آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا کی وجہ سے سے جہاں اور تمام شعبہ ہائے زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ وہیں تعلیمی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔انٹر اور اے لیول کے بعد طلباء کو جامعات میں داخلہ لینا ہوتا ہے۔ بزنس مینجمنٹ اور انجینئرنگ یونیورسٹیز نے بروقت حکمت عملی تیار کر کے طلباء کو ذہنی کوفت سے بچا لیا۔ اور اب وہاں داخلے مکمل ہوکر تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں۔مگر میڈیکل کالجز اور جامعات میں داخلے آجکل زیر بحث ہیں۔ اور طلباء کے لئے ذہنی اذیت کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔خاص طور پر سندھ کے طلباء کے لئے۔ ہمیشہ یہ داخلے صوبائی سطح پر میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایپٹیٹیوڈ ٹیسٹ( MDCAT) جس کا انعقاد نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) کے ذریعے ہوتا تھا اور یہ تمام مراحل پی ایم ڈی سی(PMDC) پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی سربراہی میں صوبائی سطح پر انجام دئے جاتے تھے۔ مگر پچھلے سال یعنی 2019 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے(PMDC) پی ایم ڈی سی کو ختم کیا گیا اور اس کی جگہ نو افراد پر مشتمل پاکستان میڈیکل کمیشن (PMC) کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس پر اس وقت کے مشیر صحت نے فرمایا کہ یہ قدم اٹھانے کی وجہ یہ ہے کہ" دنیا آگے نکل گئی ہے جب کہ ہم کئی دہائیوں پیچھے پرانے انداز میں میڈیکل کی تعلیم دے رہے ہیں اب ضرورت ہے کہ میڈیکل کی تعلیم کو آزاد کریں اور دوسرے ملکوں کے نقشے قدم پر چلیں."(جیسے بقیہ سارے علوم میں ہم دنیا کی سربراہی کر رہے ہیں )۔جبکہ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق اس آرڈنینس کے آنے سے کافی عرصے پہلے تمام پرائیویٹ میڈیکل یونیورسٹیز مالکان کی میٹنگ ہوئی تھی جس میں امریکہ سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیت نے بطور خاص شرکت کی تھی۔ جس میں یہ طے کیا گیا اب نیا نظام لایا جائے جس میں میڈیکل یونیورسٹیز کو اپنی فیس میں تبدیلی کرنے، فیکلٹی کی تعداد کے تعین اور سیلیبس بنانے میں مکمل خود مختاری حاصل ہو۔ اسی میٹنگ کے بعد صدارتی آرڈیننس نافذ کیا گیا۔اس آرڈنینس کو غیر قانونی کہا گیا لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نا ہوسکے۔ جس کا شاخسانہ یہ رہا کہ صوبائی اور وفاقی سطح پہ داخلہ ٹیسٹ کے الگ الگ انعقاد کا اعلان کیا گیا اور صوبائی سطح پہ ایک تاریخ دی گئی پھر واپس لیا گیا پھر وہی تاریخ دوبارہ داخلہ ٹیسٹ کی دی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا لا کہ اسٹوڈنٹس نے عدالت سے رجوع کیا اور سوشل میڈیا پہ زبردست مہم چلائی ۔ عدالت نے اس کیس کو بغور سنا اور اس پر اسٹے آرڑر دے دیا۔ لیکن کیا یہ مسئلہ کا حل ہے؟ یہ ادارے بنے کس لیے ہیں کہ ان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے سے عوام ذہنی اذیت اٹھائیں اور عدالت سے چھوٹے چھوٹے معاملات میں رجوع کریں ۔ ابھی معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا ہے کہ ایک اطلاع یہ بھی ملی ہے کہ کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج جوکے عباسی شہید اسپتال سے منسلک ہے اس کے امتحانات یونیورسٹی میں ہوتے ہیں۔ جہاں کی ڈین فیکلٹی آف میڈیسن کالج کی پرنسپل ہیں۔ کسی ذاتی چپقلش کی وجہ سے انہوں نے اسٹوڈنٹس کے امتحانات روکے ہوئے ہیں۔ دو سال ہونے کو آئے امتحانات منعقد نہ ہو سکے۔ ایسے میں وہ اسٹوڈنٹس بھی ہیں جو پاس ہوکر ڈاکٹر بن جاتے اور اپنی پریکٹس شروع کرچکے ہوتے۔ کچھ پہلے سال سے تیسرے میں آ چکے ہیں کچھ دوسرے سال سے چوتھے سال میں آ چکے ہیں ۔کچھ تیسرے سال سے پانچویں سال میں آ چکے ہیں ۔ لیکن امتحانات نہ ہونے کی وجہ سے ان کے تعلیمی سال ضائع ہو رہے ہیں۔ آخر اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ PMC یا PMDC یا صوبائی ادارہ ۔ والدین اور طلباء دونوں بری طرح پریشان ہیں ۔ہے کوئی پرسان حال جو ان کے درد کو سمجھے؟

minhajur.rab@janggroup.com.pk

تازہ ترین