آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا کے بعد بحال ہوتی عالمی معیشت

کووِڈ۔19 کے، جسے عام طور پر کورونا وائرس کہا جاتا ہے، منفی اثرات سب سے زیادہ معیشت ہی پر مرتّب ہوئے۔ اِس لیے گزشتہ کئی ماہ سے یہ سوال ہر جگہ زیرِ بحث ہے کہ اِس وبا نے عالمی معیشت کو کتنا نقصان پہنچایا؟ اور ان معاشی نقصانات کا ازالہ کس طرح ہو پائے گا؟کورونا وائرس اور دوسری عالمی وبائوں میں بنیادی فرق یہ رہا کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر لاک ڈائون کیے گئے اور کئی ممالک میں اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔پاکستان میں،( جہاں روایتی لاک ڈائون کو’’ اسمارٹ لاک ڈاؤن‘‘ کہا گیا)، درحقیقت سِرے سے کسی قسم کے لاک ڈاؤن کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔

حکومت خواہ کیسے ہی دعوے کرتی رہے، مگر پاکستان ابھی تک کورونا سے نجات حاصل نہیں کر پایا۔ مُلک کے صفِ اوّل کے طبّی ماہرین کا یہی کہنا ہے کہ کورونا وائرس اب بھی مُلک میں موجود ہے۔ دنیا میں لاک ڈائون کیسے کیے گئے؟ اور اب اُن کی کیا کیفیت ہے؟ اُن کا جائزہ لینا ہو، تو چین کے شہر ووہان سے لے کر امریکا اور یورپ ہی نہیں، روس اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی مثال سامنے رکھی جاسکتی ہے۔یہ الگ بحث ہے کہ کورونا سے ہمارے مُلک میں اِتنا جانی نقصان کیوں نہیں ہوا، جتنا امریکا، یورپ اور کئی مسلم ممالک میں، جن میں پڑوسی مُلک ایران شامل ہے، دیکھا گیا۔

اصل میں مُلکوں کی معیشت کو جس چیز نے جکڑ رکھا ہے، وہ لاک ڈائون اور معاشی سرگرمیوں کا ٹھپ ہوجانا تھا۔اِسی لیے مارچ کے شروع ہی سے عالمی مالیاتی اور اقتصادی اداروں نے معیشت اور ترقّی یافتہ ممالک کے بارے میں بہت ہی مایوس کُن پیش گوئیاں شروع کردیں۔ کچھ تو اِتنی حوصلہ شکن تھیں کہ دنیا دہل گئی کہ کہیں وہ وقت نہ آجائے کہ دنیا نے اب تک جو کچھ حاصل کیا ہے، وہ سب ملیامیٹ ہوجائے۔ 

خود ہمارے مُلک میں قیامت تک کی پیش گوئیاں ہر تیسرے سوشل میڈیا کمنٹ میں دیکھی گئیں، لیکن ایسا نہ ہوا اور اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ترقّی یافتہ مُلکوں میں صحت کا وہ نظام موجود تھا، جو کسی بھی وائرس کا مقابلہ کرسکتا ہے، اِسی لیے شروع ہی سے کہا گیا کہ اِس وائرس کی صحیح ہٹ لسٹ دو فی صد سے بھی کم ہوگی اور یہ اندازہ تقریباً درست نکلا۔لیکن اِس سے بڑا کمال یہ تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے اور اقتصادی مینجرز اِن حالات میں نہیں گھبرائے۔ وہ حوصلے اور تدبّر سے صُورتِ حال سے نمٹتے رہے۔

اِسی لیے سال کی آخری سہ ماہی میں عالمی معیشت کی ترقّی کے اشاریے ساڑھے سات فی صد کے قریب بتائے جارہے ہیں، جو ہر لحاظ سے تسلّی بخش ہیں۔کورونا وائرس نے ترقّی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں میں ڈینٹ ضرور ڈالے، لیکن اُنہیں تباہ نہ کرسکا۔ یہ مُلک اِس وبا سے مقابلہ کر کے اب بحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو دنیا کے لیے ایک اچھی اور حوصلہ افزا خبر ہے۔

اپریل کا وسط عالمی معیشت کے لیے کسی ڈراؤنے خواب کی مانند تھا۔ عالمی جی ڈی پی 20 فی صد تک گر چُکی تھی اور اس کی وجہ وہ لاک ڈائون تھے، جو دنیا کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے ممالک میں یکے بعد دیگرے کیے جارہے تھے۔اس سے معاشی سرگرمیاں ختم اور کاروبار ٹھپ ہوگئے۔ ایئر پورٹس پر کھڑے طیارے مسافروں کی راہ تک رہے تھے، مگر دنیا بھر کے مُلک اپنے دروازے بند کیے بیٹھے تھے۔ کسی کو اندر آنے کی اجازت تھی اور نہ کوئی باہر جا سکتا تھا۔ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ اور گھروں تک محدود رہنا عالمی سلوگن تھا، جو ہر حکومت سختی یا نرمی سے نافذ کر رہی تھی۔

یہ وہی زمانہ تھا، جب ہمارے وزیرِ اعظم، عمران خان بار بار کہہ رہے تھے کہ’’ کورونا سے زیادہ دیہاڑی دار مزدوروں کے بھوک سے مرنے کا خطرہ ہے ۔‘‘شُکر ہے کہ ایسا کہیں نہیں ہوا۔عالمی اداروں کے اندازوں کے مطابق، اُس وقت معیشتوں کی ترقّی کی رفتار حد درجہ گر گئی تھی۔چین کی صفر، مغربی دنیا کی پانچ، ایشیا پیسیفک کی دس، لاطینی امریکا کی پندرہ اور مجموعی طور پر عالمی معیشت20 فی صد نیچے آگئی،لیکن دو ماہ بعد جب دنیا کو کورونا سے نمٹنے کا خاطر خواہ تجربہ حاصل ہوگیا، تو بیش تر ممالک نے لاک ڈائون میں نرمی شروع کردی، لیکن اُن کی اصل طاقت مضبوط اکانومی، انتہائی ترقّی یافتہ ٹیکنالوجی اور صحت کا بہترین نظام تھا۔ نیز، وہاں کے باشعور عوام نے بھی حکومت کا مکمل ساتھ دیا۔یوں اِس وبا کے دَوارن تمام ممالک ایک آزمائشی مرحلے سے گزرے، جس میں اُن کی خوبیاں، خامیاں کُھل کر سامنے آگئیں۔اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ بحران سے نکل رہی ہے اور اسی کے ساتھ عالمی معیشت بھی دن بدن سنبھلتی جا رہی ہے۔

اقتصادی ماہرین نے کورونا وبا کے اقتصادی اثرات اور معاشی بحالی کا عمیق مطالعہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی توجّہ طلب نکات سامنے آئے، جن کی روشنی میں مستقبل کے لیے بہتر حکمتِ عملی طے کی جاسکتی ہے۔یہ اِس لیے بھی ضروری ہے کہ بیماریوں اور وباؤں کا کوئی وقت مقرّر نہیں۔ یہ کسی بھی وقت اور دنیا کے کسی بھی خطّے میں انسانوں پر حملہ آور ہوسکتی ہیں۔اس معاشی بحران میں مال یعنی پروڈکشن اور سروس سیکٹر میں فرق واضح رہا۔پراڈکٹس( مصنوعات) کے شعبے نے بحالی میں زیادہ تیزی دِکھائی، بلکہ کئی اعتبار سے کورونا کے دَوران اس شعبے میں بہتری نوٹ کی گئی۔ 

