آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پی ڈی ایم نے پاور شو دکھایا، عوام کے مسائل پر بات کی، تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے سوال پی ڈی ایم کے پہلے جلسہ کو کتنا ریٹ کریں گے؟ کے جواب میں تجزیہ کاروں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا یہ پہلا جلسہ تھا انہوں نے پاور شو دکھانا تھا،دکھایا، عوام کے مسائل پر بات کی،حکومتی رویئے سے ایسا لگنا چاہئے کہ واقعی آپ عوام کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

مہنگائی پر قابو پانے کے لئے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں۔تجزیہ کارارشاد بھٹی نے کہا کہ جلسے میں زبان انتہائی نا مناسب تھی ۔وزیراعظم اپوزیشن کو بالکل این آر او نہ دیں مگر عوام کو مہنگائی سے این آر او دے دیں اور اپنے نااہلوں اور نالائقوں سے این آر او دلوادیں۔

اس جلسے سے زیادہ میرے لئے وہ لیڈ ی ہیلتھ ورکرز اہم ہیں جو یہاں آکر چوتھے روز سے بیٹھی ہوئی ہیں ۔ اس حکومت کو خدا کا خوف کرنا چاہئے ان کو سہولتیں فراہم کرنا چاہئیں اور مذاکرات کرنے چاہئیں۔تجزیہ کارمحمل سرفرازنے کہا کہ کل جلسے میں ایک بد انتظامی تھی لیڈر شپ تاخیر سے پہنچی تقاریر رات دو بجے تک چلی ہیں آخر میں مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر تک کافی لوگ جاچکے تھے۔

پی ڈی ایم کا یہ پہلا جلسہ تھا انہوں نے پاور شو دکھانا تھا اور انہوں نے دکھایا۔ اپوزیشن نے عوام کے مسائل پر بات کی مجموعی طور پر یہ ایک اچھا جلسہ تھا۔جمہوری حکومتوں کو اپنے پانچ سال پورے کرنے چاہئیں۔

تجزیہ کارمنیب فاروق نے کہا کہ جس طرح یہ جماعتیں اکٹھی تھیں اور ٹیک آن کرنے کی کوشش کی ۔مجھے جلسے کے مجمع نے متاثر نہیں کیاکیونکہ گوجرانوالہ مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے اور اتنی جماعتیں ساتھ تھیں۔مجھے بلاول بھٹو نے بڑا مایوس کیا ہے انہوں نے ایسی باتیں کی ہیں جو کسی مہذب شخص کو نہیں کرنی چاہئیں۔

حکومتی رویئے سے ایسا لگنا چاہئے کہ واقعی آپ عوام کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔مہنگائی پر قابو پانے کے لئے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں۔تجزیہ کاربینظیر شاہ نے کہا کہ جلسے میں کورونا کے ایس او پیز فالو نہیں کئے جاسکے۔

رہنماؤں کو پہنچنے میں تاخیر ہوئی اسٹیج سے اعلان ہوسکتا تھا مگر نہیں کیا گیا۔اگر آئندہ ایک دو ہفتوں میں گوجرانوالہ میں کورونا کے کیسز بڑھے تو اپوزیشن کی ذمہ داری ہوگی۔ وہ ملبہ حکومت پر نہیں ڈال سکتے کیونکہ ان کے لئے ایس او پیز بنائے گئے تھے اس کو فالو کرنا چاہئے تھا۔

خیر ایس او پیز تو آج ٹائیگر فورس کے کنونشن میں بھی فالو نہیں ہوئے ۔ ایس او پیز تو پی ٹی آئی کہ انصاف لائرزفورم پر بھی فالو نہیں ہوئے۔اپوزیشن کی طرف سے ان حالات سے نمٹنے کے لئے کوئی متبادل پلان پیش نہیں کیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید