آپ آف لائن ہیں
پیر4؍جمادی الثانی 1442ھ 18؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

درآمدی گندم آنے کے باوجود ملکی گندم 2350 روپے من ہوگئی

اسلام آباد (حنیف خالد) حکومت سندھ نے 15 ستمبر کو سرکاری گوداموں سے فلور ملوں کو گندم جاری کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر پورا ستمبر گزرنے کے باوجود گندم کی اجرائی پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔ فلور ملز مالکان نے توقع ظاہر کی ہے کہ 15اکتوبر سے محکمہ خوراک سندھ 1475روپے فی من گندم فلور ملوں کو جاری کرنا شروع کرے گا۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالرئوف مختار اور سابق چیئرمین افتخار احمد مٹو نے جنگ کو بتایا کہ کراچی اور سندھ میں آٹے کے نرخ اسلام آباد سے بھی کم ہیں کیونکہ حکومت سندھ نے وہاں کے فلور ملز مالکان کو اپنا خام مال گندم خریدنے سے نہیں روکا جس کے نتیجے میں آج سندھ میں 20 کلو آٹا تھیلا جو بہترین کوالٹی کا ہے 1200 روپے میں دستیاب ہے جبکہ کے پی کے میں یہ 1300 روپے میں بک رہا ہے اور راولپنڈی اسلام آباد میں 1275 روپے کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رحیم یار خان میں ملکی گندم 2300 روپے درآمدی گندم 2030 روپے راولپنڈی اسلام آباد میں ملکی گندم 2350 روپے اور درآمدی گندم 2160 روپے منگل کو فروخت ہوتی رہی۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق وفاقی حکومت پبلک سیکٹر میں گندم درآمد کرنے میں مخلص نہیں ہے۔ وزیراعظم نے 15 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا کہا مگر ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے اس وقت بھی گندم درآمد نہیں کی جب

پرائیویٹ سیکٹر نے 6 لاکھ ٹن گندم 215 ڈالر فی ٹن خریدی اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے 234 ڈالر فی ٹن کے ٹینڈر مسترد کر دیئے جو 6 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کے تھے اور پچھلے ہفتے جب عالمی مارکیٹ میں گندم 286 ڈالر فی ٹن ہوئی تو ٹی سی پی نے 26 ستمبر کو پھر ٹینڈر منگوائے جو 5 اکتوبر کو کھولے جائیں گے اس طرح قومی خزانے کو 70 ڈالر فی ٹن خسارہ برداشت کرنا پڑے گا۔ حکومت پنجاب سے 8 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا کہا گیا مگر ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے اس نے یہ گندم ابھی تک درآمد نہیں کی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کش مکش کے نتیجے میں آئندہ تین چار ماہ میں ملک میں آٹے کا سنگین بحران پیدا ہوسکتا ہے اسے روکنے کیلئے وفاق اور صوبوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے ہنگامی حکمت عملی اپنانا ہوگی کیونکہ پرائیویٹ سیکٹر نے 12 لاکھ ٹن یوکرائن اور روس سے گندم کی بکنگ کر لی ہے جو 20 بحری جہازوں میں دسمبر تک پہنچے گی جبکہ پاکستان میں آٹے کا بحران شدت اختیار کرچکا ہوگا۔

ملک بھر سے سے مزید