عالمی ریٹیل سیلز تھوڑے ہی دنوں میں وبا سے پہلے کی پوزیشن پر آ چُکی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ جولائی ہی میں ممکن ہوگیا۔تحقیق کے مطابق، حکومتوں کی جانب سے اپنے عوام کو دئیے گئے بڑے بڑے ریلیف پیکیجز اس شعبے کی بحالی کی بنیاد بنے۔ لوگوں کے پاس خُوب پیسا تھا اور پھر وہ آرام سے گھر بیٹھے تھے۔سردیوں کا زمانہ ختم ہوچُکا تھا۔ یورپ اور امریکا جیسے مُلکوں میں گرمیاں شروع ہو چُکی تھیں۔عام لوگوں نے اپنی بَھری جیبوں سے خُوب خریداری کی۔ کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر موبائل فونز اور لیپ ٹاپ جیسی مصنوعات سے گھر بَھر لیے۔

جسے کسی ایک چیز کی ضرورت تھی، اُس نے دو خرید لیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جیسے ہی ایک، دو ماہ بعد لاک ڈاؤن میں نرمی ہوئی، فیکٹریز میں مال کی ڈیمانڈ بڑھ گئی اور اُنہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ صنعتی ممالک کو اِن حالات سے بہت فائدہ پہنچا۔ایک طرف گھریلو صارفین کی ڈیمانڈ تھی، تو دوسری طرف درآمدی آرڈرز تھے۔بدقسمتی سے ہم نے کبھی انڈسٹری کی طرف توجّہ دی ہی نہیں، اِسی لیے ہماری برآمدات میں کوئی اضافہ نہ ہوا، بلکہ ہمیں تو ہرچیز درآمد کرنی پڑی۔ہمیں اپنے معاشی عمل کو جاری رکھنے کے لیے تعمیراتی شعبے کو فعال کرنا پڑا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب دیگر ممالک کو بنے بنائے مکانات برآمد کریں گے؟ 

اِس عمل سے ہم زیادہ سے زیادہ اِس قابل رہے کہ دیہاڑی دار افراد کی روزی برقرار رکھ سکیں، لیکن پھر بھی ایک اندازے کے مطابق، پاکستان میں کورونا کے دَوران ایک کروڑ افراد بے روزگار ہوئے۔ یہ اس کے علاوہ ہیں، جو بیرونِ ممالک سے واپس آئے۔اُدھر امریکا، چین،جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور اور ویت نام تک نے اقتصادی بحالی میں خاصی تیزی دِکھائی۔چین تو پہلے ہی دنیا بھر کو ہر قسم کا مال سپلائی کرتا ہے۔ سوائے فوڈ انڈسٹری کے، اُس کی ہر صنعت میں تیزی دیکھی گئی۔خود امریکا میں جو ٹریلین ڈالرز کے ریلیف پیکیجز دیے گئے، اُن کے بہت اچھے نتائج سامنے آئے۔ تقریباً تمام ماہرین کی رائے ہے کہ امریکا اُمید سے بھی زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ نے ماہرین کی اُمیدوں سے زیادہ بہتر نتائج دیے۔

عالمی فیکٹری آئوٹ پُٹ دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ اس نے تمام نقصانات پورے کر لیے۔اس کے برعکس، کورونا کے سروس انڈسٹری پر منفی اثرات اب تک جاری ہیں۔سروس فراہم کرنے کے لیے لوگوں کا باہمی میل ملاپ ضروری ہے اور اس وبا کے دَوران سوشل ڈسٹینسنگ میں اس کی گنجائش نہ ہونے کے برابر تھی۔اِسی لیے سروس انڈسٹری ابھی تک بحالی کی کوششوں میں ہے۔مثال کے طور پر ریسٹورینٹس کو صرف چالیس فی صد کام کی اجازت تھی، اسی لیے اُن کی بحالی معمول سے کم رہی۔ 

