آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گزرے وقتوں میں گھر کے بیرونی حصے میں محض صحن بنا دیا جاتا تھا اور وہاں چند گملے رکھ دیے جاتے تھے، بہت ہوا تو تھوڑی سے حصے میں گھاس لگا دی جاتی تھی۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران گھر کے اندرونی حصے (ان ڈور ایریا) کے ساتھ ساتھ بیرونی حصے (آؤٹ ڈور ایریا) میں بھی نت نئے ٹرینڈ ز اپنانے کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔ ان ٹرینڈز کے تحت گھر کے بیرونی حصے میں ہریالی کے ساتھ ساتھ آؤٹ ڈور کچن، آؤٹ ڈورلیونگ روم یا سن روم کی تعمیر عام بات ہے، تاہم اب ایک نئے ٹرینڈ ’گارڈن روم‘کا اضافہ بھی دیکھنے میں آیاہے، جسے کم بجٹ اور جدید تعمیراتی انداز کے ساتھ گھر کے بیرونی حصے میں ایک بہترین اضافہ تصور کیا جاتا ہے۔ 

گارڈن روم کوخاص کاموں کے لیے بھی مختص کیاجاسکتا ہے مثلاً موسم سے لطف اندوز ہونے، خاندانی تقریبات میں اضافی جگہ یا پیٹ ہاؤ س کے طور پر۔ یہی وجہ ہے کہ تعمیراتی ماہرین اس کمرے کو مختلف ڈیزائن اور انداز میں تعمیر کروانے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن بعض اوقات ڈیزائن کا انتخاب بھی مشکل میں ڈال دیتا ہے۔ لہٰذا آج ہم قارئین سے کچھ ایسے آئیڈیاز اور ٹپس کے بارے میں گفتگو کرنے جارہے ہیں، جو گارڈن روم کی تعمیر کے دوران کام آئیں گے۔

منصوبہ بندی

گارڈن روم کی تعمیر میں پیمائش اور ڈیزائن کا انتخاب باغیچے کے سائز اور بجٹ پرمنحصر ہوتاہے۔ ماہرین کے مطابق گارڈن روم کی اندرونی سے زیادہ بیرونی ڈیزائننگ خاص توجہ چاہتی ہے، مثلاًاس کمرے کو باغیچے سے مشابہت کیسے دینی ہے؟ بیرونی حصہ سادہ ہونا چاہیے یا پھر روایتی؟ اس کو بنانے میں عام مواد استعمال کیا جائے یاپھر جدید؟ اس حوالے سے تعمیراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گارڈن روم کی تعمیر بڑےسائبان کے بجائے ایک کمرے کے اسٹائل میں کروائی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی مختلف مسائل سے بچنے کے لیے اس کمرے کو کنکریٹ اور سلیب جیسے مواد کے ساتھ تعمیر کروایا جاسکتا ہے۔ تاہم ترقی یافتہ ممالک میں گارڈن روم عموماً لکڑی سے تعمیر کروایا جاتا ہے۔

محل وقوع

گارڈن روم کی پوزیشننگ کے لیے بھی خاصے غورو فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ موسم کے اعتبار سے اس کے محل وقوع کا انتخاب کریں ۔جنوبی رُخ تعمیر کروایا گیا کمرہ نسبتاًزیادہ گرم ہوتا ہے، تاہم اگرسورج کی جانب شیڈ لگادیے جائیں تو گرمی اور روشنی کا دباؤ کم کیا جاسکتا ہے۔

ٹھیکیدار یا آرکیٹیکچر

ایک ٹھیکیدار آپ کی ضروریات اور خواہشات کے عین مطابق گارڈن روم تعمیر کرکے دے سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس حصے میں باتھ روم اور کچن بھی شامل کرنا چاہتے ہیں (جس کے لیے پانی اور نکاسی کا بہترین نظام ہونا شرط ہے) تو ہمارا مشورہ یہی ہے کہ آپ اس صورت میں کسی تعمیراتی کمپنی سے رابطہ کریں کیونکہ ایک معیاری آرکیٹیکچر ہی آپ کو تمام سہولیات بآسانی فراہم کرپائے گا۔

تعمیراتی ماہرین اس سلسلے میں ماڈیولر ڈیزائن کو بہترین تصور کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا گارڈن روم پورا سال بہترین رہے تو کمرے کے درجہ حرارت اور موصلیت(Insulation) پر خاص توجہ دیں۔ کسی تعمیراتی کمپنی کے پہلے سے دستیاب ماڈل کی تعمیراتی لاگت آپ کی فرمائش پربنوائے جانے والے گارڈن روم کی قیمت سے خاصی کم ہوتی ہے۔

یوٹیلیٹی اور منٹیننس

پانی، بجلی اور نکاسی کا نظام گارڈن روم کی تعمیر کے اہم عناصر ہیں۔ اس کے لیےآپ کو اپنے آرکیٹیکچر کے ساتھ مل کرنقشے (فلور پلان) پر بات کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی الیکٹریشن سے وائرنگ کے حوالے سے تمام معاملات پہلے ہی طے کرلینے چاہئیں مثلاً انڈرگراؤنڈ وائرنگ معیاری ہونی چاہیے، وائرنگ کے لیے خالص تانبے کے تار استعمال کیے جائیں، ایک کمرے میں ساکٹ کی تعداد کتنی ہونی چاہیے یا عام ساکٹ فرش کی سطح سے کتنی اُونچائی پر اور کس جگہ لگایا جائے۔ آپ گارڈن روم کے لیے سولر پاور بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ نکاسی کے نظام کے لیے آپ کو 2پائپس سیٹ کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے اچھے پلمبر کا انتخاب ضروری ہے۔

سہولیات

آپ کے گارڈن روم کے لیے بجلی بے حد ضروری ہے، اگر آپ اس ایریا کو صرف سمر ہاؤس کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں تواس حصے کے لیےمتاثر کن بیرونی لائٹنگ کا بندوبست کیجیے۔ لیکن اگر آپ پورا سال اس روم کو استعمال میں لانے کے خواہشمند ہیں تو آپ کو یہاں ساکٹ، لائٹنگ اور ہیٹنگ یا کولنگ جیسی تمام سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کے علاوہ اپنے اور گھروالوں کے آرام کا خیال رکھتے ہوئے مناسب فرنیچر کا انتظام بھی کریں۔