آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سورھیہ بادشاہ پر اکیڈمک کام کرنے کی ضرورت ہے، مہتاب اکبر راشدی

کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی آرٹس کونسل میں حر تحریک کے عظیم ہیرو شہید صبغت اللہ شاہ المعروف (شہید سورھیہ بادشاہ)کی جدوجہد اور انگریز سامراج کے مظالم اور حروں کی لازوال قربانیوں پر مبنی پیش کی گئی ڈاکیومینٹری کے موقع پر تقریب میں مطالبہ کیا گیا کہ شہید سورھیہ بادشاہ کی لازوال قربانی پر ان کی یاد میں یادگار پوسٹ کی ٹکٹ اور ملک کا سب سے بڑا اعزاز نشان امتیاز جاری کیا جائے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق ایم پی اے،دانشور مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ ہم اپنے فلسفی اور قومی ہیروز کو کبھی یاد نہیں کرتےہمیں اپنی تاریخ کو سنبھالنے کی ضرورت ہے،پورے سندھ کو حر تحریک کو اپنانا ہوگا،شہید سورھیہ بادشاھ واحد گدی نشین تھے جنہوں نے اپنا سر قربان کیا،سورھیہ بادشاھ پر اکیڈمک کام کرنے کی ضرورت ہے، شاھ لطیف یونیورسٹی کے روزے دھنی چیئر اور سچل سرمست چیئر کے سابق چیئرمین پروفیسر الطاف اثیم نے کہا کہ پیر صاحب کی مزاحمتی تحریک کو کچلنے کے لیے بڑے بڑے حربے استعمال کیے گئے،سورھیہ بادشاہ کا پیغام آزادی کا پیغام

تھا،کراچی آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ شہید سورھیہ بادشاہ کی لازوال قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اور جو قومیں اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہیں وہ تباہ و برباد ہو جاتی ہیں ۔پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے جنرل سیکریٹری سردار عبدالر حیم نے شرکاء سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ہیروز کے بارے میں روشناس کروانے کے لیے نئی نسل کو آگاہ کرنا پڑیگا شہید سورھیہ بادشاہ کو تاریخ  نے ان کا اصل مقام نہیں دیا۔