آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’خواتین اور بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب عناصر عبرت ناک سزا کے مستحق ہیں۔ اُنہیں سرِعام پھانسی دی جانی چاہیے، ایسے افراد کو کیمیائی طریقے یا سرجری کے ذریعے نامرد بنا کر آیندہ ایسے جرم کے قابل نہ چھوڑا جائے۔حکومت بہت جلد جنسی زیادتی کے ملزمان کے لیے سخت سزا کا بِل سامنے لائے گی۔‘‘یہ الفاظ ہیں وزیرِ اعظم، عمران خان کے، جو اُنھوں نے ایک ٹی وی انٹرویو اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران کہے۔

سانحۂ موٹر وے کے بعد ہر طرف اِسی طرح کے جذبات دیکھے گئے، جس سے یہ خوش کُن احساس نمایاں ہوا کہ ہمارا معاشرہ لاکھ برائیوں کے باوجود اب بھی زندہ ہے۔ خاتون کو بچّوں کے سامنے جس انسانیت سوز ظلم کا نشانہ بنایا گیا، اُس پر پورا مُلک سسک اُٹھا۔ کراچی سے خیبر تک، کیا گاؤں اور کیا شہر، ہر دِل گھائل، سراپا احتجاج ہے۔ مُلک کے کونے کونے سے ملزمان کو نشانِ عبرت بنانے کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں تاکہ آیندہ کوئی کسی معصوم، مجبور کے ساتھ زیادتی کی جرأت کرسکے اور نہ کسی کی ماں، بہن، بیٹی کی عصمت تار تار ہو۔تاہم، سوال یہ ہے کہ معاشرے کے ان ناسوروں کے ساتھ ایسا کیا کیا جائے، جو باقی بیمار ذہنوں کے لیے بھی ایک سبق ہو۔

سخت سزا کی ضرورت کیوں ہے؟

گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں بچّوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں تشویش ناک اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ گو کہ اِس حوالے سے مستند اعداد وشمار دست یاب نہیں کہ بہت سے واقعات میں متاثرہ افراد پولیس سے رجوع ہی نہیں کرتے، تاہم میڈیا میں رپورٹ ہونے والے واقعات کے سرسری جائزے سے پتا چلتا ہے کہ اِس طرح کے واقعات کی تعداد سیکڑوں نہیں، ہزاروں میں ہے۔ 

صُورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ اِس اَمر سے لگایا جا سکتا ہے کہ موٹر وے سانحے کے بعد بھی، جب کہ ہر طرف جنسی درندوں پر لعن طعن ہو رہی ہے، تین درجن کے لگ بھگ جنسی زیادتی کے کیسز سامنے آچُکے ہیں۔گویا حکومتی اعلانات، میڈیا پروگرامز اور معاشرتی ردّ ِعمل کے باوجود ملزمان کو سزا کا کوئی خوف نہیں اور وہ اپنے مکروہ کاموں سے باز نہیں آرہے۔ایسے میں عوام کی جانب سے سخت اور عبرت ناک سزاؤں کا مطالبہ سو فی صد حق بجانب ہے۔

مردانہ صلاحیت سے محرومی

یہ کوئی پہلا موقع نہیں، جب عوام کی جانب سے جنسی زیادتی میں ملوّث افراد کو مردانہ قوّت سے محروم کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ہو۔البتہ اِس بار وزیرِ اعظم نے بھی اِس نوعیت کی سزا کی بات کی، تو اسے زیادہ پیمانے پر پذیرائی ملی۔سانحۂ موٹر وے سے متعلق سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹس میں ایک ٹرینڈ کی سی صُورت حکومت سے اِس سزا کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا۔ اِس ضمن میں وفاقی وزیر، فیصل واوڈا نے اعلان کیا کہ’’ زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کا بِل منظور کروا کے دکھاؤں گا۔‘‘ جسٹس(ر) ناصرہ اقبال نے اِس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا’’ پانچ مجرموں کی مردانگی ختم کردیں، تو گینگ ریپ ختم ہوجائے گا۔‘‘ بعض معروف صحافیوں کی جانب سے بھی اِس سزا کی حمایت کی گئی، جب کہ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق حکومت اپنے مجوّزہ بِل میں اس سزا کو بھی شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

آزاد کشمیر میں رواں برس 3 جون سے نافذ ہونے والے ایک قانون کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے، جس کے مطابق 18 سال سے کم عُمر بچّے یا بچّی سے جنسی زیادتی کے مجرم کو پھانسی یا نامرد کرنے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اِس قانون کے نفاذ کے بعد ایک واقعہ رپورٹ ہوا، جس کے ملزم پر فی الحال مقدمہ چل رہا ہے۔تاہم، اگر مجموعی رائے عامّہ کا جائزہ لیا جائے، تو بیش تر افراد نے اِس تجویز کو جذباتی اور وقتی جوش قرار دیتے ہوئے اس سزا کی حمایت سے گریز کیا ہے۔ 

