آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یورپی یونین ٹیکنالوجی کے جائنٹس کو سزا دینے کیلئے نئے اختیارات کی خواہشمند

برسلز: جیویر ایسپینوزا،

سیم فلیمنگ

یورپی یونین بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پکڑنے کے لئے اپنے آپ کو نئے اختیارات کے ساتھ مسلح کرنا چاہتی ہے،جس میں اگر ان کا مارکیٹ پر غلبہ صارفین کے مفادات اور چھوٹے حریفوں کے لئے خطرہ سمجھا جائے تو انہیں ان کے کچھ یورپی آپریشن سے الگ ہونے یا فروخت کرنے پر مجبور کرنے کی اہلیت بھی شامل ہے۔

یورپی یونین کے کمشنر تھیری بریٹن نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ مجوزہ تدارک، جو ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف انتہائی حالات میں استعمال ہوگا ، اس میں بڑے ٹیک گروپوں کو واحد مارکیٹ سے مکمل طور پر خارج کرنے کی اہلیت بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ برسلز ایک درجہ بندی کے نظام پر غور کررہا ہے جس سے عوام اور اسٹیک ہولڈرز ٹیکس کی تعمیل اور جس رفتار سے وہ غیرقانونی مواد کو ہٹاتے ہیں جیسے شعبوں میں کمپنیوں کے طرزعمل کا جائزہ لیں گے۔

تھیری بریٹن جو بلاک میں ڈیجیٹل قواعد کی بحالی کے عمل کی سربراہی کررہے ہیں ، نے کہا کہ ان پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے والے حتمی صارفین میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ یہ دیکھ بھال کرنے کے حوالے سے کافی بڑے ہیں۔کچھ شرائط کے تحت ہمارے پاس ساختی علیحدگی عائد کرنے کا بھی اختیار ہوسکتا ہے۔

یورپی یونین کے آئندہ ڈیجیٹل سروسز ایکٹ،جو آن لائن غیر قانونی مواد اور نامعلوم معلومات سے نمٹنے میں پلیٹ فارم کی ذمہ داریوں پر نئے اصول مرتب کرے گا، پر عوامی مشاورت کے بعد انہوں نے تبصرہ کیا۔

2000ء میں ان شعبوں میںجب زیادہ تر غالب کھلاڑی اپنے عہد طفولیت یا وجود نہیں رکھتے تھے،میں اختیار کی گئیں ڈی ایس اے ای کامرس ہدایات کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر کہیں اور سے بھی ریگیولیٹرز کا دباؤ ہے۔برطانیہ میں نئے نگران عدالتی عمل سے گزرے بغیر جرمانے عائد کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، جیسا کہ فی الحال معاملہ ہے۔اور امریکا میں ایمیزون کے جیف بیزوس اور فیس بک کے مارک زکربرگ سمیت ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بانی کانگریس کے ارکان کوقائل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ اپنی ڈیجیٹل ایمپائرز کی تعمیر کے دوران وہ مفادات سے بالاتر ہوکر کارفرما تھے۔

آزاد محققین کے ذریعہ پیدا ہونے والے خدشات کہ جو رضاکارانہ انکشاف گروپ کرتے ہیں وہ اکثر گمراہ کن یا جزوی ہوتے ہیں ،کے بعد یورپی یونین کی نئی قانون سازی سے ، کمپنیوں کے صارفین کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لینےکے لئے برسلز کے اختیارات میں اضافہ ہوگا۔

تھیری بریٹن نے اس بات کی تصدیق کی کہ یورپی یونین اپنے پلیٹ فارم پر شائع کردہ مواد کے لئے لمیٹڈ لائیبلٹی کمپنیوں کو نہیں ہٹائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لائبیلٹی سے استثنیٰ کی محفوظ پناہ گاہ برقرار رہے گی، یہ وہ چیز ہے جسے ہر ایک نے قبول کیا ہے۔

تاہم برسلز میں ریگیولیٹرز ان سرگرمیوں کی بلیک لسٹ تیار کررہے ہیں، جن کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دبانے کے لئے ضرورت پڑے گی۔

وہ عدم تعمیل، قانون کے مطابق نہ ہونے اور کچھ آپریشن سے علیحدہ کاموں سمیت دیگر صورتوں میں گھٹنے بڑھنے والے جرمانوں کی شرح کی تجویز دے رہے ہیں۔تھیری بریٹن نے کہا کہ قانون سازی کا سال کے آخر تک تیار ہوجائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی سرگرمیاں جن پر سخت پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں ان میں وہ کمپنیاں شامل ہیں جو صارفین کو پلیٹ فارم سوئچ کرنے سے روکتی ہیں یا صارفین کو صرف ایک خدمت استعمال کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔

تھیری بریٹن نے بڑے پلیٹ فارمز کی طاقت کا مالی بحران سے قبل کے بینکوں سے کیا اور کہا کہ انضمام کے لئے ریگیولیٹرز کو آج انہیں لگام ڈالنے کے لئے اسی طرح کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بالکل اسی طرح کہ چھوٹے اور بڑے بینکوں کے لئے آپ کے پاس ایک جیسے اصول نہیں ہیں۔آپ کے پاس چھوٹے کھلاڑیوں کے لئے زیادہ لچک ہوتی ہے اور ظاہر ہے جب آپ سسٹمک [بینک] بن جاتے ہیں تو آپ کے پاس [مختلف] قواعد موجود ہیں۔

تھیری بریٹن نے کہا کہ نگرانی کا نیا نظام قومی حکومتوں اور یورپی یونین کے مابین مشترکہ کوششوں پر مبنی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ان بڑے پلیٹ فارمز کے لئے بہتر نگرانی کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمیں مالیاتی بحران کے بعد بینکاری نظام میں دوبارہ عملدرآمد کرنا پڑا۔

تجاویز کو حتمی شکل دی جارہی ہے ، اور ایک بار ان پر اتفاق ہوجانے کے بعد انہیں یورپی پارلیمنٹ اور یورپی کونسل سے گزارا جائے گا۔

یوروپی یونین کے ایک عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ برسلز کو صحیح توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ عہدیدار نے کہا کہ زیادہ جوشیلے ہونے سے بھی بیک فائر ہوسکتا ہے اور آپ خود اپنے ہی گول میں گول اسکور کر سکتے ہیں۔دوسری جانب خواہش کے بہت کم ہونے سے بگ ٹیک کے بارے میں خدشات دور نہیں کریں گے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید