آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کی 73سالہ تاریخ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے (1) پاکستان بنانے والے (2)پاکستان کو کھانے والے۔ پہلے دور میں پاکستان کے حکمراں وہ لوگ تھے جنہوں نے دن رات جدوجہد اور ہر قسم کا ایثار کر کے پاکستان بنایا تھا۔ دوسرا دور اُن شہزادے حکمرانوں کا تھا جنہیں بنی بنائی مملکت اور سلطنت ملی۔ انہوں نے قومی خزانے کا بے دریغ استعمال کیا، عیاشیوں کے نئے نئے ریکارڈ قائم کئے اور وزیر اعظم ہائوس کا سالانہ خرچ اربوں تک جا پہنچا۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اوّل تو آپ ان حکمرانوں کی شہ خرچیوں سے واقف ہیں دوم مقصد آپ کو تاریخ کی جھلک دکھانا ہے تاکہ آپ کو اندازہ ہو کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہمارے حکمرانوں نے کس طرح سادگی اور کم خرچی کی روایات قائم کی تھیں پھر خدا جانے یہ ریل کہاں پٹری سے اتری۔ قائد اعظم قومی خزانے کے تقدس کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ خلفائے راشدین کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ آج آپ کو پہلے دو وزرائے اعظم کی سرکاری زندگی کی جھلک دکھاتا ہوں۔ اوّل لیاقت علی خان جو 15اگست 1947ء سے 16اکتوبر 1951ء تک وزیر اعظم رہے۔ بہت بڑے نواب تھے۔ کیمبرج یونیورسٹی میں حصول تعلیم کے لئے گئے تو ذاتی باورچی اور خدمت گار بھی ساتھ تھے۔ وزیر اعظم پاکستان بنے تو سادہ زندگی اور کفایت شعاری کی جھلک ملاحظہ فرمائیں:

نوابزادہ لیاقت علی خان کو ’’کھانے میں کوئی خاص ڈش پسند نہیں تھی۔ انگریزی اور دیسی دونوں قسم کے کھانے پسند کرتے تھے۔ زیادہ تر سبزیاں کھانے کے شوقین تھے جس میں پالک بہت خوش ہو کر کھاتے تھے۔ عام طور پر آلو پسند نہیں کرتے تھے۔ اوّل تو اپنے ہی باغیچے کی سبزی استعمال ہوتی تھی لیکن اگر بازار سے لانی پڑتی تو خانساماں کو خاص طور پر ہدایت کرتے کہ وہ سبزی لایا کرو جو سب سے سستی ہو۔ پھلوں میں آپ کو سیب، انگور اور پپیتا زیادہ پسند تھے لیکن اس میں بھی آپ ہمیشہ کفایت شعاری کرتے تھے۔ اکثر نوکروں سے آپ تمام کھانے پینے کی اشیاء کے بھائو پوچھتے رہتے تھے۔ آپ نے ایک بار پوچھا کہ آج کل سیب کا کیا بھائو ہے؟ نوکر نے جواب دیا اڑھائی روپے سیر، آپ نے پوچھا کہ پپیتے کا کیا بھائو ہے؟ اس نے جواب دیا’’بارہ آنے سیر‘‘ ، آپ نے حکم دیا کہ صرف پھلوں میں پپیتا خریدا جائے کیونکہ یہ سستا ہے۔ چائے عموماً شام کو چار بجے کے قریب پیتے لیکن یہ خالی چائے ہوتی تھی یعنی اس کے ساتھ کوئی بسکٹ یا پھل وغیرہ نہیں ہوتا تھا۔ ‘‘

ستار نے بتایا کہ ’’میں (ستار) اکثر بیگم صاحبہ، نواب صاحب اور بچوں کو کھانا کھلایا کرتا تھا۔ جب یہ لوگ کھانا کھا لیتے تو میں پلیٹیں اٹھا کر باورچی خانے میں جاتا لیکن بیگم صاحبہ اکثر اشرف اور اکبر کو کہتیں کہ اس کی مدد کرو۔ اپنی اپنی پلیٹ اٹھائو اور دھو کر رکھو۔ اس طرح اکبر اور اشرف بھی اکثر میرے ساتھ کھانے کی جھوٹی پلیٹیں دھلواتے تھے۔‘‘ 

