آپ آف لائن ہیں
پیر4؍جمادی الثانی 1442ھ 18؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مبینہ اغوا بدسلوکی پر احتجاج، سندھ پولیس کے آئی جی سمیت تمام افسران نے چھٹی مانگ لی، آرمی چیف کے اقدامات اور بلاول کی یقین دہانی پر عملدرآمد موخر

مبینہ اغوا بدسلوکی پر احتجاج، سندھ پولیس کے آئی جی سمیت تمام افسران نے چھٹی مانگ لی


کراچی (اسٹاف رپورٹر،جنگ نیوز) مبینہ اغوا،بد سلوکی پر احتجاج،سندھ پولیس کے آئی جی سمیت تمام افسران نےچھٹی مانگ لی۔

چھٹی کی درخواستیں دینے والوں میں آئی جی سمیت 3ایڈیشنل آئی جیز، 25ڈی آئی جیز، 30ایس ایس پیز، متعدد ایس ایچ اوز بھی شامل، کیپٹن (ر) صفدر کیس کے انویسٹی گیشن افسر نے بھی چھٹی کی استدعا کردی، پولیس افسران کاکہناہےکہ کیپٹن (ر) صفدر کیس میں بے عزت اور ہراساں کیا گیا۔

دوسری جانب آرمی چیف کے اقدامات اور بلاول کی یقین دہانی پرسندھ پولیس نے چھٹیوں پر جانے کے فیصلے پر عملدرآمد موخر کردیا۔

سندھ پولیس کاسماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہناہےکہ آئی جی سندھ نے اپنی چھٹی کی درخواست موخر کرنے کا فیصلہ کیاہے اور پولیس افسران کو بھی 10روز کے لئے درخواست موخر کرنے کی ہدایت کردی۔

پیغام میں کہاگیاکہ فیصلہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں کیا ،انکوائری کا نتیجہ آنے تک چھٹیوں پر نہ جانے کا فیصلہ کیاہے۔

تفصیلات کےمطابق کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر مقدمے اور گرفتاری کیلئے پولیس حکام پر دباؤ کے معاملے پر انسپکٹر جنرل ( آئی جی) سندھ سمیت اعلیٰ پولیس افسران نے چھٹیوں پر جانے کی درخواستیں دیدیں۔

آئی جی سندھ، 3 ایڈیشنل آئی جیز، 25 ڈی آئی جیز اور 30 ایس ایس پیز نے چھٹی کی درخواست میں لکھا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایف آئی آر کے واقعے میں پولیس افسران کو بے عزت اور ہراساں کیا گیا۔

افسران سے ہوئے ناروا رویے پر تمام پولیس افسران کو دھچکا لگا،رخصت کی درخواست دینےوالوں میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سندھ مشتاق مہر، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز سندھ ثاقب اسماعیل میمن، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) اور کراچی پولیس چیف پولیس غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس، ڈی آئی جی ایڈمن (کراچی) امین یوسف زئی، ڈی آئی جی جنوبی (کراچی) جاوید اکبر ریاض، ڈی آئی جی ایسٹ (کراچی) محمد نعمان صدیقی، ڈی آئی جی ویسٹ (کراچی) کیپٹن (ر) عاصم خان، ڈی آئی جی سی آئی اے (کراچی) محمد عارف حنیف، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد، ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم شیخ، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ قمر الزمان، ڈی آئی جی سکھر فدا حسین مستوئی، ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب، ڈی آئی جی میرپورخاص ذوالفقار لاڑک، ڈی آئی جی نوابشاہ مظہر نواز شیخ بھی شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ سندھ کے ضلعی پولیس افسران نے بھی چھٹی پر جانے کا فیصلہ کیا اور مختلف علاقوں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پیز) نے چھٹی کی درخواستیں دے دیں۔

سکھر ، حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ اور نوابشاہ رینج میں بھی تمام آپریشنل ڈی آئی جیز چھٹیوں کی درخواست دے چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر درخواست منظور ہونے کا انتظار کیے بغیر ہی چھٹی پر جا بھی چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے افسران جن میں راجہ عمر خطاب اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد بھی چھٹیوں پر چلے گئے، ڈی آئی جی سیکورٹی اینڈ ایمرجنسی ڈویژن مقصود احمد نے بھی 30روز کی چھٹیوں کی درخواست دے دی اور ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب بھی چھٹیوں پر چلے گئے ، ایڈیشنل آئی جی حیدرآباد ڈاکٹر جمیل احمد بھی چھٹیوں کی درخواست دینے والوں میں شامل ہیں۔

کراچی کے جس علاقے (ایسٹ) میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر مقدمہ درج ہوا ہے وہاں کے ایس ایس پی بھی چھٹی پر چلے گئے ہیں جب کہ ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈاکٹر فرخ جن کے پاس کیپٹن صفدر کا کیس تھا وہ بھی چھٹی پر چلے گئے ہیں۔ 

ایس ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) عبداللّٰہ احمد نے بھی چھٹی کی درخواست دی ہے جب کہ ایس ایس پی ساؤتھ شیراز نذیر ، ایس ایس پی ویسٹ انویسٹی گیشن حسام بن اقبال، ایس ایس پی کورنگی اور ایس ایس پی سینٹرل عارف راؤ اسلم نے بھی چھٹیوں کی درخواست پر دستخط کردیے ہیں۔

ایس ایس پی تھرپارکر حسن سردار نیازی، ایس ایس پی شہداد کوٹ عمران قریشی، ایس ایس پی حیدر آباد عدیل چانڈیو، ایس ایس ایس پی سکھر عرفان سموں بھی چھٹیوں کی درخواست دینے والوں میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کراچی میں ایس ایچ او شارع نورجہاں نے بھی چھٹیوں کی درخواست دے دی ہے۔

ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس نے اپنی چھٹیوں کی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ کیپٹن(ر) صفدرکے خلاف ایف آئی آرکے واقعےمیں پولیس افسران کو بے عزت کیا گیا اور ایف آئی آر کے معاملے میں افسران سے ناروا رویے پر تمام پولیس افسران کو دھچکا لگا۔

اہم خبریں سے مزید