آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نور جہاں خالد

؎جہاں میں کچھ بھی ناقابلِ تسخیر نہیں…جو پَر کُھلے ہیں تو پاؤں میں زنجیر نہیں۔یہ سلطنت کاپسندیدہ شعر تھا۔ ہر رکاوٹ عبور کرکے نئی منزل کی جانب گام زن ہوتےہوئے یہی شعراس کے لاشعور میں گونجتا رہتا۔ گویا یہ اس کے لیے ایک ٹانک تھا۔اس وقت وہ اپنے بابا کے ساتھ کراچی آنے والی بس میں سوار تھی۔ کراچی پہنچتے ہی اس نے بیگ اٹھایا اور باپ کے ساتھ دروازے کی جانب بڑھی۔ جہاںپہلا قدم زمین پر رکھتے ہی اس نے ایک گہری سانس لی۔ جیسے منزل کی جانب پہلا قدم بڑھایا ہواور چمکتی آنکھوں کے ساتھ گویا ہوئی ’’بابا! آپ دیکھیے گا۔ یہاںاعلیٰ تعلیم حاصل کرکے مَیں آپ کو پاکستان کی سب سے بڑی فیشن ڈیزائنر بن کے دِکھاؤں گی۔ گلگت میں لوگ ہمارا فن توسراہتے ہیں، مگر ہم اسے بطور پیشہ نہیںاپنا سکتے، نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔لیکن اس بڑے شہر میں، میرے فن کو خُوب پذیرائی ملے گی۔ ‘‘جیسے تیری خوشی بچّے‘‘’’بابا آپ کتنے اچھے ہیں۔ 

دوسروں کے بابا سے بالکل الگ ، مجھے پڑھائی کے لیے کراچی لےکر آئےہیں، ہاسٹل میں رہنے کی اجازت بھی دے دی۔ ‘‘ ’’میری بچّی! تم اور سِلوَط دونوں ہی میرے بازو ہو۔ اگلے سال وہ بھی نرسنگ ایجوکیشن کے لیے کراچی آجائے گی، تو میری دونوں بچّیاں ایک ساتھ ہی رہیںگی۔ پھر سلطنت کے بابا اس کا داخلہ کروا کے، ہاسٹل وغیرہ دیکھ کر مطمئن ہو کر گلگت واپس لَوٹ گئےاور سلطنت بھی خُوب دل لگا کر تعلیم حاصل کرنے لگی۔

فون کی بیل بجی تو سلوط موبائل پر نام دیکھتے ہی شکایتی انداز میں بولی’’کیسی ہو…؟ کراچی جاکر بہن کو بھول گئی ناں…‘‘’’نہیں ،بالکل نہیں۔یاد آتی ہو، جب ہی تو ہر ہفتے کال کرتی ہوں۔‘‘’’جی نہیں، آخری بار مَیں نے ہی کال کی تھی اور محترمہ نے جلد ی جلدی فون بند کر دیاکہ پیپر کی تیاری کرنی ہے۔‘‘ ’’اچھا، اچھا! اب زیادہ حساب کتاب اور شکوے مت کرو۔ مَیں نے یہ بتانے کے لیے فون کیا ہے کہ مَیں سیمسٹر بریک میں گاؤں آرہی ہوں۔سچّی، تم سب بہت یاد آتے ہو، چھے ماہ، چھے سال لگتے ہیں۔‘‘’’ارے واہ! کب آرہی ہو؟ اب تو مجھ سے انتظار ہی نہیں ہوگا۔ ویسے ایک بات تو ماننی پڑے گی کہ اتنے کم وقت میں تم نے کتنا کچھ اچیِو کرلیا ہے، میری ٹاپربہن۔ اب یہ بتاؤ تِھیسز کے لیے کیا موضوع سوچا ہے؟‘‘’’مَیں سوچ رہی ہوں فیوژن کلچر پر کام کروں۔پاکستان میںاس طرح کے ڈیزائن بہت پسند کیے جاتے ہیں۔ پتا ہے، ہم لوگ جو سیپیاں، گھونگے، دھاتی سکّے،جھمکیاں اور موتی وغیرہ استعمال کرتے ہیں ،شہر میں انہیں بہت پسند کیا جاتا ہے۔‘‘’’بہت زبردست آئیڈیا ہے۔ اچھا اب مجھے کھانا پکانا ہے، بعد میں بات کرتی ہوں۔‘‘

