آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ربیع الثانی 1442ھ 5؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میر شکیل الرحمٰن بیگناہ قید، غیر قانونی مقدمہ ختم کیا جائے، مقررین

میر شکیل الرحمٰن بیگناہ قید، غیر قانونی مقدمہ ختم کیا جائے، مقررین 


کراچی / لاہور / راولپنڈی ( اسٹاف رپورٹر / نمائندگان جنگ) ایڈیٹر انچیف جنگ جیو میر شکیل الرحمٰن کی نیب کے ہاتھوں غیر قانونی گرفتاری کو 223دن گرز چکے اور وہ بیگناہ قید ہیں ، میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کیخلاف کراچی ، لاہور ، راولپنڈی ، کلرسیداں ، تلہ گنگ ، ڈھڈیال ، پنڈی گھیب، روات اورچو آخا لصہ ، جنڈ ،کہو ٹہ ، لا وہ سمیت کئی شہروں اور علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئےگئے ۔ احتجاجی مظاہرے میں سینئر صحافیوں ، جنگ جیو کے ورکرز سمیت عام شہریوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرہ میں جنگ کو جینے دو،جیو کو جینے دو،نیوز کو جینے دو،ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے،لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی،میر شکیل الرحمٰن کو رہا کرو کے نعرے بھی لگائے گئے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئےمقررین نےکہا کہ میر شکیل الرحمٰن بیگناہ قید ہیں ان پر غیر قانونی مقدمہ فوری طور پر ختم کیا جائے ، میر شکیل الرحمٰن کیخلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ان کو پابند سلاسل کیا گیا ہے لیکن میر شکیل الرحمٰن کو کب تک قید میں رکھا جائے گا ؟ آخر کار وہ آزادی صحافت کا پرچم بلند کرتے ہوئے خدا کے فضل و کرم سے با عزت طور پر رہا ہوں گے اور بہت جلد ہمارے درمیان ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ میر شکیل الرحمٰن ایک بہادر انسان ہیں جس حق و سچ کی راہ پر چلتے ہوئے ہر قسم کے نقصان برداشت کرنے کو تیار ہیں لیکن کبھی بھی حق اور اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ دوسری جانب کراچی میں صحافی تنظیموں، جنگ جیو ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام میرشکیل الرحمٰن رہائی احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن سندھ کے نائب صدر اقبال خاکسار نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کے خلاف غیرقانونی مقدمہ فوراً ختم کیا جائے، ملک میں بڑھنے والی مہنگائی اور بیروزگاری پر قابو پایا جائے۔ اس موقع پر کے یو جے کے خازن جاوید قریشی، سینئر صحافی، سیکرٹری جنرل ایپنک شکیل یامین کانگا، سینئر وائس چیئرمین کراچی ایپنک رانا محمد یوسف اور جنرل سیکرٹری دی نیوز ایمپلائز یونین سی بی اے دارا ظفر نے بھی خطاب کیا۔ دیگر مقررین کا کہنا تھاکہ ریڈیو پاکستان سے کئی سو ملازمین کی بے دخلی اس حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، یہ حکومت روزگار دینے کے بجائے عوام سے ان کے جینے کا بھی حق چھین رہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید