آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

رضیہ بٹ... گھریلو اور رومانوی ناولوں کی ملکہ

رضیہ بٹ کا شمار اُردو ادب کے ان نامور لکھاریوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی کہانیوں،ناولوں اور ڈراموں سے مشرقی اقدار کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ 4اکتوبر 2012ء کو وفات پانے والی گھریلو اور رومانوی ناولوں کی ملکہ رضیہ بٹ کو خواتین کی توانا اور دبنگ آواز کہا جائے تو قطعی بیجا نہ ہوگا۔ انھوں نے اپنی کہانیوں میں تلخ حقائق پر مبنی سچائیوں کا مثبت انداز میںاظہار کیا، جن میں معاشرتی ناہمواریوں اور اداس لمحوں کا تاثر نمایاں ہوتا ہے۔ 

ان کے کریڈٹ پر51ناول اور 350افسانے ہیں۔ رضیہ بٹ کا مشہور ناول ’بچھڑے لمحے‘ اُن کی حقیقی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ زندگی کے چلتے پھرتے کرداروں اور الفاظ کی اثر انگیزی کے سبب ان کے تمام ناول مقبول ہوئے۔ انھیں پاکستانی خواتین میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ناول نگار کا درجہ حاصل ہے۔ ان کے تحریر کردہ ناولوں پر ماضی میں کئی فلمیں بھی بنائی گئیں، جن میں نائلہ، صاعقہ، انیلا اور گلابو قابل ذکر ہیں۔

نقشِ حیات

اشتراکیت (سوشلزم) اور رومانوی موضوعات پر ناول لکھنے والی رضیہ بٹ 19مئی 1924ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا تعلق ایک کشمیری خاندان سے تھا۔ اپنے گھر میں جو علمی و ادبی ماحول میسر آیا، اس نے ان کی تخلیقی و ادبی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بھرپور موقع فراہم کیا۔ دسویں جماعت میں اُردو میں 100 فیصد نمبر حاصل کیے، جس پر اُستانی نے کہا کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو سو نمبروں میں سے ایک سو پچاس نمبر دیتی۔ 

1946ء کے آغاز میں شادی ہو گئی، تاہم والد نے 1950ءمیں دوبارہ تخلیق ادب پر مائل کیا اور پھر ریڈیو، فلم اور ڈ رامے کے لیے بھرپور تخلیقی کام کیا۔ 1960ء میں ان کا شمار صفِ اوّل کی فکشن نگاروں میں ہونے لگا۔ وہ عجز وانکساری کا پیکر بنی ستائش اور صلے کی تمنا سے بے نیاز تخلیق ادب کے کاموں میں مصروف رہیں۔

جدوجہد تحریک پاکستان

زمانہ طالب علمی میں انھوں نے مسلم لیگ کی خواتین تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور تحریک پاکستان کے لیے بھرپور جدوجہد کا آغاز کیا۔ ان کی محنت اور کوششوں سے علاقے کی مسلمان خواتین میں جذبہ حریت بیدار کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ آپ نے مسلمان طالبات کے ساتھ مل کر چندہ جمع کرنے کی مہم میں بھی حصہ لیا۔ 

رضیہ بٹ نے تحریک پاکستان کی تمام جدوجہد کو تمام جزئیات کے ساتھ اس خوبصورت انداز سے پیش کیا کہ واقعی تحریک پاکستان کی اصل روح بیدار ہوتی نظر آتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد معاشرے میں جس قسم کے مسائل نے جنم لیا، رضیہ بٹ انہیں بھی نہایت خوبصورتی سے اپنے ناولوں کے ذریعے پیش کرنے میں کامیاب رہیں۔

ادبی سفر

رضیہ بٹ نے 1940ء کے عشرے میں لکھنا شروع کیا اور معاشرے میں عورت کے کردار کو مرکزی اہمیت دی۔ انھوں نے خواتین کی زندگی کے مسائل پر جس طرح بحث کی ہے اس کی باز گشت ہر دور میں سنائی دیتی رہے گی۔ نائلہ، صاعقہ، بانو، ثمینہ، انیلہ، شبو، ناجیہ، سبین، رابی، شائنہ اور بینا جیسے ناولز عورت کے گرد گھومتے ہیں۔ رضیہ بٹ کی تحریروں نے ہمیشہ قاری کے دل و دماغ پر اثر چھوڑا ہے۔ انھوں نے اپنی کہانیوں میں زندگی کی سچی اور تلخ حقیقتوں کو ہمیشہ مثبت اندازمیں پیش کیا، جس میں معاشرے کے اُتار چڑھائو اور مایوسی و نا امیدی کا تاثر سر چڑھ کر بولتا ہے۔

ممتاز ادبی جرائد میں شائع ہونے والے ان کے قسط وار ناول اور افسانے، پڑھنے والوں کو اپنی جانب مقناطیس کی طرح کھینچتے تھے۔ انھوں نے اردو فکشن کو مقدار اور معیار کے اعتبار سے جس طرح ثروت مند بنایا ، اس کا اعتراف ہر سطح پر کیا گیا۔ زندگی کے سچے واقعات سے کشید کردہ ناول اور افسانے تاریخ وارتقاء، نفسیات، عمرانیات، سراغ رسانی، مہم جوئی، تجسس، خود نوشت، سوانح، سفر نامہ، فطرت نگاری اور حقیقت نگاری کامرقع تھے۔ ان کا ناول ’بانو‘ جب منظرعام پر آیا تو اس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ یہ تحریک پاکستان کے پس منظر میں لکھا گیا ایک نہایت ہی پُر اثر اور خوبصورت ناول ہے ۔

اس ناول میں تحریک پاکستان کے تمام کردار اور واقعات کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے جس سے تحریک کی اصل روح بیدار ہوتی نظر آتی ہے۔ اس ناول کی ڈرامائی تشکیل کرکے کئی سال بعد ٹیلی ویژن پر پیش کیا گیا۔ 1998ء میں انھوں نے خود نوشت ’بچھڑے لمحے‘ لکھنے کا آغاز کیا،جو 2001ء میں مکمل ہوئی۔ اسے اردو خود نوشت میں اہم مقام حاصل ہے، اس میں انھوں نے اپنی زندگی کے سفر کے بارے میں تمام حقائق کو انتہائی ایمانداری سے قرطاسِ ابیض کا حصہ بنایا۔

رضیہ بٹ نہایت خوش اخلاق، ملنسار، سادگی پسند اور خاموش طبیعت کی مالک تھیں، تاہم مزاج کے برخلاف انھوں نے اپنی تحریروں میں ایسی جان ڈالی کہ پڑھنے والا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے حیران رہ جاتا ہے کہ اپنی ذاتی زندگی سے یکسر مختلف واقعات کو انہوں نےکس طرح حقیقت کا روپ دیا۔ معاشرتی ناہمواریوں اور اداس لمحوں کی تحریریں رضیہ بٹ کے ناولوں اور کہانیوں کا خاصہ تھیں۔ ان کے کئی ناولوں پر ٹیلی ویژن ڈرامے اور فلمیں بنائی گئیں جن کو ناظرین میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ 

رضیہ بٹ کو اپنی ناول نگاری کی بناء پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پذیرائی ملی۔ دل و دماغ پر تاثر چھوڑنے والی تحریروں کا جب بھی ذکر ہوگا، رضیہ بٹ کا نام ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