آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

افریقی ممالک دنیا کیلئے ایک بار پھر اپنے دروازے کھولنے کے لئے تیار

لندن: ڈیوڈ پلنگ

نیروبی: انڈرس شیفانی

جوہانسبرگ: جوزف کوٹرل

وبائی مرض کے دوران افریقہ کے سب سے بڑے فیلڈاسپتال میں تبدیل کیے جانے والے کیپ ٹاؤن کے انٹرنیشنل کنونشن سینٹر نے تقریبات کی بکنگ شروع کردی ہے، اگرچہ ہر ایک کو سماجی فاصلے برقرار رکھنا ضروری ہے۔ نائیجریا کا کاروباری دارالحکومت لاگوس پیر سے اسکول دوبارہ کھولنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ اور گھانا میں ، جہاں آکرا بین الاقوامی ہوائی اڈہ رواں ماہ کے آغاز سے کھل چکا ہے، بارز، ریسٹورنٹ اور عبادت گاہیں آہستہ آہستہ معمول کی جانب واپس آرہی ہیں۔

انفیکشن اور اموات کی شرح میں کمی یا سطح نیچے جانے سے مجموعی طور پر ا فریقہ بھر کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے،ممالک وبائی مرض سے دوچار معیشتوں کی بحالی کی امید پر عارضی طور پر کھل رہے ہیں۔ایک ملک سے دوسرے ملک کے مقابلے میں نمایاں تغیرات کے ساتھ اسکول دوبارہ کھل رہے ہیں، کرفیو اور سفری پابندیاں ختم ہورہی ہیں اور مارکیٹیں پوری صلاحیت کے ساتھ واپس کھل رہی ہیں۔

معیشت پر لاک ڈاؤن کے شدید اثرات سے حکام پر روزگار دوبارہ کھولنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے، بالخصوص غیر رسمی ملازمین کے لئے جنہیں روزگار کی خاطر قسمت آزمائی کے لئے روزانہ کی بنیاد پر باہر نکلنا ضروری ہے۔تاہم بڑھتے ہوئے شواہد کی بناء پر ان کی حوصلہ افزائی بھی ہورہی ہے کہ کووڈ19 افریقہ میں اتنا مہلک نہیں تھا جتنےدرحقیقت خدشات ظاہر کیے جارہے تھے۔

براعظم ،جہاں دنیا کی آبادی کا 17 فیصد حصہ آباد ہے، کووڈ 19 سے مجموعی طور پر33430 یا عالمی سطح کی تقریباََ 3.5 فیصد اموات ریکارڈ کی گئیں۔مرکز برائے امراض کنٹرول اور روک تھام کے ڈائریکٹر جان نکنگسانگ نے کہا کہ حتیٰ کہ اگر اصل تعداد سے اسے کم بھی سمجھا جائے تو افریقہ میں نئے انفیکشن کی سطح بتدریج نیچے کی جانب آرہی ہے۔

جنوبی افریقہ میں جہاں پورے براعظم افریقہ کی نصف تعداد 6 لاکھ 50 ہزار کووڈ19 کے کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں،دو ماہ قبل ایک دن میں 12 ہزار کیسز کی بلند سطح کے مقابلے میں فی دن 2 ہزار سے کم ہوگئی ہے۔سرکاری طور پر روزانہ اموات کی تعداد 15722 سے کم ہوکر ایک دن میں 100 اموات سے بھی کم ہوگئی ہیں۔

سخت لاک ڈاؤن جو جو جون سے تین ماہ میں 16 فیصد معاشی سکڑاؤ کا باعث بنا، کے بعد جنوبی افریقہ پہلی بار بین الاقوامی ٹریفک روکنے کے چھ ماہ بعد اکتوبر سے اپنی سرحدیں دوبارہ کھول دےگا۔ ٹیلی ویژن نشریات میں صدر سرل رامافوسا نے کہا کہ ہم دنیا کے لئے اپنے دروازے دوبارہ کھولنے کے لئے تیار ہیں۔

شراب کی فروخت پر عائد سخت پابندیوں کو کم کیا جارہا ہے اور کھیل کے میدانوں میں جانے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔جنوبی افریقہ کے ایک سیاحتی بورڈ کی ٹیگ لائن ہے ’’ہم نے آپ کو رکنے کے لئے کہا تھا، اب آؤ اور کھیلو، اس کے باوجود لوگوں کو ماسک پہننے کی تاکید کی گئی ہے۔

جنوبی افریقہ جانے والے مسافروں کو روانگی سے 72 گھنٹوں سے بھی پہلے کووڈ19 کا منفی ٹیسٹ ہونا ضروری ہے، اسی طرح کینیا اور دیگر ممالک کیلئے بھی ضروری ہے۔جنوبی افریقہ کے عارضی طور پر دوبارہ کھل جانے کے باوجود معاشی اثرات شدید رہنے کی توقع ہے، جبکہ کچھ معاشی ماہرین نے پیشن گوئی کی ہے کہ بے روزگاری کی شرح 30 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد تک پھیل سکتی ہے۔

افریقہ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک نائیجریا معاشی طور پر بری طرح متاثر ہوا ہے، اس کی بڑی وجہ تیل کی قیمتوںمیں کمی ہے،جو اس کی برآمدات کی آمدنی کا 90 فیصد ہے۔ماہرین معاشیات دہائیوں میں بدترین کساد بازاری کی پیشن گوئی کررہے ہیں۔

