ء میں فرانس کے ایک گائوں میں پیدا ہونے والے لوئس پاسچر کو بابائے مائیکرو بائیولوجی بھی کہا جاتاہے۔ ان کے والد جین جوزف پاسچر نپولین کی فوج میں بطور سارجنٹ خدمات انجام دیتے تھے۔ نپولین کے معزول ہونے کے بعد ان کے والد نے بھی ملازمت چھوڑ دی اور چمڑا بنانے کا کاروبار شروع کیا۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا تعلیم حاصل کرکے اسکول ماسٹر بنے لیکن پاسچرکی دلچسپی ڈرائنگ بنانے میں تھی۔ اپنے گائوں میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کےبعد پاسچر کو پیرس بھجوادیا گیا، جہاں انہوںنے1840ء میں بیچلر آف آرٹس اور 1842ء میں بیچلر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ 

ان کے سرٹیفکیٹ پر خاص طور پر درج تھاکہ وہ کیمسٹر ی کے مضمون میں کمزور ہیں۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے پاسچر نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور زیادہ وقت کیمسٹری کے تجربات کو دیناشروع کیا۔ ان کے پروفیسر روشنی اور تیزاب پر ایک تجربہ کررہے تھے لیکن کامیابی نہیں مل رہی تھی، پاسچر نے ان کے ساتھ مل کر تجربہ میں کامیابی دلائی، جس پر خوش ہو کر پروفیسر نے ان کو اسٹروس برگ یونیورسٹی کے کیمسٹری ڈپارٹمنٹ کا صدر بنوادیا۔ کچھ عرصہ بعد پاسچر اسی پروفیسر کی بیٹی سے شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

پاسچر کے زمانے میں اگر کسی کو پاگل کتا کاٹ لیتاتھا تو اسےلوہار کے پاس لایا جاتاتھا، جو دہکتے انگاروں پر ایک سلاخ کو سرخ کرکے مریض کے زخم کو داغتا تھا۔ پاسچر نے کئی بار لوہار کو یہ علاج کرتےدیکھا پھر انہوں نے اس کا علاج دریافت کرنے کی ٹھان لی۔ اس موذی مرض کے علاج کیلئے انہوںنے جو جو تجربات کیے، ان کے دوران پاسچر کی اپنی زندگی بھی خطرے سے دوچار رہی۔ ایک مرتبہ زہریلا لعاب شیشے کی نالی کے ذریعے کھینچتے ہوئے ان کے منہ میں چلا گیا لیکن پاسچر نے ہمت نہ ہاری اور آخر کار ٹیکہ تیار کرہی لیا۔ یہ ٹیکہ ایک پاگل کتے کو لگایا گیا تو وہ ٹھیک ہوگیا۔ 

لیکن اس کے بعد یہ سوال سامنے آیا کہ کیا انسانوں کو یہ ٹیکہ لگایا جاسکتاہے اور اگر لگایا جائے تو اس کی کیا مقدار ہونی چاہئے؟ پھر ایک دن پاسچر کے پاس 9سالہ جوزف میسٹر نامی لڑکے کو لایا گیا،جسے چندروز قبل پاگل کتے نے کاٹا تھا۔ اس لڑکے کی حالت بہت نازک تھی، تاہم پاسچربچے کو 9دن تک ٹیکے لگاتے رہے۔ تین ہفتے بعدجوزف کی حالت بہتر ہونے لگی اور تین ماہ بعد وہ بھلا چنگا ہوگیا۔ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور اخبارات کے ذریعے لوئس پاسچر ’’ انسان کے نجات دہندہ ‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئے۔

1854ء میں پاسچر للی یونیورسٹی میں جب سائنس فیکلٹی کے ڈین مقرر ہوئےتووہاں انہوں نے ثابت کیا کہ بہت سی بیماریاں خود بخود پیدا نہیں ہوتیں بلکہ ان کی وجہ جراثیم یا بیکٹیریا ہوتے ہیں ۔ پاسچر نے کیمیا میں قابلِ قدر انکشافات کیے۔ انہوں نے اپنے جراثیم کے نظریہ پر مزید تحقیق کرکے ثابت کیا کہ اینتھریکس، ہیضہ ، ٹی بی اور چیچک جیسے امراض کی وجوہات کو معلوم کیا جاسکتاہے اور ان کی ویکسین تیار کی جاسکتی ہے۔

نامیاتی مرکبات (Organic compounds)کی ساخت میں بنیادی اصول کی موجودہ تفہیم کی راہ ہموار کرنے میں ان کے کام نے اہم کردار ادا کیا۔ پاسچر کی تحقیقات اور خدمات کے اعتراف میں پیرس میں پاسچر انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا، جس میں مختلف بیماریوں کے ٹیکے تیار کیے جاتے ہیں۔

دودھ کو گرم کرکے بیکٹیریا سے محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی پاسچر کا ایک کارنامہ ہے۔ انہوں نے ایک ایسا عمل ایجاد کیا جہاں بیکٹیریا کو اُبلتے ہوئے اور پھر ٹھنڈے مائع کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے۔ انہوں نے پہلا ٹیسٹ 20 اپریل 1862ء کو مکمل کیا۔ آج اس عمل کو پاسچرائزیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔

1865ء میں پاسچر نے ریشم کی صنعت کو بچانے میں مدد کی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جرثومے ریشمی کیڑے کے صحت مند انڈوں پر حملہ کرتے ہیں، جس سے ایک نامعلوم بیماری پیدا ہوتی ہے۔ پاسچر نے ان جراثیم کو روکنےکا ایک طریقہ تیار کیا اور جلد ہی اس طریقہ کار کو پوری دنیا میں ریشم پیدا کرنے والے افراد نے استعمال کیا۔ 

عظیم ماہر حیاتیات 72سال کی عمر میں 27 دسمبر 1822ء کو داغ مفارقت دے گئے۔ آج بھی انہیں بیماریوں کی وجوہات اور روک تھام میں نمایاں پیش رفت کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ ان کی دریافتوں نے بہت ساری زندگیاں بچائیں۔