آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پختونخواہ میں کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

پاکستان کی تاریخ میں جب بھی عوام کسی حکومت کیخلاف سڑکوں پر نکلے ہیں تو اس حکومت کا یا تو خاتمہ ہوا ہے یا پھر اس کیلئے مشکلات میں بے پنا اضافہ ہوا ہے، وزیر اعظم عمران خان کی سونامی و انقلاب کے انتخابی دعوؤں اور اعلانات کے برعکس تحریک انصاف کی سوا دو سالہ حکومت کے بعد اس وقت برق رفتاری سے بڑھتی ہوئی مہنگائی نے جو تباہی مچائی ہے، خاص کر گزشتہ 6ماہ کے کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام بے روزگاری اور غربت کے جس عذاب میں مبتلا ہوئے ہیں اس نے عوام میں حکومت کیخلاف منفی تاثر مزید گہرا کردیا ہے جس کے باعث حکومتی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔

ایک طرف عوام غربت ،مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے فریاد کناں ہیں تو دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے ملک کی اپوزیشن جماعتیں تحریک انصاف حکومت کیخلاف نہ صرف صف آرا ہیں بلکہ انہوں نے گجرانوالہ اور کراچی میں تاریخی جلسوں کے ذریعے’’ حکومت ہٹاؤ ‘‘ احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے، اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک اور احتجاجی جلسوں کا سلسلہ صرف پنجاب اور سندھ تک محدود نہیں رہیگا بلکہ اسلام آباد لانگ مارچ سے قبل بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی پی ڈی ایم کے زیر اہتمام اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ جلسوں اور احتجاج کا شیڈول جاری کیا گیا ہے۔

پشاور میں22نومبر کو اپوزیشن کا جلسہ ہوگا جس سے یقیناً خیبر پختونخوا میں بھی سیاسی پارہ ہائی ہوگاچنانچہ صوبائی حکومت نے بھی اپوزیشن سے نمٹنے کیلئے اپنی صف بندی شروع کردی ہے اور حکومتی ترجمان سمیت صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی کو اپوزیشن کے الزامات اور لفظی حملوں کا جواب دینے کیلئےمتحرک کردیا گیا ہے جس کی قیادت وزیر اعلیٰ محمود خان خود کررہے ہیں جہاں تک خیبر پختونخوا میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک اور اپوزیشن اتحاد کا تعلق ہے تو پی ڈی ایم کے عہدوں کی تقسیم کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے مابین باہمی بد اعتمادی کا خاتمہ ہوگیاہے، خاص کر عوامی نیشنل پارٹی جو ابتدا میں تذبذب اور الجھاؤ کا شکار نظر آرہی تھی اب اس کی مرکزی اور صوبائی قیادت ایک صف پر دکھائی دے رہی ہے اگرچہ اے این پی نے پی ڈی ایم کے قیام میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ 

تاہم شروع میں اس کے صوبائی صدر ایمل ولی خان مولانا فضل الرحمان کیخلاف بیانات دے کر پی ڈی ایم سے ایک قسم کی لاتعلقی ظاہر کر تے رہےاور ان کا کہنا تھا کہ اے این پی کسی کو بھی اپنا کندھا استعمال کرنے نہیں دے گی تاہم بعد ازاں جب اے این پی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین کو پی ڈی ایم کا سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا گیاتو اے این پی کی صوبائی قیادت نے نہ صرف مخالفانہ بیانیہ ترک کردیا بلکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے بھر پور تیاریاں بھی شروع کردی ہیں اس مقصد کیلئے اے این پی تھنک ٹینک اور مرکزی کابینہ کا اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا جس کے بعد قلعہ سیف اللہ میں ایک بڑے جلسہ کا بھی انعقاد کیا گیا بلکہ اب تو ایمل ولی خان نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اے این پی 22نومبر کے پشاور جلسہ کی میزبانی کیلئے بھی تیار ہے۔ 

