آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وزیراعظم عمران خان میں ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ اسلام کی کھل کر بات کرتے ہیں اور دوسرے کئی سیاسی رہنماؤں کے برعکس کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔ چاہے دنیا کے کسی گوشہ میں ہوں، وہ درست طور پر اسلام کو ایک فخر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس پر بہت سے لوگ اُن پر تنقید کرتے ہیں اور خان صاحب کے ماضی کا حوالہ دیتے ہیں، جو میری نظر میں درست نہیں۔

دِلوں کے حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس لئے یہ مناسب نہیں کہ کوئی اسلام کی بات کرے تو ہم اُسے یہ کہہ کر رد کر دیں کہ اس کا ماضی ٹھیک نہیں تھا۔ ہاں بحیثیت وزیراعظم خان صاحب پر اِس بارے میں ضرور تنقید ہو سکتی ہے کہ اسلام کا نام لیتے ہوئے وہ سودی نظام کے خاتمہ کے لئے کوئی کام کیوں نہیں کر رہے بلکہ اُلٹا نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم کے لئے سودی قرضوں کا اعلان کیا، جو بہت بڑے گناہ کی بات ہے۔

مجھے بہرحال اس بات کی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ خان صاحب پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانیت سے بہت پریشان ہیں اور اس بارے میں وہ اب کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طریقہ سے اس گندگی کو نہ صرف مزید پھیلنے سے روکا جائے بلکہ اس پر قابو بھی پایا جائے۔

عمران خان کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ وہ اس بات پر پریشان ہیں کہ میڈیا اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی سے ہماری دینی و معاشرتی اقدار تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں، خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے، شرم و حیا کو تار تار کیا جا رہا ہے۔

اس گندگی کو روکنے کے لئے ایک طرف وزیراعظم نے جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں ایسے فلمیںاور ڈرامہ بنائے جائیں جن میں اسلامی تاریخ، مسلمانوں کے ہیروز کو اجاگر کیا جائے، تعمیری انٹرٹینمنٹ مہیا کی جائے، دوسری طرف پی ٹی اے کو بھی وزیراعظم نے اپنی اس پریشانی سے آگاہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلائے جانے والے فحش مواد سے قوم کے نوجوانوں کے کردار کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ پاکستان کے آئین اور قانون پر سختی سے عمل کرتے ہوئے اس گندگی کو روکا جائے۔ ابھی تک مجھے اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ آیا وزیراعظم نے پیمرا کو بھی ایسی ہدایات جارہی کیں ہیں یا نہیں کیوںکہ فحاشی و عریانیت اور گندے اور بےہودہ ڈراموں اور اشتہارات کو روکنے کے لئے پیمرا کا بہت کلیدی کردار ہے، جو وہ ابھی تک ادا کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔ پیمرا جہاں چاہتا ہے وہاں تو فوری ٹی وی چینل تک کو بند کر دیتا ہے، اُس کا لائسنس تک کینسل کر دیتا ہے لیکن فحاشی و عریانی پھیلانے والوں میں سے کسی ایک چینل کو بھی بند کرنے سے قاصر ہے، گھٹیا ڈرامے بھی چل رہے ہیں اور ایسے اشتہارات بھی جن میں خواتین کو کم لباس پہنا کر مختلف اشیاء کی مارکٹنگ کی جاتی ہے۔

ہمارے ملک میں ریپ کے کیسز میں بہت اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری وجوہات کے علاوہ فحاشی و عریانی بھی اس جرم کے اضافہ کی ایک اہم وجہ ہے۔ ریپ اور دوسرے خطرناک جرائم میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے مخالفین کا سارا زور اس بات ہے کہ مغربی ممالک کی طرح کریمنل جسٹس سسٹم ٹھیک کر لیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ امریکہ، برطانیہ، یورپ، سویڈن، ناروے اور دوسرے کئی ممالک کا کریمنل جسٹس سسٹم تو بہت زبردست ہے، اُن معاشروں زنا کو بھی بُرا نہیں سمجھا جاتا اور کوئی بھی عورت یا مرد جس سے چاہے جنسی تعلقات قائم کر لے، یہاں تک کہ مرد مردوں سے اور عورت عورتوں سے جنسی تعلق قائم کر سکتی ہے لیکن اس کے باوجود ان تمام ممالک میں کسی بھی مسلمان ملک سے زیادہ ریپ کیس ہوتے ہیں۔

وہاں بھی اصل ریپ کیسوں کی بہت کم تعداد رپورٹ ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی 2013کی ایک رپورٹ (UN Crime Trend Statistics 2013)کے مطابق برطانیہ، امریکہ، برازیل، فرانس، میکسیکو میں سب سے زیادہ ریپ کیس ہوئے۔ گزشتہ ہفتہ میں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2019کی ایک رپورٹ شائع کی جس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ فن لینڈ، سویڈن، ناروے اور ڈنمارک میں عورتوں کے ساتھ زیادتی کے کیسوں میں بےپناہ اضافہ ہو گیا ہے اور صرف فن لینڈ میں ایک سال میں کوئی پچاس ہزار خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان ممالک میں بھی ریپ کیس بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں اور سزائیں بھی بہت کم ملتی ہے۔ ان رپورٹس کو پڑھ کر ایک بات کو صاف سمجھ آتی ہے کہ جو علاج ہماری این جی اوز اور مغرب سے مرعوب طبقہ ہمیں بتا رہا ہے وہ کوئی حل نہیں۔ کریمنل جسٹس سسٹم کو ضرور درست کریں لیکن ہمیں ایک طرف معاشرہ کی کردار سازی کرنی ہوگی تو دوسری طرف فحاشی و عریانیت کے سیلاب کو روکنا ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ جو درندے عورتوں بچوں کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کرتے ہیں، اُنہیں نشانِ عبرت بنانے کے لئے سرعام پھانسی دینا ہوگی جس سے ان جرائم میں فوری کمی واقع ہوگی، اس کی دنیا اور تاریخ میں مثالیں موجود ہیں۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)