آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا کے اثرات کا تعلق بلڈ گروپ سے ممکن ہے؟

پوری دنیا میں پھیلی وبا کورونا وائرس کی ویکسین اور دوا تیار کرنے کے لیے ہر ملک کے ماہرین تحقیقات کرنے میں سر گرداں ہیں۔ حال ہی میں جرمنی اور ناروے کے سائنس دانوں نے مطالعے کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ خون کے بعض گروپ کے حامل افراد کے لیے کوویڈ 19 زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔سائنس دان یہ خیال کافی عرصے سے ظاہر کر رہے ہیں کہ جینیاتی عوامل کورونا وائرس سے بچنے میں اہم اکردار ادا کرسکتے ہیں۔

اوسلوکے یونیورسٹی اسپتال سے تعلق رکھنے والے محقق ٹام کارلسن اور جرمنی کی یو نیورسٹی آف کیل کے محقق آندرے فرانکے کی سر براہی میں ہونے والی تحقیق کے دوران 1610 ایسے مریضوں کے بارے میں طبی معلومات جمع کی گئی جو کورونا وائرس کے مرض میں مبتلا ہوچکے تھے اور ان مریضوں کا علاج اسپین اور اٹلی کے اسپتالوں میں کیا گیا۔

محققین کو طبی ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ A+ بلڈ گروپ رکھنے والوں میں کوویڈ 19میں مبتلا ہونے کی صورت میں سانس کی تکلیف زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے جبکہ دیگر بلڈ گروپ کے حامل افراد اس وائرس کے خلاف بہتر قوت مدافعت رکھتے ہیں۔

چینی ماہرین کی طرف سے کیے جانے والے مطالعے کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے اوسط سے زیادہ افراد کی تعداد ایسی تھی جن کے خون کا گروپ A تھا۔

اسی طر ح انہوں نے دیگر گروپ کے خون کے حامل افراد میں اس بیماری کے خلاف بہتر قوت مدافعت نوٹ کی تھی اور ان میں ملیریا ہونے کے امکانات بھی انتہائی کم ہوتے ہیں جبکہ گروپ A کے حامل افراد میں طاعون کے خلاف نسبتاً زیادہ قوت مدافعت موجود ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 کروڑ 21 لاکھ 933 تک جا پہنچی ہے جبکہ اس موذی وائرس سے ہلاکتیں 9 لاکھ 82 ہزار 20 ہو گئیں۔

صحت سے مزید