آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ربیع الاوّل 1442ھ28؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سشانت کی نئی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ تحقیقاتی ادارے کو پیش

آنجہانی بھارتی ہیرو سشانت کی نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ ’آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز‘  کے ڈاکٹرز کی جانب سے تحقیقاتی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن میں جمع کروا دی گئی ہے جسے ڈاکٹروں کی جانب سے حتمی رپورٹ قرار دیا گیا ہے۔

سشانت سنگھ کی خود کشی پر بھارتی تحقیقاتی ادارے کافی متحرک ہیں، سُشانت کا قتل کیا گیا تھا  یا یہ ایک خود کشی تھی اس سے متعلق تفتیش اور تحقیقات جاری ہیں۔

 حال ہی میں ڈاکٹروں پر مشتمل ایک پینل کی جانب سے سشانت سنگھ کے پوسٹ مارٹم اور اعضاء پر نئے سرے سے کی گئی تحقیق کی حتمی رپورٹ گزشتہ شام تحقیقاتی ادارے میں جمع کروائی گئی ہے۔


ڈاکٹروں کا سُشانت سنگھ کی نئی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہنا ہے کہ یہ رپورٹ 80 فیصد تحقیق پر مبنی ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا 20 فیصد حصہ سُشانت کے جسمانی اعضاء (پھیپڑوں، پِتّے، معدے، آنتوں) کے سیمپل کے نتائج آنے کے بعد مرتب کیا جائے گا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ذرائع کے مطابق سشانت سنگھ کیس میں جاری تحقیقات میں اب پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بھی شامل کیا جا رہا ہے کہ آیا سشانت کو مارا گیا تھا یا یہ ایک خود کشی تھی۔

ڈاکٹروں کی ٹیم کے سربراہ سدھیر گپتا کے مطابق ڈاکٹرز اور سی بی آئی کی ٹیم اس وقت سشانت سنگھ راجپوت کی موت سے متعلق جاری تحقیقات پر ایک بیج پر ہیں اور دونوں اداروں کی جانب سے غورو فکر جاری ہے ۔

سدھیر گپتا کے مطابق سشانت سنگھ کیس میں منطقی انجام تک پہنچنے کے لیے کچھ قانونی پہلوؤں کو دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل آنجہانی بھارتی ہیرو سشانت سنگھ راجپوت کے خاندانی وکیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈاکٹروں کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سشانت سنگھ کو گلا گھونٹ کر مارا گیا ہے جبکہ ڈاکٹروں کی جانب سے اس بیان کی تردید کی گئی تھی۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید