آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وفاقی کابینہ نے اپنے منگل کے روز منعقدہ اجلاس میں جان بچانے والی 94دوائوں کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد ان دوائوں کی بازار میں دستیابی یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔ یہ اضافہ شدہ قیمتیں 30؍جون 2021تک منجمد رہیں گی۔ کابینہ نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو لگائے جانے والے انجکشن ریمڈی سیور (Remdesivir 100mg) کی قیمت 10,873سے کم کرکے 8244روپے کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جبکہ اینٹی کینسر، کارڈیک ڈرگز اور زندگی بچانے والی دیگر ادویہ کی درآمدات کو بعض شرائط کے تحت پابندی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خاں کی زیر صدارت منعقدہ مذکورہ اجلاس میں توانائی بحران، گردشی قرضوں اور اینٹی ریپ بل سمیت کئی دیگر امور پر بھی اہم فیصلے کئے گئے۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ جن دوائوں کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، ان کے نرخوں میں عشروں سے اضافہ نہ ہونے کے باعث مارکیٹ میں قلت پیدا ہو گئی تھی، دوا ساز کمپنیوں کا موقف تھا کہ ان دوائوں کی تیاری کے باعث کمپنیوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایسی صورتحال تھی جس کے باعث مریضوں کو مہنگی اسمگل شدہ دوائیں خریدنا پڑ رہی تھیں۔ ڈاکٹر فیصل سلطان کا بطور مثال یہ کہنا

تھا کہ کسی دوا کی قیمت اگر دس روپے تھی اور ہم نے بڑھا کر 15روپے کردی تو بظاہر اس کی قیمت میں 50فیصد اضافہ ہوا مگر اس طرح ہم اپنے لوگوں کو اسی قسم کی اسمگل شدہ دوا 300روپے یا اس سے بھی زائد نرخ پر خریدنے سے بچالیں گے۔ معاون خصوصی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابینہ نے ادویہ کی قیمتیں مناسب سطح پر لانے کی حکمت عملی منظور کرلی ہے۔ یہاں یہ سوال ضرور سامنے آتا ہے کہ وطن عزیز میں کیا ایسا کوئی میکنزم تاحال قائم نہیں کیا جا سکا جس کے تحت ادویہ کی قیمتوں پر ہر زاویے سے نظر رکھی جائے اور مریضوں کو دوائوں کی مصنوعی یا حقیقی قلت سے یقینی طور پر بچایا جا سکے۔ وفاقی کابینہ نے ادویات کی قیمتیں مناسب سطح پر رکھنے کا جو پالیسی فیصلہ کیا، اس سے یہ امکان ضرور پیدا ہوا ہے کہ لوگوں کو زندگی بچانے کے لئے ضروری دوائیں چور بازار سے بہزار دقت خریدنے کی زحمت سے بچایا جا سکے گا جبکہ یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ اسمگل شدہ دوا کے طور پر جو کچھ چور بازار میں مہنگے داموں فراہم کیا جارہا ہے، وہ مریض کے لئے حقیقی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگا۔ عام دوائوں کی مصنوعی قلت کے باعث مریضوں اور ان کے عزیزوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے، مذکورہ پالیسی فیصلے سے ان میں کمی کی بھی امید کی جا سکتی ہے۔ یہ سوال بہرطور جواب طلب ہے کہ انتہائی اہم ضرورت کی دوائیں مارکیٹ میں برسوں سے قلت کی شکار تھیں تو ان کی دستیابی یقینی بنانے کے لئے اس عرصے میں کیا اقدامات کئے گئے اور موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھی دو سال تک اس باب میں غفلت کیوں برتی گئی۔ اس ضمن میں دوا ساز کمپنیوں کی کارکردگی اور بالخصوص جان بچانے والی دوائوں کی دستیابی یقینی بنانے کے اقدامات پر توجہ دی جانی چاہئے۔ بعض دوائیں تو آتی ہی بیرون ملک سے ہیں یا بیرونی کمپنیوں کے لائسنس پر بنائی جاتی ہیں۔ ایسی بیرونی کمپنیوں سے دوائوں کی بروقت ترسیل یا اندرون ملک مینوفیکچرنگ کے حوالے سے رابطوں اور معاہدوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کورونا وباء کے حوالے سے پاکستانیوں کے لئے یہ بات خوش آئند ہے کہ اس کے لئے دوست ملک چین کی تیارہ کردہ ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کا تیسرا مرحلہ وطن عزیز میں باقاعدہ شروع ہو چکا ہے۔ اس ویکسین کی کامیابی دنیا بھر میں کورونا کے علاج میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی اور پاکستان کے لئے نئی راہیں کھولنے کا سبب بنے گی۔