آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پہلے بھی متعدد بار عرض کیا ہے کہ بھارت کا برا وقت شروع ہو چکا ہے۔ اب ملاحظہ کریں کہ بھارت کو ہر محاذ پر شکست اور ہر میدان میں ناکامیاں مل رہی ہیں۔ بھارت کی بربادی کے ذمہ دار خود بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ مودی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے بھارت بہت تیزی کے ساتھ اندرونی اور بیرونی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بھارتی عوام کو سمجھنا چاہئے کہ نریندر مودی آر ایس ایس کی دہشت گرد پالیسیوں اور ہندو توا کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ بھارتی وزیراعظم کو اپنے ملک اور عوام کی کوئی فکر نہیں۔ دہشت گرد سوچ کی حامل مودی حکومت سے نہ اندرونِ ملک اقلیتیں محفوظ ہیں اور نہ ہی پڑوسی ممالک کیساتھ تعلقات بہتر ہیں۔ پاکستان کے علاوہ نیپال، بنگلہ دیش اور چین بھارت کے پڑوسی ممالک ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی مودی سرکار کے شر سے محفوظ نہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت خود بھارت اور بھارتی عوام کی بربادی چاہتی ہے۔ بھارت کے اندر مسلمان آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ یہ مسلمان اگرچہ بھارتی شہریت رکھتے ہیں لیکن ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے ان کو دوسرے درجہ کا شہری بنایا گیا ہے۔ سکھوں، عیسائیوں اور دوسری اقلیتوں کے ساتھ بھی مودی سرکار کا سلوک امتیازی اور ظالمانہ ہے۔

گزشتہ دنوں کے انکشافات سے یہ بات یقینی ہو گئی ہے کہ نریندر مودی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ اب دنیا کو مزید تحقیق، شک و شبہ اور انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عالمی برادری کو چاہئے کہ مودی حکومت،نریندر مودی،آر ایس ایس اور بی جے پی کو دہشت گرد قرار دے اور بھارت پر سخت تجارتی اور اقتصادی پابندیاں عائد کر دے۔ دنیا کے لئے یہ انتہائی فکر کا لمحہ ہے کہ مودی حکومت اس خطے میں خطرناک کھیل کھیل رہی ہے اور تیزی کے ساتھ حالات کو جنگ کی طرف لے جا رہی ہے جس کے اثرات سے پوری دنیا متاثر ہو سکتی ہے۔مودی حکومت کی سوچ کا اس سے بھی بہتر اندازہ اِس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی شہری ہونے کے جرم میں پورے ایک ہندو خاندان کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ گزشتہ ماہ اگست کی آٹھ تاریخ کو جودھ پور راجستھان میں اس ہندو خاندان کو قتل کیا گیا۔ پاکستان کے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے بھیل قبیلے کے بدھو رام کا خاندان جو بارہ افراد پر مشتمل تھا۔ یہ خاندان اپنے مقدس مقامات کی یاترا کے لئے بھارت گیا تھا۔ اس خاندان کا قصور کیا تھا۔قصور ان کا وہ انکار تھا کہ وہ میڈیا کے سامنے پاکستان میں رہنے والے ہندوئوں پر ظلم و ستم کی جھوٹی کہانی سنائیں اور بھارتی حکومت نے یہ کوشش کی بھی۔ اس کا مقصد عالمی میڈیا اور بھارتی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈہ کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنا تھا۔تاکہ دنیا کی توجہ بھارتی اور کشمیری مسلمانوں پر مودی سرکار کے مظالم سے ہٹائی جا سکے۔ پاکستان سے ہندو خاندانوں کو مقدس مقامات کی یاترا کے نام پر ایک ایجنٹ کے ذریعے مفت ویزے جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ وہاں پہنچ کر ہندوئوں کو یاترا کی اجازت کیا دینی تھی ان کو کیمپوں میں زبردستی رکھا گیا جہاں زندگی کی کوئی سہولت میسر نہیں تھی۔حتیٰ کہ کھانے پینے کا انتظام بھی خود مزدوری کر کے کرنا پڑتا تھا۔ بدھو رام کے خاندان کا ایک فرد اس رات باہر تھا۔ رات کو اس کے خاندان کے باقی گیارہ افراد کو آر ایس ایس کے غنڈوں نے بے دردی سے قتل کیا۔ ماہ رواں ستمبر کی دس تاریخ کو گھوٹکی سندھ کا آٹھ افراد پر مشتمل ہندو خاندان کسی طرح واپس اپنے ملک پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ خاندان کے سربراہ نانک رام نے مودی حکومت کی سازش اور ظلم و جبر کی ساری داستانیں سنا دیں۔ نانک رام کی بیتا اور بدھو رام کے خاندان کے گیارہ افراد کے بہیمانہ قتل کی تفصیلات سے ہر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ مودی حکومت کا پاکستانی ہندو یاتریوں کے ساتھ یہ سلوک ہے تو بھارتی اور کشمیری مسلمانوں پر جبر و بربریت میں کیا کمی چھوڑی ہو گی۔ مودی حکومت بےشرمی اور ڈھیٹ پن کی بھی ساری حدیں پھلانگتی جا رہی ہے۔ نیپال کی سرحد سے بھارت کو ہزیمت اٹھانا پڑی،چین سے بھارتی فوجیوں کی ناقابلِ فراموش اور تاریخی پٹائی کروائی۔ چین نے پیش قدمی کرتے ہوئے سینکڑوں کلو میٹر علاقے پر قبضہ کیا۔

لیکن مودی حکومت کی ڈھٹائی اور بےشرمی بر قرار ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں بھارتی فوجی ہر روز کشمیری مسلمانوں کی آبادیوں پر درندوں کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں لیکن نہتے کشمیری مسلمانوں کو بھارتی غلامی پر مجبور نہیں کر سکے۔

ہے کہ بھارتی حکومت کے کشمیری مسلمانوں پر مظالم اور دہشت گرد کارروائیوں سے خطے کے امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور کسی بھی وقت یہاں حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ جو نہ صرف اس خطہ کو بلکہ پوری دنیا کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔

بھارت میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور مودی حکومت کی ان تنظیموں کی سرپرستی انتہائی تشویش ناک معاملہ ہے۔ بھارت کے 44بینکوں سے اربوں ڈالرز کی منی لانڈرنگ کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سرکاری سر پرستی میں ان بینکوں سے دہشت گردوں کی مالی معاونت بھی کی جاتی ہے۔ اقوامِ عالم کو اب بھارت کے خلاف تجارتی و اقتصادی پابندیوں،نریندر مودی اور بی جے پی کے رہنمائوں پر سفری و سفارتی پابندیاں لگانے میں ذرہ برابر تامل نہیں کرنا چاہئے یہ وقت کی فوری ضرورت اور دنیا کے مفاد میں ہے۔