گو کہ کئی ممالک میں کھانے پینے پر پچاس فی صد سبسڈی دی گئی کہ کاروبار چلتے رہیں، جیسے برطانیہ اور وہاں بہتر نتائج ملے۔یہی حال فضائی سروس کا ہے۔اُسے پچاس فی صد مسافروں کو لے جانے کی اجازت ہے۔ظاہر ہے، بڑے مسافر طیارے، وسیع عملہ،سب ہی پر اس کمی کے اثرات پڑے، اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ فلائٹ انڈسٹری بہت بُری طرح متاثر ہوئی ہے اور اس کی بحالی میں خاصا وقت درکار ہوگا۔سیّاحت ایک اور شعبہ ہے، جس کے اشارے منفی رہے۔

کورونا وائرس کے اثرات کا مطالعہ کرنے والے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تین فیکٹرز نے اِس عالمی وبا کے نقصانات کو کم اور معیشت کی تیزی سے بحالی میں مدد دی۔ان میں پہلا فیکٹر تو صنعتی مضبوطی ہے، جس نے بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔جن ممالک نے صنعتوں پر توجّہ نہیں دی تھی اور اُنھیں کم زور رکھا، اُنہیں اب اِس تجربے سے پتا چل جانا چاہیے کہ انڈسٹری کسی بھی مُلک کے لیے کتنی ضروری ہے؟ خاص طور پر بڑی آبادی والے مُمالک کو، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، اِس پر فوری توجّہ دینے کی ضرورت ہے۔اِس مرتبہ تو جیسے تیسے گزارہ کرلیا،لیکن اگلا وار سہنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ دوسرا فیکٹر اعتماد کا ہے۔

اس کا اندازہ لاک ڈائون سے گزرنے اور اس کا سامنا کرنے کی صلاحیت سے ہوا۔کورونا وائرس سے کچھ ممالک کو مختلف وجوہ کی بنا پر کم نقصان ہوا، لیکن ہر بار ایسا نہیں ہوگا۔یاد رہے، پہلے جو وائرس آتے تھے، اُن کے پھیلاؤ کی صلاحیت محدود تھی، لیکن کورونا وائرس کا تیز رفتار رابطوں کے سبب پھیلاؤ زیادہ ہوا۔اٹلی اور برطانیہ میں اس عالمی وبا سے نبرد آزما ہونے میں حکومتوں کی کم اہلیت کا بھی دخل ہے۔اُنہوں نے اسے تاخیر سے سمجھا اور تاخیر سے ردّعمل دیا۔تیسرا اہم فیکٹر ریلف پیکیجز کا ہے، امریکا اس کی بہترین مثال ہے، جس نے اپنی معیشت کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے ریلف پیکیجز دیے، جن سے نہ صرف عوام کی معاشی حالت متوازن رہی، بلکہ یہ عالمی تناظر میں بھی سود مند ثابت ہوئے۔ 

اِسی لیے ماہرین اس اَمر پر متفّق ہیں کہ امریکا کی معاشی کارکردگی دنیا میں سب سے بہتر قرار پائے گی ۔اس کا یہ بھی نتیجہ ہوگا کہ اس کے سہارے اور بہت سے ممالک کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا، جو کورونا بحران میں دَب گئے۔ تاہم، کورونا سے نمٹنے کے ضمن میں معاشی اور انسانی اعتماد کے لیے سب سے اہم عُنصر اب بھی ویکسین کی تیاری ہے، جس کا جلد مارکیٹ میں آنا ضروری ہے۔ اس سے وہ اعتماد پیدا ہوگا، جس سے آزاد اور پابند معیشتیں دونوں ہی کُھل کر کام کرسکیں گی۔اِسی لیے ایک طرف آکسفورڈ یونی ورسٹی اور امریکا میں ویکسین کی تیاری پورے زور و شور سے جاری ہے، تو دوسری طرف، چین بھی اس میدان میں انسانی آزمائش کے تیسرے مرحلے میں داخل ہو چُکا ہے۔