اس کے باوجود اس کی 200 ملین آبادی پر صحت کے اثر کم شدید ہی رہے ہیں،انفیکشن سے متاثرہ 48 ہزار افراد میں سے 11 گیارہ سو افراد کی کووڈ19 سے موت واقع ہوئی۔لاگوس میں اسٹور اور ریستوراں میں درجہ حرارت کا ٹیسٹ اور ماسک پہننے کی پابندی کا اطلاق ہورہا ہے ، مارکیٹوں میں سرگرمی نظر ٓرہی ہے، اور یلو پبلک ٹرانسپورٹ کی منی بسیں لوگوں سے بھری ہوئی ہیں۔

لاگوس کے گورنر باباجیڈسانو اولو نے ٹوئٹ میں متنبہ کیا ہے کہ بتدریج نرمی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وبائی مرض ختم ہوگیا ہے۔ یہ لاپروائی یا عدم دلچسپی کی دعوت نہیں ہے۔

کینیا میں جہاں انفیکشن میں بھی کمی آرہی ہے، حکومت آئندہ ماہ تک اسکولوں کو تیزی سے کھولنے پر غور کررہی ہے، جو پہلے جنوری کے آغاز میں کھولنے کا منصوبہ تھا۔

نیروبی کی سب سے بڑی کچی آبادی کیبرا میں 13 سالہ طالب علم لاریان اوٹینو نے کہا کہ میں اسکول جانا چاہتا ہوں، مجھے اسکول پسند ہیں۔ میں تمام احتیاطی تدابیر اختیار کروں گا، میں ماسک پہنوں گا، ہاتھ دھوؤں گا، ہینڈ سینیٹائزر استعمال کروں گا۔

کیبرا میں کمزور جستی دیوار والے ایک نجی اسکول کے ہیڈ ماسٹرجیڈ او مسولہ اسکول دوبارہ کھولنے کے خلاف ہیں، انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں اسکول کھولنا محفوظ نہیں ہے۔جیڈاومسولہ نے بتایا کہ اپریل سے جون کے درمیانی عرصے میں کینیا کے 17 ملین شہری ملازمتوں سے محروم ہوئے، بہت سارے والدین اپنے بچوں کو اپنے ساتھ لے کر اپنے گاؤں واپس چلے گئے تھے۔

کینیا میں زیادہ تر ہوائی اور زمینی رابطے بحال کردیے گئے ہیں،تاہم مارچ سےشراب کی فروخت پر پابندی کے ساتھ ہی خستہ حال مہمان نوازی کی صنعت رات بھر کے کرفیوں میں نرمی کا انتظار کررہی ہے۔

نیروبی میں انسٹیٹیوٹ آف اکنامک افیئرز کے کیمے وامے اوینو نے کہا کہ ودچکا وہیں ہے لیکن تیزی سے بحالی کی توقع ہے۔جو ملک کے مرکزی بینک کی پیشن گوئی کی بازگشت ہے ، جس نے اندازہ لگایا ہے کہ کینیا کی معیشت 2019 کی5.4 فیصد ترقی کے مقابلے میں رواں برس 2.5 فیصد ترقی کرے گی ۔

انویسٹمنٹ بینک رینیسسینز کیپیٹل کے چیف ماہر معاشیات چارلس رابرٹسن نے کہا کہ جنوبی افریقہ اور نائیجریا، انگولا اور گبون جیسے تیل پیدا کرنے والے بڑےممالک کے علاوہ دیگر معیشتیں توقع سے زیادہ تیزی سے دوبارہ پرانی سطح پر آرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سب صحارا افریقہ کے بہت سے ممالک عالمی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کارکردگی کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گھانا، کینیا، روانڈا اور متعدد دیگر ممالک رواں سال ترقی کریں گے۔

چارلس رابرٹسن نے کہا کہ عالمی بینک کی اس پیشن گوئی کے برخلاف کہ ترسیلات زر کم ہوں گے، جب تارکین وطن مزدوروں کی امیر ممالک نے ملازمت ختم کردی، معاشی دھچکے کو دور کرنے کے لئے جب رشتہ داروں نے زیادہ رقم بھجوائی تو وہ اس وقت بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کینیا میں ترسیلات زر میں پانچ گنا اضافہ ہوا۔

ایکرا میں آرٹ بزنس کرنے والی ڈائریکٹر گیلری 1957 وکرا کوک گزشتہ ہفتے گھانا واپس لوٹ آئیں تاکہ چیزوں کو بہتر طریقے سے منظم کرنے کا طریقہ تلاش کریںاور برطانیہ کے مقابلے میں زیادہ مشغول ہوں، جہاں انہوں نے لاک ڈاؤن کا عرصہ گزارا۔انہوں نے بتایا کہ ان کی عدم موجودگی کے دوران اکرا میں تین اعلیٰ سطح کے ریسٹورنٹ کھل گئے اور کیمپسکی ہوٹل ماسک اور سینیٹائزر پر سختی کے باوجود سرکاری وفود کے ساتھ مصروف تھا۔

وکرا کوک ایکرا ایئرپورٹ سے بھی متاثر ہوئیں جہاں آمد پر 20 منٹ میں کووڈ 19 ٹیسٹ ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ متاثر کن ، عمدہ اور تیزرفتار تھا۔

ابھی بھی جب زیادہ تر ممالک دوبارہ کھلنے کی جانب جارہے ہیں تو جنوبی افریقہ کے مسٹر راما فوسہ نے احتیاط کا ایک نوٹ دیتے ہوئے کہا کہ ہم انفیکشن کو نئی قوت دینے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ وائرس کی دوسری لہر تباہ کن ہوگی۔ 

فنانشل ٹائمز سے مزید