سیمسٹر بریک شروع ہوا اور سلطنت نے گھر کی راہ لی۔ آج پورے چھے مہینے بعد وہ گھر لَوٹ رہی تھی۔ ٹیکسی سے اُترتے ہوئے اس نے اپنی چادر درست کی، سامان نکالا اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔’’سرپرائز…‘‘بابا کو دیکھتے ہی وہ خوشی سے چلّائی۔’’آگیا میرا ڈیزائنر بچّہ۔ کیسی ہو بیٹا؟ پہلے بتا دیتیں تو مَیں بس اڈّے آجاتا۔‘‘’’بتا دیتی تو آپ کے اور سلوط کے چہرےپر یہ چمک کیسے دیکھتی۔ ‘‘ ’’اچھا تم فریش ہوجاؤ، مَیں کھانا لگاتی ہوں۔‘‘ سلوط نے کچن کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا۔’’نہیں مَیں تھوڑا آرام کروں گی۔تم بس چائے بنا دو۔‘‘’’بچّیو!مَیں بازار سے سودا لےکر آتا ہوں۔‘‘یہ کہہ کر باباتو سودا لینے چلے گئے اور سلوط چائے بنانے لگی۔

سلوط کمرے میں چائے لے کر داخل ہوئی تو سلطنت سو چُکی تھی۔ شام میں اُٹھی تو سلوط نے کہا ’’مَیں چائے لے کر آئی تو تم سو چُکی تھیں، تومَیں نے اُٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔ ‘‘’’ہاں، مجھے لگ رہا ہے طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ شاید سفر کی وجہ سے تھکاوٹ ہو گئی ہے۔‘‘سلطنت نے آنکھیں مَلتےہوئے اور پھرجیسے ہی چائے کا کپ پکڑنے کے لیےہاتھ آگے بڑھایا توبازو میں ایک ٹیس سی اُٹھی اور وہ کراہ کے رہ گئی۔’’ارے!کیا ہوا…؟؟‘‘’’کچھ دن پہلے بازو میں جھٹکا آگیا تھا۔ویسے مجھے سینے میں بھی کچھ گٹھلی سی بھی محسوس ہورہی ہے۔تو کبھی کبھی درد اُٹھتا ہے۔‘‘’’ہائیں،کب …؟اور تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا…؟‘‘سلوط نے اظہارِ برہمی کیا۔’’یہی کوئی دو مہینے پہلے۔‘‘’’ تم نے ڈاکٹر کو دکھایا؟‘‘’’ارے بھئی! ذرا سا کھنچاؤ ہی ہے۔ مَیں نے گولی لے لی تھی اوربام بھی لگا یا تھا۔تم نرسنگ کورس کیا کر ہی ہو، ہر کسی کو مریض ہی سمجھنےلگی ہو۔سلطنت نے بہن کو چھیڑتے ہوئے کہا۔’’پھر بھی تمہیں ڈاکٹر کو دِکھا نا چاہیے تھا۔‘‘’’ارے بھئی، لمبے سفر سے آئی ہوں تو شاید درد بڑھ گیا ہے۔

تم یہ سب چھوڑو اور بتاؤ اب آگے کا کیا ارادہ ہے…؟‘‘ ’’ارادہ یہ ہے کہ مَیں نرسنگ میں گریجویشن کے لیے تمہارے ساتھ کراچی چلوں گی۔ یہ دیکھو،میرا ایڈمیشن بھی ہوگیا ہے۔‘‘’’واہ! زبر دست، دیکھو وقت کتنی جلدی گزر جاتا ہے ناں۔ ایک سال پہلے مَیں کراچی گئی تھی اور اب تم… ‘‘’’ ہاں، لیکن کراچی جانے سے پہلے ہمیں ایک بہت ضروری کام کرنا ہے۔‘‘ ’’وہ کیا؟‘‘ ’’ وہ یہ کہ سلطنت میڈم، آپ کل ہی میرے ساتھ چیک اَپ کے لیےمیرے ہاسپٹل چلیں گی۔‘‘ سلوط نے جیسے فیصلہ صادرکردیا۔

اگلے روز وہ اسپتال گئیںتو ڈاکٹر نے دیکھتے ہی تشویش سے پوچھا ’’یہ گٹھلی کب سے ہے؟‘‘’’قریباًدو ماہ سے۔‘‘ ’’اورآپ اب دکھا رہی ہیں۔آپ تو پڑھی لکھی ہیں، اس طرح کی کوتاہی کیسے کرسکتی ہیں۔ کیا آپ کو اندازہ نہیں کہ یہ بریسٹ کینسر بھی ہوسکتا ہے؟‘‘’’مگر مَیں تو صرف21 سال کی ہوں اور میری فیملی میں پہلے کبھی کسی کو کینسر نہیں ہوا؟‘‘’’سلوط! تم تو خود نرسنگ پڑھ رہی ہو۔تم نے بہن کو گائیڈ نہیںکیا؟‘‘ ڈاکٹر نے سلوط کوسرزنش کی۔’’میڈم! آج مَیں ہی اسےلائی ہوں۔ یہ تو اب بھی آنے پررضامند نہیں تھی۔حالاں کہ اسے خود بھی پتا ہونا چاہیے تھاکہ اگر سینے میں غیر معمولی سوجن یا گٹھلی محسوس ہو تو ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے اور مشورے کے مطابق میموگرام ، ایکسرے وغیرہ کروانا چاہیے۔‘‘’’سلطنت !ضروری نہیں کہ کینسر موروثی ہو، پاکستان کیا دنیا بھر میں یہ مرض بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ کسی بھی عمر کی خاتون کو ہوسکتا ہے۔ تمہیں پتا ہے، پاکستان میں ہر9 میں سے ایک عورت بریسٹ کینسر میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ تمہیں لاپروائی نہیں کرنی چاہیےتھی۔خیر، تم فوراً بائیوآپسی کروا کر مجھےرپورٹس دکھاؤاور ہاں،کینسر سے آگہی کا یہ معلوماتی پرچہ بھی لے جاؤ، خود بھی پڑھنا اور اپنی سہیلیوں کو بھی دینا ۔‘‘’’ٹھیک ہے میم۔‘‘یہ کہہ کر دونوں گھر آگئیں۔

2018ء میں بریسٹ کینسر کے تقریباً ڈھائی ملین کیسز رپورٹ ہوئےتھے۔ یعنی ہر4 میں سے ایک خاتون اس کینسر کا شکارہوئی۔ علامات ہوں یا نہیں ،خواتین کو ہر سال چیک اَپ کروانا چاہیے۔ خود گھر پر بھی چیک کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر یا قریبی عزیز سے بات کرتے ہوئے جھجھکنا یا شرمانا نہیں چاہیے۔ (کتابچہ پڑھتے ہوئے سلطنت دروازہ کھلنے کی آواز پر چونکی)’’ میری رپورٹس لائی ہو؟‘‘’’ ہاں‘‘’’سنو! میری نقاہت بڑھتی جارہی ہے۔لگتا ہے تمہاری میڈم کی دواسے مجھے فائدہ نہیں ہو رہا۔‘‘ ’’کل چلیں گے میڈم کے پاس۔‘‘ سلوط نے منہ پھیر کر آنسو روکتے ہوئے کہا۔’’اچھا میری رپورٹ کیا آئی؟‘‘’’مجھے نہیں پتا، اب مجھے سونے دو ایک تو اتنی گرمی ہے باہراور آتے ہی تمہارے سوال شروع۔‘‘ سلوط نے سلطنت سے نظریں چُراتے ہوئے کہا۔

’’سلوط آپ جانتی ہیں ناں آپ کی بہن کو بریسٹ کینسر ہے۔ کاش کہ اُس نے لاپروائی کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا۔ ‘‘ڈاکٹر نے سلطنت کی رپورٹ دیکھتے ہوئے کہا۔’’اب کیا کرنا ہے میم؟‘‘’’پہلے دوائیں پھر کیمو۔بعض مریض دوا اور پرہیز ہی سے ٹھیک ہوجاتے ہیں،مگر بد قسمتی سے سلطنت کے کیس میں ایسا نہیں ہوگا۔ اس کا کیس اتنا پیچیدہ ہے کہ شاید7 سے زائد کیمو کروانی پڑیں۔ اب آپ اپنے والد اور بہن سے بات کریںاور انہیں صورتِ حال سے آگاہ کریں۔‘‘آج وہ بوجھل سی گھر لَوٹی۔ جانتی تھی کہ بابا اور سلطنت کے لیے سچائی تسلیم کرنا بہت مشکل ہوگا اور ایسے حالات میں اسے ہی دونوں کی ڈھال بننا ہوگا۔