اُن کا کہنا ہے کہ’’ جنسی مریضوں کو نامرد بنا کر معاشرے میں چھوڑ دینا کسی خطرے سے کم نہیں، کیوں کہ اِس درندگی کا تعلق جسمانی سے زیادہ ذہنی آوارگی سے ہے۔کیوں کہ بہت سی ایسی مثالیں بھی موجود ہیں، جن میں بڑی عُمر کے افراد یا کھسرے بھی جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوّث پائے گئے۔‘‘ اسلامی نظریاتی کاؤنسل کے چیئرمین، ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اِس سزا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا’’ میرے خیال میں ملزم کی سرجری کی سزا درست نہیں کہ شادی شدہ مجرم کو نامرد کرنے کی سزا اُس کی بے گناہ بیوی کو بھی ملے گی۔‘‘جماعتِ اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے نامرد کرنے کی سزا کی مخالفت کی، جب کہ دیگر علمائے کرام کی جانب سے بھی اِس سزا پر سخت تحفّظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

پھانسی پر لٹکا دو

وزیرِ اعظم ، عمران خان نے جنسی زیادتی کے ملزمان کو پھانسی دینے کی بھی بات کی ہے۔ پاکستان میں چند افراد کو چھوڑ کر باقی تمام افراد اِس سزا کے حامی ہیں، گویا اِس پر ایک طرح سے قومی اتفاق پایا جاتا ہے۔ سزا کی مخالفت کرنے والے مغربی قوانین اور روایات کا حوالہ دیتے ہیں، تاہم دنیا کے بہت سے ممالک میں سزائے موت کا قانون موجود ہے اور اس پر عمل درآمد بھی ہوتا ہے۔

اگر موجودہ قوانین کی بات کی جائے، تو اُن میں بھی ریپ کو سنگین ترین جرم گردانتے ہوئے ملوّث افراد کے لیے سزائے موت یا عُمر قید مقرّر کی گئی ہے، جو مقدمے کی نوعیت کے اعتبار سے دی جاتی ہے۔

سرِ عام پھانسی پر آراء تقسیم

وزیرِ اعظم کہتے ہیں’’ جنسی زیادتی کے مجرموں کو سرِ عام پھانسی دینی چاہیے۔‘‘جب کہ یہی بات اسپیکر قومی اسمبلی، اسد قیصر، سینیٹر فیصل جاوید، علی محمد خان سمیت تحریکِ انصاف کے کئی ارکانِ پارلیمان نے بھی کی، البتہ پی ٹی آئی کے تین اہم وفاقی وزراء، فروغ نسیم، فوّاد چوہدری اور شیریں مزاری نے اِس کی کھل کر مخالفت کی۔فوّاد چوہدری نے کہا’’ وزراء اور پڑھے لکھے طبقات کا سرِعام پھانسی کا مطالبہ معاشرے کی متشدّد سوچ کا عکّاس ہے۔‘‘اس ضمن میں شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ اُن کی جماعت، یعنی پاکستان پیپلز پارٹی سرِ عام پھانسی کی مخالف ہے، رضا ربّانی کا بھی یہی مؤقف ہے۔ 

تاہم، رحمٰن ملک نے اِس کے برعکس رائے دی۔ اُن کا کہنا ہے’’ میری جماعت کا اپنا نقطۂ نظر ہے، لیکن میری رائے میں ریپ کی سزا سرِعام پھانسی ہونی چاہیے۔‘‘ چوہدری شجاعت حسین، سراج الحق،، خواجہ آصف، سینیٹر جاوید عباسی، سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر بہت سے سیاسی رہنما بھی جنسی زیادتی میں ملوّث مجرمان کو سرِعام پھانسی دینے کے حامی ہیں۔

البتہ کئی سرکردہ وکلاء نے سرِعام پھانسی کو آئین کے منافی قرار دیا ہے۔ اُن کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ اپنے فیصلوں میں سرِعام پھانسی کو غیرقانونی قرار دے چُکی ہیں،چاہے جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو۔یہی بات وفاقی وزیرِ قانون، فروغ نسیم نے بھی کی ہے۔ اِس ضمن میں اسلامی نظریاتی کاؤنسل کے چیئرمین، ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ’’ قانون میں سنگین جرائم کی سزائیں موجود ہیں اور زیادتی کی سزا موت ہے۔

