آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اپوزیشنAPC, کیا حکومت مخالف تحریک شروع کر پائے گی؟

اپوزیشنAPC, کیا حکومت مخالف تحریک شروع کر پائے گی؟ 


کراچی (ٹی وی رپورٹ):اپوزیشن کی اے پی سی کیا حکومت مخالف تحریک شروع کر پائے گی ؟اس حوالے سے رکن قومی اسمبلی پیپلز پارٹی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے جیو کے پروگرام جیو پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انکا کہناتھا کہ مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمانی روایت کو پامال کیا گیا، صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہیں، وزیراعظم لیڈر آف دی ہاؤس ہیں جبکہ اسپیکر اسکے کوسٹورین ہیں تینوں اس وقت مجرم ہیں تینوں نے آئین شکنی کی ہیں، مشترکہ اجلاس کے موقع پر غیر حاضر رہنے والے ممبران سے پوچھ پوچھ کچھ کرینگے، ڈاکٹر اشوک کمار نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ اے پی سی کی جنگ نہیں لڑ رہے۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ غیر حاضر ممبران سے پوچھ گچھ کرینگے اور جب تفصیلات آئیں گی تو کئی وجہ سامنے آئیں گی ، پہلی وجہ کورونا کی تھی ایک ہماری جماعت اسپتال میں تھی ایک کے بھائی کی موت ہوگئی ہر کوئی اپنی اپنی پارٹی کے حوالے سے معلومات لے گا۔ حکومتی بنچزنے جس طرح پارلیمانی روایات کو خراب کیا اسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ قانون سازی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کیلئے اسپیکر نے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا اس پر اسپیکر کو کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔

اس پر اسپیکر کی خلاف ایک لمبا چارج شیٹ آسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میںاے پی سی کا ہونا ہی کامیابی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کونسی چیزیں سامنے آتی ہیں۔

اے پی سی کا ہونا ہی ایک کامیابی ہے جو تین سب سے ضروری آئینی عہدے ہیں پارلیمنٹ کے ایک صدر کا ہے جو پارلیمنٹ کا حصہ ہے وزیراعظم جو لیڈر آف دی ہاوٴس ہے اور اسپیکر ہے وہ کوسٹورین ہیں تینوں اس وقت مجرم ہیں تینوں نے آئین شکنی کی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید