آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

غیرظاہری علامات والے بچے اور کووڈ-19کے خطرات

کووڈ-19لاک ڈاؤن کے بعد 15ستمبر سے پاکستان میں تعلیمی ادارے، تمام تر حفاظتی اقدامات کے ساتھ مرحلہ وار کھولنے کا آغاز ہوچکا ہے۔ آخری مرحلے میں 30ستمبر سے نرسری تا پرائمری اسکول بھی کھول دیے جائیں گے۔

حفاظتی اقدامات کے باوجود کووڈ19-کے ماحول میں تعلیمی ادارےکھولنا ایک مشکل فیصلہ تھا کیونکہ تعلیمی اداروں میں حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد ہونا، اس سے بھی زیادہ مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔

ایسے میں ایک نئی تحقیقی رپورٹ نے والدین اور تعلیمی اداروں میں خوف کی لہر پیدا کر دی ہے۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کئی بچوں بالخصوص کم سن طلبا میں مہلک بیماری کووڈ 19- کی علامات بظاہر سامنے نہیں آتیں لیکن کورونا وائرس مسلسل ان کے اندر موجود ہوتا ہے۔ اسکولوں کے دوبارہ کھولے جانے کے بعد سامنے آنے والی اس رپورٹ نے مختلف ملکوں کے حکومتی حلقوں کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ رپورٹ کی گونج، امریکا سے لے کر یورپ تک، دنیا کے ہر ملک میں سنی گئی ہے۔

یہ تحقیقی رپورٹ، امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے چلڈرنز نیشنل ہسپتال کی دو خواتین ڈاکٹروں نے مرتب کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ظاہری علامات سامنے نہ آنے کے باوجود کورونا وائرس کے حامل بچے، دوسروں میں اس بیماری کی منتقلی کا یقینی سبب بن سکتے ہیں۔ اس تحقیقی رپورٹ سے عام تاثر یہ لیا گیا ہے کہ کووڈ 19- بیماری کی انتہائی معمولی علامات والے بچے، دوسرے لوگوں یا ہم جماعت طالب علموں میں اس مرض کے شدید انداز میں پیدا ہونے کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس سے قبل، امریکی شہر بوسٹن میں کی جانے والی ایک اور تحقیقی رپورٹ میں بیان کیا گیا تھا کہ بچے اور نوجوان کورونا وائرس کی ایک بڑی مقدار کے ساتھ بغیر علیل ہوئے گھومتے پھرتے ہیں۔ امریکی دارالحکومت کے چلڈرنز نیشنل ہسپتال کی یہ تحقیقی رپورٹ گزشتہ ماہ کے اواخر میں سامنے آئی ہے، جسے بین الاقوامی معروف تحقیقی جرنل، جے اے ایم اے پیڈیاٹرکس نے شائع کیا ہے۔ اس تحقیق کی سربراہی رابرٹا ایل ڈیبیاسی اور میگھن ڈیلینی نے کی۔ انہوں نے جنوبی کوریا کے بائیس ہسپتالوں سے اعدادوشمار جمع کئے تھے۔

ایک محقق، رابرٹا ڈیبیاسی کا کہنا ہے کہ امریکا کے مقابلے میں جنوبی کوریا میں کورونا وائرس سے بیمار ہونے والے بچوں کو اس وقت تک ہسپتال میں رکھا جاتا ہے، جب تک ان میں سے وائرس کا مکمل خاتمہ اور انفیکشن سے پوری طرح نجات نہیں مل جاتی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جنوبی کوریا میں اس وائرس سے بیمار ہونے والے بچوں کی ہسپتال میں داخل رہنے کی مدت بھی مختلف ہے۔ وہاں ایسے بچے تین دن سے تین ہفتے تک انفیکشن کی وجہ سے ہسپتال میں رکھے گئے۔

تاہم، محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاملے میں ابھی مزید تحقیق کی بہت ضرورت ہے۔ بوسٹن اور واشنگٹن کی تحقیق میں بچوں اور نوجوانوں کو کورونا وائرس کی نئی قسم کے پھیلاؤ کے ’سُپراسپریڈر‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد، یہ تو روزِ روشن کی طرح واضح ہو گیا ہے کہ کئی بچوں یا نوجوانوں میں کووڈ19- بیماری کی ظاہری علامات کا نشان بھی نہیں ملتا، وہ بالکل بیمار نہیں دکھائی دیتے اور معمول کی سرگرمیوں یعنی اسپورٹس کے ساتھ اچھل کود بھی کرتے پھرتے ہیں۔

اس تناظر میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ والدین یا خاندان کے بزرگ افراد بچوں کے کووڈ19- میں مبتلا ہونے کی بات کو قطعاً پسند نہیں کرتے کیونکہ اس میں ہلاکت کا بھی تذکرہ شامل ہو جاتا ہے۔ والدین کسی بھی طور اپنے بچوں کے حوالے سے ایسی بات پسند نہیں کرتے۔ یہ بھی اہم ہے کہ بچے اپنے سماجی رویوں میں بڑوں سے زیادہ فعال ہوتے ہیں۔ وہ اس فعالیت میں ہدایات کے باوجود سماجی فاصلے اور حفظان صحت کے بنیادی اصولوں کو بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ان کو گھر لوٹنے پر مسلسل ہاتھ دھونے کی تاکید کی جاتی ہے اور ایسا نہ کیا جائے تو وہ ہاتھ دھونے کو اہمیت ہی نہیں دیتے۔

حفاظتی اقدامات کی اہمیت

دنیا کے کئی ممالک نے حفاظتی اقدامات کے ساتھ تعلیمی ادارے کھولنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے، ایسے ملکوں میں تھائی لینڈ بھی شامل ہے۔ بنکاک کے واٹ خلونگ توئی اسکول میں پڑھنے والے تقریبا 250 طلبا، کلاس کے دوران پلاسٹک کے ڈبوں میں بیٹھتے ہیں اور انہیں پورا دن اپنے چہرے پر ماسک بھی پہننا پڑتا ہے۔ ہر کلاس روم کے باہر صابن اور پانی رکھا جاتا ہے۔ جب طلبا صبح اسکول پہنچتے ہیں تو ان کا جسمانی درجہ حرارت بھی چیک کیا جاتا ہے۔ اسکول میں جولائی کے بعد سے انفیکشن کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ 

تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی ملک میں کورونا کے ایک بار خاتمے کے بعد بھی اس بات کے خدشات باقی رہتے ہیں کہ وہاں پھر سے کورونا وائرس سر اُٹھالے، جیسے نیوزی لینڈ۔ ایک طرف دارالحکومت ویلنگٹن کے طلبا جہاں خوش ہیں کہ وہ اب اسکول جا سکتے ہیں، وہاں آکلینڈ میں رہنے والے طلبا اتنے خوش قسمت نہیں۔ 

تین ماہ تک وائرس سے پاک رہنے کے بعد نیوزی لینڈ میں 11 اگست کو ملک کے سب سے بڑے شہر آکلینڈ میں چار نئے کیسز سامنے آئے، جس کے بعد طبی حکام کی جانب سے شہر کے تمام اسکولوں اور غیر ضروری کاروبار کو بند رکھنے اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کا حکم جاری کرنا پڑا۔