تاہم، اگر سرِعام پھانسی دینے میں کوئی رکاوٹ ہو، تو جیل کے اندر سزا دے کر میڈیا پر تشہیر کی جاسکتی ہے۔‘‘ مفتی محمّد تقی عثمانی کاکہنا ہے کہ’’ قرآن کریم کے مطابق زانی کو سزا دیتے وقت مومنین کا ایک گروہ وہاں موجود ہو، جو اپنی آنکھوں سے سزا نافذ ہوتے دیکھے تاکہ اُنھیں عبرت حاصل ہو۔اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سزائیں ایسی ہونی چاہئیں، جن سے عوام عبرت حاصل کریں اور اُن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔‘‘واضح رہے، سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں سرِعام سزائیں دینے کا رواج ہے، جسے وہاں کے علماء اور قانونی ماہرین کی حمایت و تائید حاصل ہے۔

باقی دنیا میں کیا ہوتا ہے؟

دنیا میں زنا بالجبر پر مختلف سزائیں مقرّر ہیں۔افغانستان میں ایسے افراد کو سَر میں گولی مار کر ہلاک یا اُنھیں پھانسی دی جاتی ہے۔ ایران، مصر اور چین میں جنسی زیادتی کے ملزمان کے لیے موت کی سزا ہے، جب کہ شمالی کوریا میں ایسے افراد کو گولی سے اُڑا دیا جاتا ہے۔چین میں کیسز کی نوعیت کے لحاظ سے نامرد کرنے کی بھی سزا دی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں عوام کی موجودگی میں سَر قلم کیا جاتا ہے۔ 

بیش تر یورپی ممالک میں قید کی سزا دی جاتی ہے۔روس اور اسرائیل میں بھی سزائے قید کا قانون ہے۔ بھارت میں جنسی زیادتی پر 14 سال قید کی سزا ہے، تاہم 2013ء میں متعارف کروائے گئے ایک قانون کے بعد وہاں گینگ ریپ میں ملوّث افراد کو پھانسی دی جاتی ہے۔ رواں برس 15 مارچ کو دہلی بس کیس کے مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔

دریں اثنا، مدراس ہائی کورٹ نے حکومت کو ہائی پروفائل کیسز میں ملزمان کو نامرد بنانے کی سزا پر غور کا مشورہ دیا ہے۔امریکی ریاست الباما میں جنسی زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کا قانون ہے، جب کہ دیگر 9 ریاستیں بھی اِس جانب پیش قدمی کررہی ہیں۔انڈونیشیا، چیک ری پبلک اور یوکرین میں ملزمان کو سزائے قید کے ساتھ نامرد بنانے کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔

اِس ضمن میں ایک اہم بات یہ ہے کہ بہت سے یورپی اور دیگر ممالک جہاں جنسی زیادتی کے ملزمان کے لیے قید یا موت کی سزا مقرّر ہے، وہاں ملزمان کو مردانہ قوّت سے محرومی کی سزا منتخب کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔پولیس مردانہ طاقت سے محروم کیے جانے والے ملزمان کی عُمر بھر نگرانی کرتی ہے۔نائیجیریا میں ملزمان کو مردانہ صلاحیت سے محروم کرنے کا قانون منظور تو ہوچُکا ہے، مگر ابھی تک اُس پر عمل درآمد شروع نہیں ہوا۔

نئی قانون سازی

مسلم لیگ نون کے سینیٹر جاوید عباسی نے بچّوں سے زیادتی کے ملزمان سے متعلق ایک بِل سینیٹ میں پیش کیا ہے، جس میں ملزمان کو سرِعام پھانسی دینے کی ترمیم شامل کی گئی ہے۔بل میں عُمر قید کے ملزم کو موت تک قید رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جب کہ مقدمات کی سیشن کورٹ کی بجائے ہائی کورٹ میں سماعت کی ترمیم بھی شامل ہے۔مجوّزہ بل میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ زیادتی کے مقدمات کا فیصلہ 2 ماہ میں کرنے کی پابند ہو گی اور اُس کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ میں دائر ہو گی۔ 

بل میں تجویز دی گئی ہے کہ ریپ کے کیسز میں سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔اُدھر لاہور ہائی کورٹ میں خواتین پر جنسی تشدّد اور زیادتی کے قانون میں ترمیم کے لیے نون لیگ کی رُکن قومی اسمبلی، شائستہ پرویز ملک کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال زیادتی کے سیکڑوں واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ 

