آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بابائے فطرت اور ثقافتی مصور کہلانے والے پاکستان کے نامور مصور استاد اللہ بخش کو ماڈرن لینڈاسکیپ اور تشبیہی نقاشی (Figurative painting)کے ماہر فنکار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ استاد اللہ بخش انتہائی باصلاحیت شخص تھے، وہ کسی آرٹ انسٹیٹیوٹ نہیں گئے بلکہ حیرت انگیز طور پر خود ہی مصوری سیکھی۔ 

البتہ مصوری کی بنیادی مہارت استاد عبد اللہ سے حاصل کی جو کہ لاہور میں روایتی مغل طرز کے منی ایچر پینٹنگ کے ماہر تھے۔ وزیر آباد میں پیدا ہونے والے استاد اللہ بخش کا ویسے تو پیدائش کا سال عام طور پر1895ء مانا جاتا ہے، تاہم1964ء میں ریڈیو انٹرویو کے دوران انھوں نے اپنی یادداشت پر زور ڈالتے ہوئے بتایا تھا کہ غالباً وہ 1892ء میں پیدا ہوئے تھے۔

استاد اللہ بخش کو استادوں کا استاد بھی کہا جاتا ہے۔ وہ آبی ، روغنی ، ٹیمپرا اور پوسٹر رنگوں کے علاوہ چاک وغیرہ میں بھی بڑی مہارت سے کام کرتے تھے جبکہ پنسل کے کام پر بھی ملکہ حاصل تھا۔ ایک عرصہ تک انھوں نے رومانی تصویر کشی کی جن میں ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، جاٹ جَٹّی اور دلہا دلہن کی تصاویر شامل ہیں۔ وہ قدرتی مناظر اور روزمرہ زندگی کی تصویر کشی بھی کرتے رہے، بالخصوص پنجاب کے زرخیز میدانی علاقوں اور وہاں کی لوک داستانوں کو مصوری کے ذریعہ اجاگر کیا۔

استاد اللہ بخش کے والد کرم دین محکمہ ریلوے کی مغل پورہ ورک شاپ میں رنگ ساز تھے اور ریل گاڑیوں پر رنگ کیا کرتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا بھی ان کی طرح یہ پیشہ اختیار کرے۔ اسی وجہ سے استاد اللہ بخش کی ابتدائی تعلیم کا آغاز برش اور رنگ سے ہوا اور انھیں ریلوے کے پینٹر مستری نذیر محمد کی شاگردی میں دے دیا گیا اور پھراستاد عبداللہ کی شاگردی میں آ گئے۔ 1913ء میں استاد اللہ بخش نے بھاٹی گیٹ لاہور میں آغا حشر کاشمیری کی تھیٹریکل کمپنی میں کام شروع کیا، جہاں پہلی بار منظر نگاری سے واسطہ پڑا۔ 

انھوں نے عکاسی، تصویر کشی، منظر نگاری اور شہری نظاروں کے نمونوں پر مشقیں کیں۔ اپنی ذہانت، لگن اور فنکارانہ صلاحیتوں کے باعث کچھ سال بعد ہی ان کا شمار اچھے کاریگروں میں ہونے لگا۔ ان کی حقیقت سے قریب تر پینٹنگز رنگ، زندگی اور لوگوں سے بھرپور تھیں، جنہوں نے دیکھنے والوں کو اپنی طرف مائل کرکے ان کے کام کو سراہنے پر مجبور کیا۔

1914ء میں اپنا مستقبل سنوارنے کی خاطر وہ بمبئی چلے گئے اور پانچ برس تک روپ نرائن اسٹوڈیو میں بطور فوٹو گرافر، سائن بورڈ اور بیک ڈراپ مصور کام کیا۔ 1919ء میں انھیں شملہ فائن آرٹس سوسائٹی کی جانب سے انعام سے نوازا گیا اور اخبارات نے انہیں بمبئی کا ماسٹر پینٹر مخاطب کیا مگر اس کے باوجود اسی سال انھوں نے لاہور واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ 1922ء تک استاداللہ بخش نے ایک اخبار میں کمرشل آرٹسٹ کے طور پر خدمات انجام دیںاور کچھ عرصہ میوا سکول آف آرٹس (نیشنل کالج آف آرٹس لاہور) میں مصوری کی تعلیم بھی دی لیکن اپنی سیلانی طبیعت کے سبب کسی ایک جگہ جم کر کام نہیں کر پائے۔ 1924ء میں مہاراجہ جموں کشمیر نے انھیں کورٹ پینٹر کی ملازمت پیشکش کی، جہاں وہ تقریباً 1938ء تک خدمات انجام دیتے رہے۔ اس عرصے میں انھوں نے بہت سی گرانقدر تصاویر بنائیں اور 1928ء میں ممبئی میں ہونے والی تصویری نمائش میں ان کے شاہکار کو اوّل قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ کلکتہ میں بھی ان کی تصویری نمائش ہوئی جسے خوب سراہا گیا اور لوگ ان کے فن پاروں سے خوب متاثرہوئے۔

استاد اللہ بخش اپنی تصاویر میں پنجاب کی رعنائیوں اور دیہاتوں کے ماحول کو بڑی کاریگری سے سامنے لائے۔ ان کی بنائی ہوئی تصاویر دیکھ کر انسان ورطہ حیرت میں پڑ جاتا ہے۔ ان کے شاہ پاروں میں زندگی اپنی رعنائیوں سمیت سانس لیتی محسوس ہوتی ہے ۔ استاد اللہ بخش کسی نثر نگار یا شاعر کی طرح اپنے فن پاروں میں زندگی کی تشریح کرتے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے پنجاب کے رنگین مناظر سے لے کر پتھریلے علاقوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں کو اپنی مہارت سے بڑے خوبصورت انداز سے پیش کیا۔ استاد اللہ بخش کا پہاڑوں کی مصوری کا انداز نہ صرف رومانوی بلکہ حقیقت پسندی کے نقطہ نظر سے بہت بڑا نمونہ ہے ، خاص طور پر جب انھوں نے پہاڑوں کو وسیع زاویہ سے پینٹ کیا۔ ان کی بنائی ہوئی تصاویر پانچ دریائوں کی اس سرزمین کے تمام رنگوں، حسن، دلکشی اور ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔

استاد اللہ بخش کی شخصیت ان کی تخیل آمیز مصورانہ مزاج کے عین مطابق نرم اور پرسکون تھی۔ جو لوگ انھیں قریب سے جانتے تھے ان کے مطابق ان کی سنگت میں بیٹھنے والے کو جو سکون اور خوشی ملتی تھی وہ شاید ہی کہیں اور سے ملی ہو۔ لاہور میوزیم میں ان کے فن پارے بہت نمایاں رکھے گئے ہیں، جن میں عمرو عیار کی طلسم ہوشربا اور بیلوں کی جوڑی بہت معروف ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی تصاویر آج کے دور کے تمام تقاضوں پر پورا اترتی ہیں۔ 1960ء میں استاد اللہ بخش کو ان کی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان کی طرف سے ’تمغہ خدمت‘ اور ’تمغہ حسن کارکردگی‘ سے نوازا گیا۔ استاد اللہ بخش کا انتقال 18اکتوبر1978ء کو ہوا۔ ان کی آخری آرامگاہ قبرستان مسلم ٹائون بلاک اے میں واقع ہے۔