آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تفہیم المسائل

سوال: پرندے گھر میں رکھنا گناہ تو نہیں، میرے بیٹے کو طوطے رکھنے کا شوق ہے اور میں دو طوطے گھر میں اس کی ضد پر لے آیا ہوں، لیکن اب میرے دل میں خیال آیا کہ آپ سے پوچھ لوں کہیں یہ گناہ نہ ہو،(جنید جدون، پیروخیل)

جواب: پرندے رکھنا اور ان کو پالنا شرعاً جائز ہے اور شرع میں اس کی ممانعت نہیں ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ان کے بھائی ابو عُمیر نے ایک چڑیا پال رکھی تھی۔ رسول اکرمﷺ جب تشریف لاتے تو پوچھتے :ترجمہ:’’ اے ابو عمیر! نُغَیر (ایک پرندہ)کا کیا بنا؟ ،وہ بچہ اُس پرندے سے کھیلتا تھا،(صحیح بخاری:6129)‘‘۔

اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت انسؓ کے گھر میں ان کے بھائی نے ایک پرندہ پال رکھا تھا، حضورﷺ اس کے بارے میں دریافت فرماتے، مگر آپ نے اسے رکھنے سے منع نہیں فرمایا۔ پس معلوم ہوا کہ پرندوں کو گھر میں پالنے کی اجازت ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی ؒفرماتے ہیں:ترجمہ:’’اس حدیث سے پرندے کو پنجرے وغیرہ میں بند کرنے کے جواز پر دلیل ملتی ہے۔ پرندے کو رکھنے والے پر واجب ہے کہ وہ اس سے اچھا سلوک کرے اور اسے حسبِ ضرورت خوراک دے ،،(عسقلانی، فتح الباری، 10: 584)‘‘۔

تو جب پرندوں کو پالنا جائز ہے، تو ان کا کاروبار بھی جائز ہے۔ پرندوں کو پالنا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:اُن کے پالنے میں کسی دوسرے شخص کو تکلیف نہ ہو۔ اُن کے ذریعے دوسروں کے پرندوں کو پکڑنا مقصود نہ ہو،اُن کا پنجرہ اتنا بڑا ہو کہ اس میں ان کو اذیت نہ ہو،صفائی اور صحت کاخصوصی خیال رکھا جائے ، اُن کی خوراک کا انتظام کیا جائے،کیونکہ ان کو خوراک مہیا نہ کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔حدیث پاک میں ہے : ترجمہ:’’ حضرت عبداللہ بن عمرؓبیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عورت کو بلی کے سبب عذاب دیاگیا ،جسے اُس نے باندھ کر رکھا، یہاں تک کہ وہ مرگئی ،وہ عورت اس کے سبب جہنم میں داخل ہوئی ،کیونکہ اس عورت نے اس بلی کو باندھے رکھا اور اسے کھلایا پلایا نہیں اورنہ ہی اسے آزاد کیا تاکہ وہ کیڑے مکوڑے کھاکر گزارا کرتی،(صحیح مسلم:2242)‘‘۔

کبوتروں، تیتروں اور بٹیروں کو تجارت یا گھر کی زینت کیلئے رکھا جائے تو جائز ہے،مقابلہ بازی کے لیے پرندے رکھنا جائز نہیںہے ،کبوتر بازی، بٹیر بازی، تیتر بازی اور مرغ لڑانا وغیرہ سب فضول اور ناجائز مشاغل ہیں۔ اگر ان کے مقابلوں میں شرط لگائی جائے، جس میں ہارنے والا، جیتنے والے کو کوئی چیز یا نقد رقم ادا کرے ،تو یہ جوا ہے، جسے قرآن کریم نے حرام، نجس اور شیطانی عمل قرار دیا ہے۔ بہرحال ہر وہ مشغلہ جسے جائز حد سے زیادہ اہمیت دی جائے اور اس سے وقت اور رقم کا ضیاع ہو، وہ ممنوع اور ناجائز ہے۔

حدیث پاک میں ہے : ترجمہ:’’حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں :رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کو کبوتر کا پیچھا کرتے دیکھا تو فرمایا:ایک شیطان، دوسرے شیطان کا پیچھا کر رہا ہے، (سُنن ابن ماجہ: 3765)‘‘۔

مذکورہ حدیث میں رسول اللہ ﷺنے کبوتر بازی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے اور اسے شیطانی کام سے تعبیر کیا ہے۔ کبوتر کو شیطان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کے مفاسد کی وجہ سے شیطان خوش ہوتا ہے۔ کبوتر بازی کی طرح، بٹیر بازی، تیتر بازی، پتنگ بازی بھی فضول اور خطرناک مشغلہ ہے۔ ایک مسلمان کو ایسے کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ایسے کاموں کے حرام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ ایسے کاموں میں مشغول ہو کر وقت ضائع کرتے ہیں، حتیٰ کہ نماز کی بھی پروا نہیں کرتے۔