سو، اس نے گھر پہنچتے ہی بنا وقت ضایع کیے بابا اور سلطنت کو بیماری کے بارے میں بتا دیا۔’’نہیں، مَیں کوئی علاج نہیں کرواؤں گی۔ جب مرنا ہی ہے، تواتنی تکلیف کیوں برداشت کروں۔ مَیں نے سُنا ہے کیمو تھراپی بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔‘‘سلطنت نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ ’’میری بہن! زندگی ایک نعمت ہےاور آزمائش توہر ایک کی زندگی میں آتی ہے،جو اس آزمائش پر پورا اترتا ہے ،اللہ اس پہ زندگی آسان کر دیتا ہے۔تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے کتنی تخلیقی صلاحیتیں دی ہیں،تمہیں توابھی پاکستان کی ٹاپ ڈیزائنر بننا ہے اور ابھی سے ہار مان گئیں۔ ‘‘’’ صلاحیتیں دیں تو کیا ہوا، بیماری بھی تو مجھے ہی دے دی ۔ 

میرے اتنے حسین سنہرے ،لمبے بال نہیں رہیں گے۔ گلابی رنگت سیاہ ہو جائے گی۔تم لوگ جاؤ اور مجھےتنہا چھوڑ دو۔‘‘اس نے اپنا منہ دونوں ہاتھوں سے چُھپا لیا اور چھوٹے بچّوں کی طرح رونے لگی۔ ’’ایسا نہیں کہتے میری بچّی۔ اللہ تو رحمٰن ہے،اس سے شکوہ نہیں کرتے۔ اورایک بیماری سے زندگی ختم تھوڑی ہوتی ہے۔تم تو ویسے بھی پہاڑی ہو، ہمارے دل چٹان کی طرح مضبوط ہوتے ہیںاور ایسے مضبوط دلوں کا ایمان کم زور نہیں ہوتا۔‘‘ بابا نے سلطنت کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔ ’’پر بابا!مَیں یہ سب فیس نہیں کر سکوں گی۔ پہلے جو لوگ مجھ پر رشک کرتے تھے، اب وہ مجھ سے ہم دردی کریں گے۔‘‘ 

’’سلطنت! تم دیکھنا، جب تم ٹھیک ہوجاؤگی تو سب تمہیں ’’وارئیر‘‘ کہیں گے۔یاد ہے ،جب مَیں تم سے کہتی تھی کہ ہم کبھی اس چھوٹے گاؤں سے باہر نہیں نکل پائیں گے، اپنے خوابوں کی تعبیر کبھی نہیں حاصل کرپائیں گے، تو تم ہی کہتی تھیں کہ ناممکن کچھ نہیں۔تو اب کیوں حوصلہ ہار رہی ہو؟‘‘سلوط نے بہن کی ہمّت بندھاتے ہوئے کہااورپھر کچھ ہی دنوں میں سلطنت کا علاج شروع ہو گیا۔

’’دیکھیں ،کیمو تو شروع ہو گئی ہے، لیکن اب سلطنت کو آپ لوگوں کی اور بھی زیادہ توجّہ کی ضرورت ہے کہ دورانِ علاج اکثر مریض ڈیپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ‘‘ ڈاکٹر نے سلطنت کی رپورٹس دیکھتے ہوئے سلوط اور اس کے بابا کوسمجھایا ۔ ’’یا اللہ! مجھےکس گناہ کی سزا مل رہی ہے؟ تُو نے مجھے پیداہی کیوں کیا؟‘‘ سلطنت شیشہ دیکھتے ہوئےچلّائی تو بابا اس کے کمرے میں دَوڑے چلے آئے۔’’ اللہ! میری بچّی پر رحم کر۔ بیٹا! ہمّت نہیں ہارو، تم آج بھی بہت خُوب صُورت ہو،بال دوبارہ بڑھ جائیںگے، رنگت بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ تم تو میرا بہادر بچّہ ہو ناں، بس حوصلہ رکھو۔‘‘دن گزرتے گئے اور ایک دن سلطنت جب اسپتال سےلَوٹی تو اس کی بیسٹ فرینڈ کا وائس میسج آیا ہوا تھا۔ ’’میڈم کب ملاقات ہوگی آپ سے؟ جلدی ٹھیک ہو جائیں ، وی آل مِس یووارئیر۔