اگر جمعیت علمائے اسلام کا جائزہ لیا جائے تو نیب کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کےاثاثوں کی انکوائری کی منظوری دینے کے بعد ڈی جی نیب کا چیئرمین نیب کو مولانا کی طلبی کانوٹس ارسال کرنے کی خبروں پر جے یو آ ئی نے جو شدید ردعمل دیا اس کے نتیجہ میں نیب کو نہ صرف پیچھے ہٹنا پڑا بلکہ اسے وضاحت دینی پڑی کہ مولانا کیخلاف انکوائری ضرور ہورہی ہے مگر انہیں بلانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا البتہ جب ضرورت پڑے گی تو انہیں طلبی نوٹس ارسال کیا جائیگا ، جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخوا 22نومبر کے پشاور جلسہ کیلئے نہ صرف کافی جارحانہ انداز میں متحرک ہے بلکہ یونین کونسلوں کی سطح پر اس نے رابطہ عوام مہم کے ذریعے بھر پورتیاریاں شروع کررکھی ہیں ، پشاور میں منعقدہ صوبائی جنرل کونسل اور مجلس عاملہ کے اجلاسوں میں پارٹی تنظیموں اور عہدیداروں کو ہدایات اور ذمہ داریاں تفویض کردی گئی ہیں۔ 

اگر مسلم لیگ ن کی بات کی جائے تو صوبہ میں اس کی سرگرمیاں جمود کا شکار ہیں اور گزشتہ دو سالوں کے دوران لیگ ن کوئی بڑا پاور شو نہیں کرپائی ہے ، اگرچہ صوبائی صدر انجینئر امیر مقام نیب میں پیشیوں کے باوجود پارٹی کو فعال اور متحرک رکھنے کیلئے کوشاں ہیں اور انہوں نے سوات ، ملاکنڈ، ہزارہ اور شانگلہ سمیت مختلف اضلاع میں ورکرز کنونشنز کا سلسلہ شروع کررکھا ہے،جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو خیبر پختونخوا میں تاحال اس کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں ،صوبائی صدر ہمایون خان بالکل منظر سے غائب ہیں ، پارٹی کارکن اس انتظار میں ہیں کہ ملک میں سیاسی ہلچل کے باوجود ان کی صوبائی قیادت صوبہ کے سیاسی میدان میں کب نکلے گی ؟ 

بہرحال پی ڈی ایم کے زیر اہتمام پشاور میں22 نومبر کو منعقدہ جلسہ میں جمعیت علمائے اسلام، اے این پی، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور قومی وطن پارٹی کی جانب سے عوامی قوت کا اندازہ ہوجائیگا کہ کون سی پارٹی کتنے پانی میں ہے،دوسری جانب حکومتی اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی ایک مرتبہ پھرموذی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اصافہ ہورہا ہےچنانچہ پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر صوبائی دارالحکومت کے بڑے تجارتی مراکز پشاور صدر،شفیع مارکیٹ اور جناح پارک روڈ پر سینکڑوں دکانیں ، مختلف علاقوں میں 15سکول اور نصف درجن شادی ہالز سیل کر دیئے ہیں،ضلعی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ان بازاروں ،دکانوں،سکولوں اور شادی ہالوں کی جانب سے ایس او پیز کی بار بار خلاف ورزیاں کی جارہی تھیں۔ 

تاہم پشاور کی تاجر تنظیمیں اور دکاندار شکایت کررہے ہیں کہ پوری مارکیٹ میں صرف ایک دو دکانوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہ کرنے پر پوری مارکیٹ کو سیل کرنا ظلم و نا انصافی ہے ، گزشتہ سات ماہ کے دوران مکمل لاک ڈاون اور دکانوں کی بندش کے بعد آخر کب تک سلسلہ جاری رہے گا اور ہم( تاجر )کب تک اس صورت حال کو برداشت کر یں گے ؟،ویسے بھی اس وقت ملک میں بے روزگاری، مہنگائی اور غربت کیساتھ حکومت مخالف سیاسی درجہ حرارت کافی زیادہ ہے ایسے میں کاروباری سرگرمیوں پر پابندی اور بے وقت کے لاک ڈاون سے حالات مزید خراب ہوں گے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید