آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پیلیٹا کلارک

گزشتہ ہفتے لندن کی ایک معروف کونسل نے اپنے عملے کو گرفتاری کی ایک خبر بھیجی، کام پر سگریٹ نوشی کرنا ٹھیک ہے۔

مزید واضح طور پر ہیمرسمتھ اور فولہم کونسل نے کہا کہ ملازمین گھر سے کام کررہے ہیں تو سگریٹ نوشی کرنا ٹھیک ہے، جیسا کہ کافی ملازمین کووڈ19 کے شکرگذار ہیں۔

اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں ، کونسل نے یہ پیغام اس لئے بھیجا کہ وہ ان خبروں کی تردید کرنا چاہتی ہے کہ اس نے کام کے دوران ملازمین کی سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کردی تھی چاہے وہ گھر سے ہی کام کیوں نہ کررہے ہوں۔اس نے خفگی سے کہا کہ ہم لوگوں کو اپنے گھروں میں تمباکو نوشی کے حوالے سے کبھی کوئی ہدایت جاری نہیں کریں گے۔

کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ عمومی سال میں زیادہ نہیں۔ دور درا بیٹھ کر کام کرنے کی اس نئی دنیا میں، یہ سوال کہ کوئی آجر اپنے عملے سے کیا مطالبہ کرسکتا ہے اور کیا نہیں، اچانک پیچیدہ صورت اختیار کرگیا ہے۔

موجودہ ملازمت کے قوانین ایک ایسے دور میں تیار کیے گئے تھے جب عام کارکن روزانہ اسی عمارت میں مشقت کرتا اور رات کو واپس گھر چلا جاتا تھا۔وہ وقت شاید کبھی واپس نہ آسکے۔

گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے 750 سے زائد یورپی ااجروں کے سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 41 فیصد کا منصوبہ ہے کہ دفاتر دوبارہ کھلنے کے بعد عملے کیلئے گھر بیٹھے کام جاری رکھنے کو آسان بنایا جائے۔انہیں پروا نہیں ہوگی اگر ان کا عملہ گھر پر دن رات ایک کررہاہے،لیکن وہ کسی اور چیز کی پرواہ کرتے ہیں جیسا کہ کتنا کام ہورہا ہے۔

جو پہلے سے ہی ممکنہ قانونی سر درد اٹھا رہا ہے ،جیسا کہ میں نے پچھلے ہفتے برطانیہ کے ملازمت کے وکیلوں کو فون کرنے کے بعد دریافت کیا تھا۔

میں پہلے ہی مبینہ طور پر وبائی مرض کے پھیلاؤ کے دوران ٹریکنگ سافٹ ویئر کے بارے میں سننے کی توقع کررہا تھا جو کمپنی کے لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر ٹائپ کے لئے دبائے جانے والی کی کو گن سکتا ہے، یا مانیٹر کے غیر ارادی اسکرین شاٹس لے سکتا ہے۔لیکن پتہ چلتا ہے کہ کچھ بدترین پریشانیاں ہائی ٹیک کم اور انسانی زیادہ ہیں۔

ایک کمپنی میں گھر کے عملے کو بتایا گیا کہ وہ ویڈیو کانفرنس کال سارا دن کھلا رکھیں تاکہ ایک مینیجر ان کے کاموں کو دیکھ سکے اور اس کے ذہن میں آنے والی کوئی ہدایت فوری جاری کردے جیسا کہ اس نے ہمیشہ دفتر میں کیا۔

لنیکلیٹرز ملازمت کی وکیل سینیڈ کیسی کہتی ہیں کہ میرے خیال میں گھر سے کام کرنے ملازم کے کام میں مداخلت کرنے کی سطح کافی حد زیادہ تک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وبائی مرض سے قبل کاروبار میں عام طور پر کسی نہ کسی حد تک نگرانی ہوتی تھی۔اور انہیں ہوشمندی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ آیا انہیں واقعی گھر میں عملے کی زیادہ نگرانی کی ضرورت ہے۔

اگرچہ یہ وہاں سمجھ آتا ہے جب آپ ٹریڈنگ فلور یا نیوز روم میں کام کرتے ہیں ، جہاں لمحہ بہ لمحہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک اور بہت بڑا قانونی سوال منڈلا رہا ہے کہ کون ساکاروبار قوت کارکردگی کو بڑھانے کے لئے ملازمین کو ساز گار ماحول صلاحیت کے مطابق کام مہیا کرنے کے لئے سیف ڈیسک ۔ معقول کمپیوٹر،، فاسٹ براڈ بینڈ اور حتیٰ کہ گرمی، ٹھنڈک اور روشنی فراہم کرنے کا پابند ہے۔کیا انہیں گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو بے یارومددگار چھوڑنے کے قانونی دعوؤں کا سامنا کرنا ہوگا؟

برطانوی لاء فرم سلیٹر اینڈ گورڈن کے پیٹر ڈیلی کہتے ہیں کہ ممکنہ طور پر ہاں۔

ملازمت کے معاہدے میں خاص طور پر بجلی کے بلوں یا براڈ بینڈ کا ذکر نہیں کیا جاسکتا ہے، تاہم قانونی کیس سے یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ملازمین کے لئے مناسب کاروباری ماحول مہیاں کرے،جو ان اخراجات کیلئے ادائیگی میں توسیع کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت سے لوگوں سے سن رہے ہیں کہ انہیں اپنے کمپیوٹر پر گھر سے کام کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے،پوری کنبے کے زیر استعمال ایک پرانے لیپ ٹاپ رکھنے والوں کے لئے یہ ایک مشکل کام ہے، جبکہ گھرمیں کوئی اور کمپیوٹر بھی نا ہو۔

اس کے باوجود یہ کہانیاں آج کی زندگی میں کام کرنے کی اور بھی اہم حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں، کووڈ19 نے درجنوں صنعتوں میں آجروں کے حق میں طاقت کے توازن پر ضرب لگائی ہے۔

روزگارکی غیر یقینی صورتحال بمشکل ہی کسی ملازم کو کمپنی میں شامل ہونے کی ترغیب دیتی ہے، چاہے صورتحال کتنی ہی ناگوار کیوں نا ہو۔

اور لڑنے کا فیصلہ کرنے والوں کو عدالت میں ایک دن کا طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ برطانیہ میں سماجی دوری کے قواعد نے غیر سماعت شدہ شکایات کا انبار لگ چکا ہے، یہ اگست تک بڑھ کر 39 ہزار ہوچکی تھیں۔

اگر آج آپ کوئی دعویٰ کرتے ہیں تو شاید اس کی سماعت 2022 تک نہیں ہوسکتی ہے، اس وقت تک آپ کا آجر کنگال ہوسکتا ہے۔

اس کا اطلاق تمام شعبوں پر نہیں ہوتا، تمام ممالک میں تمام کاروبار چھوڑ دیں۔تاہم چونکہ وائرس کے انفیکشن کی شرح بڑھ رہی ہے اور لاک ڈاؤن کے سخت اصولوں کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے، یہ ایک تاریک حقیقت ہے۔

جب یہ سب شامل ہوجاتا ہے، چاہے ااپ گھر پر کام کررہے ہوں یا نہیں، مجھے ڈر ہے کہ تمباکونوشی کے بارے میں کم از کم سوچنے کی کافی وجہ ہو۔

فنانشل ٹائمز سے مزید