میڈیکولیگل سرجن اپنی رپورٹ میں متاثرہ فرد کے حوالے سے اکثر منفی کمنٹس دیتے ہیں، جس کا فائدہ ملزمان کو ملتا ہے۔ نیز، طبّی معاینے کا طریقۂ کار بھی فرسودہ اور غیر مناسب ہے۔اِس درخواست کی سماعت 6نومبر کو ہوگی۔دوسری طرف، حکومت بھی جنسی زیادتی کے ملزمان کو سخت سزا دِلوانے کے لیے قانون سازی پر مشاورت کر رہی ہے اور عین ممکن ہے کہ اِن سطور کی اشاعت تک نیا بل پارلیمان میں پیش بھی ہوچُکا ہو۔

سزا کے لیے قانون سازی کافی ہے؟

اِس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جنسی زیادتی میں ملوّث افراد کو سخت ترین سزائیں ملنی چاہئیں، مگر اِس کے لیے محض قانون بنا لینا ہی کافی نہیں، بلکہ قانون سازی کے ساتھ دیگر اہم پہلوؤں پر بھی توجّہ دینی ہوگی۔پولیس، میڈیکل اور عدالتی نظام بہتر بنائے بغیر متاثرہ افراد کو انصاف کی فراہمی اور جرم کی بیخ کُنی ممکن نہیں۔ اِس ضمن میں ایک ایسی عوام دوست پولیس کی ضرورت ہے، جس سے متاثرہ افراد پورے اعتماد کے ساتھ داد رسی کے لیے رابطہ کرسکیں۔ 

نیز، پولیس معیاری تفتیش یقینی بنائے کہ اکثر کیسز میں ناقص تفتیش اور کم زور استغاثے ہی کی بنیاد پر ملزمان کو سزا نہیں ہوپاتی۔ اِسی طرح جنسی زیادتی کے کیسز میں میڈیکل کی بھی بہت اہمیت ہے۔ جہاں اس کا طریقۂ کار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، وہیں علمائے کرام کی مشاورت سے ایسی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جانا چاہیے، جس کے ذریعے ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد جمع ہوسکیں۔ 

پھر یہ کہ عدالتی نظام میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مفتی محمّد تقی عثمانی نے اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ‘‘ ہمارے ہاں مقدمات کے فیصلوں میں اس قدر تاخیر ہوتی ہے کہ عوام اصل واقعہ ہی بھول جاتے ہیں۔ اگر مجرمان کو بروقت سزا نہ ملے، تو اُس میں عوام کے لیے عبرت کا سامان نہیں رہتا۔اِس ضمن میں گواہوں، شہادتوں اور ضمانت وغیرہ کے معاملات پر ازسرِنو غور کی ضرورت ہے۔

اسلامی سزا

اسلام عفّت و عصمت کے تحفّظ پر زور دیتا ہے اور اسے پامال کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں رکھی گئی ہیں تاکہ ایک مثالی معاشرہ وجود میں آسکے۔ قرآنِ پاک میں زنا کے مرتکب غیر شادی شاہ مرد اور عورت کی سزا کوڑے رکھی گئی ہے۔ جب کہ احادیثِ مبارکہؐ میں ایسے شادی شدہ مرد و عورت کے لیے رجم یعنی سنگسار کی سزا مقرّر کی گئی ہے۔آئینی طور پر پاکستان میں قرآن و سُنّت کے منافی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔پھر یہ کہ اسلام ہر طرح کی جنسی زیادتی کے ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے ہماری مکمل رہنمائی بھی کرتا ہے۔

مفتی محمّد تقی عثمانی نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا’’ اگر حکومت چاہے، تو زنا بالجبر کے کیسز میں موت کی سزا مقرّر کر سکتی ہے اور ایسا انتظام کیا جانا چاہیے کہ عوام سزا نافذ ہوتے ہوئے بھی دیکھیں۔‘‘معروف عالمِ دین، مولانا زاہد الراشدی کا اِس حوالے سے کہنا ہے کہ’’ گینگ ریپ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے اگر حدودِ شرعیہ سے ہٹ کر بطورِ تعزیر الگ سزا مقرّر کرنے کی ضرورت محسوس ہو،تو امام(یعنی حکومت) ایسا بھی کرسکتی ہے۔

امام طحاویؒ شرح معانی الآثار میں حضرت امام ابو یوسفؒ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ تعزیرات میں سزا کا مقرّر کرنا امام (یعنی حکومت) کی رائے پر موقوف ہے اور اس میں کوئی تحدید نہیں ہے۔ علامہ عینیؒ نے بھی ’’عمدۃ القاری‘‘ میں امام ابو یوسفؒ کا یہی قول نقل کیا ہے۔ امام (یعنی حکومت) کے لیے موت سمیت کوئی بھی سزا مقرر کرنا جائز ہے۔‘‘