چین کی بنائی ہوئی ویکسین اب پاکستان میں بھی آزمائی جا رہی ہے، جس کا سرکاری سطح پر اعلان بھی کیا گیا۔کسی تجربے میں شامل ہونا بھی اگرچہ خوشی کی بات ہے،لیکن سچ یہی ہے کہ ہمارا اس ویکسین کی تیاری سے کوئی تعلق نہیں۔ آج انسانیت میڈیکل ٹیکنالوجی کی ترقّی کے جس مقام پر کھڑی ہے، اِس سے قبل کبھی نہ تھی۔کورونا وائرس کوئی معمولی چیلنج نہیں تھا۔جن ممالک نے اسے ٹیکنالوجی اور میڈیکل سائنس کے تجربات کی بنیاد پر دیکھا، اُنہوں نے اس سے بہت کچھ سیکھا، بالکل اسی طرح جیسے کورونا کے اقتصادی اثرات سے پہلے عالمی اقتصادی بحران سے سیکھا گیا تھا۔

ہمیں اِس ساری صُورتِ حال کا بغور جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہم نے بھی کچھ سیکھا؟یہ کہہ دینا کہ بحران ٹل گیا یا کم ہوگیا ، اُن ممالک کے لیے کافی ہو سکتا ہے، جو بہت چھوٹے ہیں یا پھر ابھی کسی شمار میں نہیں، لیکن پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چَھٹا بڑا مُلک ہے، لہٰذا اُسے اس طرح کے دعوے اور اعلانات کرتے ہوئے بہت کچھ سوچنے، سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ وبا کے دَوران ہماری یونی ورسٹیز اور اعلیٰ تحقیق کے اداروں نے کیا کارکردگی دِکھائی؟ ایچ ای سی نے تَھوک کے حساب سے پی ایچ ڈی تو تیار کر دئیے، لیکن اُنھوں نے قوم کے لیے کیا کارنامہ انجام دیا؟ ویسے تو کورونا سے

پہلے اِس سال فروری میں بھی ہماری معیشت بہت بُری حالت میں تھی۔1.9 فی صد کی ترقّی کی رفتار کو تسلّی بخش کہنا خوابوں کی دنیا میں رہنا ہے، لیکن حال ہی میں عالمی مالیاتی اداروں نے ایک مرتبہ پھر بتایا ہے کہ اِس سال مُلکی معیشت شاید منفی 4 سے بہتر نہ ہوسکے۔ معاشی ماہرین اور حکومتی مینجرز کو غور کرنا چاہیے کہ کیا وہ ان تین فیکٹرز میں سے کسی ایک پر بھی پورا اُتر سکے، جن کی بنیاد پر دنیا نے اپنی معاشی بحالی میں کام یابی پائی؟جہاں تک قرضوں کی معیشت کا تعلق ہے، تو اس کے امکانات اب بہت ہی کم رہ گئے ہیں۔ مُلکوں کے پاس اتنا سرمایا نہیں کہ وہ دوسرے ممالک کی مدد کرسکیں اور وہ بھی ہمارے جیسے بڑی آبادی کے مُلک کی۔عالمی مالیاتی اداروں پر بھی قرضوں کے لیے بہت دبائو ہے۔ 

ایران جیسا مُلک بھی آئی ایم ایف سے چار ارب ڈالرز کے قرضے کی درخواست کرچُکا ہے۔امریکا، چین،یورپ اور جاپان سب ہی اپنی معیشتوں کو سنبھالنے میں لگے ہوئے ہیں، جب کہ مشرقِ وسطیٰ میں جو نئی سیاسی صف بندی ہو رہی ہے، اس نے ہمیں کہاں کھڑا کردیا ہے؟اسے بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ہمیں معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے سرمائے کی ضرورت ہے، ٹیکنالوجی اور روزگار کی بھی۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ یہاں دوبارہ صنعتی عمل شروع ہو۔چین اِس میں ہمارا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ہمیں اب خود اپنے بنائے ہوئے منصوبوں کی بھی شروعات کرنی چاہیے، جس میں بیرونی سرمایا کاری ممکن ہو۔ اگر واقعی ہمارے پاس ٹیلنٹ ہے، تو اس کے سامنے آنے کا یہی وقت ہے۔