اچھا سُنو، اب تم پارٹی دینے کی تیّاری کروکہ مَیں نے تم سے بنا پوچھے ہی تمہارے فرسٹ سیمسٹرکا اسائنمنٹ انٹرنیشنل ینگ ڈیزائنرزمقابلے میں بھیج دیا تھااور وہ منتخب ہو گیا ہے۔ پوری یونی وَرسٹی میں تمہاری ہی باتیں ہو رہی ہیں، تمہارے کام کو سراہا جا رہا ہے اور اس سے بھی زیادہ تمہاری ہمّت کو کہ کیسے بہادری سےتم ایک مہلک بیماری کاسامنا کر رہی ہو۔ کل ڈِین بھی تمہیں پوچھ رہے تھے۔ ہوسکتا ہے وہ تم سے ملنے بھی آئیں۔‘‘دوست کا میسج سُننے کے بعد سلطنت سجدہ ریز ہوگئی اور اللہ سے نا شُکری کی معافی مانگنے لگی۔ اس کی سِسکیوں کی آواز سُن کر بابا بھی اندرآگئے تو اس نے انہیں پوری بات بتائی۔’’بابا ہم کتنی جلدی حوصلہ ہا ر جاتے ہیںناں…؟؟ مَیں کتنی نا شُکری ہوں کہ ذرا سی آزمائش میں اللہ پاک سے شکوے کرنے لگی، جیسے محبت ،پیار نچھاور کرنا صرف اللہ ہی کا فرض ہو۔ 

ہم جو چاہیں ،اللہ سے مانگ لیتے ہیں اورچاہتے ہیں کہ بنا انتظار کیے دُعا قبول ہوجائے، ورنہ ناراض ہوجاتے ہیں، ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ ہمارا آقا، ہمارا مالک ہے اور ہم اُس کے بندے۔ ہم تو اس کی عبادت تک ویسے نہیں کرتے ،جیسا اس کا حق ہے۔اب چاہے مَیں ٹھیک ہوں یا نہیں، پر مَیں کبھی اپنے مالک کی نا شُکری نہیں کروں گی۔‘‘’’کس نے کہا کہ تم ٹھیک نہیں ہو گی…؟؟ابھی مَیں ڈاکٹر سے مل کر آرہی ہوں، وہ کہہ رہی تھیں کہ تم نے کینسر کو شکست دے دی ہے۔ بس دو ٹیسٹس کی رپورٹس اور آجائیں تو کنفرم ہوجائے گا۔ ‘‘ سلوط نےچمکتی آنکھوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے خوش خبری سُنائی۔

’’مِس سلطنت! اب آپ کو صرف فالو اَپ کے لیے ہی آنا ہوگا۔ یہ ایک کٹھن سفرتھا، جو آپ نے ہمّت وحوصلے کے ساتھ مکمل کیا۔ آپ تمام ینگ کینسر پیشنٹس کے لیے ایک مثال ہیں۔ویسے ایک میڈل تو آپ کی بہن کو بھی ملنا چاہیے، جواتنی حوصلہ مند ہیں کہ انہوں نے آپ کوبھی ہارنے نہیں دیا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے ڈاکٹر نے سلوط کو تھپکی دی اور چند دنوں بعد سلطنت نے یونی ورسٹی پھر سے جوائن کرلی، جہاں پوری یونی ورسٹی نےاس کا پُر تپاک استقبال کیاکہ کچھ ہی روز بعد وہ ایوارڈ فنکشن کے لیے پیرس جا رہی تھی۔ جہاں سے ُاسےاس کے خوابوں کی ایک نئی تعبیر ملنی تھی۔