آپ حمائل شریف ہمیشہ کوٹ کی جیب میں رکھتے تھے۔ ویسے تو نماز کے باقاعدہ پابند نہ تھے لیکن جمعہ اور عیدین کی نمازیں باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔ آپ نے وزیراعظم ہائوس کے احاطے میں ایک چھوٹی سی مسجد اپنی جیب سے بنوائی جہاں ملازمین نماز ادا کرتے تھے۔ البتہ رمضان شریف میں نماز اور تراویح کے لئے حافظ کا بندوبست ضرور کیا جاتا تھا جس کا خرچ آپ اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔ رمضان شریف میں اکثر ملازمین تراویح پڑھتے البتہ آپ ختم کلام پاک کی شب بڑے اہتمام سے تراویح میں شرکت فرماتے۔

لیاقت علی خان جب وزیر اعظم بنے تو ان کے پاس اپنی کوئی ذاتی گاڑی نہیں تھی لہٰذا یوسف ہارون صاحب نے اپنی ایک کار نواب صاحب کے استعمال کے لئے بھجوا دی، جو وہ کافی دنوں تک بحیثیت وزیر اعظم استعمال کرتے رہے البتہ بعد میں ان کی اپنی گاڑی بھی آ گئی جو کافی پرانی تھی۔ بعد ازاں حکومت ِ پاکستان کی طرف سے بھی ایک کار (Cadillac)کالے رنگ کی بحیثیت وزیر اعظم ان کے استعمال کیلئے مہیا کی گئی۔ اس طرح وزیر اعظم کے پاس دو گاڑیاں تھیں۔ ایک حکومت ِ پاکستان کی طرف سے اور دوسری ان کی ذاتی گاڑی تھی۔

’’ستار نے بتایا شروع میں وکٹوریہ روڈ (وزیر اعظم ہائوس) میں کوئی ڈریسنگ روم نہیں تھا۔ نواب صاحب کے غسل خانے کے سامنے ایک تھوڑی سی جگہ تھی جہاں لکڑی کی کپڑے رکھنے والی الماری رکھی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ایک میز جسے ڈریسنگ ٹیبل کہا جاتا تھا، رکھی ہوئی تھی۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم (نواب صاحب) اس الماری کے پیچھے کھڑے ہو کر اپنا لباس تبدیل کرتے تھے اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر شیو کیا کرتے تھے۔

البتہ 1951ء کے وسط میں غلام محمد صاحب ،جو وزیر خزانہ تھے، کسی کام سے وزیراعظم ہائوس پر تشریف لائے۔ اتفاقیہ بیگم صاحبہ سے ملاقات ہو گئی۔ بیگم صاحبہ نے غلام محمد صاحب سے کہا کہ نواب صاحب (وزیر اعظم) لکڑی کی الماری کے پیچھے جا کر کپڑے تبدیل کرتے ہیں۔ آپ براہ مہربانی اس مکان میں مناسب سا ڈریسنگ روم (Dressing Room) ہی بنوا دیں۔ غلام محمد صاحب نے جواب دیا کہ آپ نواب صاحب سے حکم لے دیں، کمرہ بن جائے گا۔ بیگم صاحبہ نے جواب دیا کہ میں تو ان سے نہیں کہہ سکتی اور جہاں تک ان کی ذات کا تعلق ہے وہ کبھی بھی آپ سے ڈریسنگ روم بنوانے کے بارے میں نہیں کہیں گے۔ تاہم چند ہفتوں بعد ایک کمرہ بطور ڈریسنگ روم بننا شروع ہوا لیکن وہ ڈریسنگ روم نواب صاحب کو استعمال کرنا نصیب نہ ہوا کیونکہ وہ ابھی زیر تعمیر تھا کہ 16؍ اکتوبر 1951ء کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم کو راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا۔

صلہ شہید کیا ہے تب و تاب جاودانہ

(جاری ہے)