انگلینڈ کے ریزیڈنٹ ڈاکٹر 5 روزہ ہڑتال ختم ہونے کے بعد کام پر لوٹ آئے۔
گزشتہ ہفتہ فلو کے بدترین سیزن کے باوجود حکومت ہڑتال ملتوی کرانے کی کوششوں میں ناکام رہی تھی۔
برٹش میڈیکل ایسوی ایشن کے رہنما ڈاکٹر جیک فلیچر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر بہتر تنخواہ اور سلوک کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں، جبکہ ہیلتھ سیکریٹری ویس اسٹریٹنگ نے کہا ہے کہ میں نئے سال میں ڈاکٹروں کا تنازع ختم ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں۔
ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت تنخواہ میں اضافے کا طویل المدت پروگرام اور ڈاکٹروں کو اسپیشلسٹ بننے کے لیے تربیت اور جاب سیکورٹی فراہم کرے۔
برٹش میڈیکل ایسوی ایشن کے مطابق مارچ 2023 سے اب تک 14 بار برطانوی ڈاکٹرز ہڑتال کرچکے ہیں، جس میں 65 فیصد ڈاکٹر حصہ پر رہے ہیں۔
ڈاکٹروں کی یونین کا موقف ہے کہ 2008 کے مقابلے میں ان کی تنخواہ اب کئی گنا کم ہے، رواں برس ریزیڈنٹ ڈاکٹروں (جونئیر ڈاکٹروں) کی تنخواہ میں 4 سے 5 فیصد اضافہ ہوا۔
طبی ماہرین کے مطابق ہڑتال کے اثرات نئے سال کے موقع پر اور بعد میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔
گزشتہ ہفتہ وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے ہڑتال کو خطرناک اور سراسر غیر ذمہ دارانہ قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی طرف سے مزید ہڑتالوں کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