آپ آف لائن ہیں
پیر4؍جمادی الثانی 1442ھ 18؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسپیکر اسد قیصر سے افغان ہم منصب کی اہم ملاقات


اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے اسپیکر افغان پارلیمنٹ میر رحمٰن رحمانی نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی اور دو طرفہ پارلیمانی اور ملکی تعلقات، باہمی تجارت اور خطے کی معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

مہمان اسپیکر اور افغان پارلیمانی وفد کے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر اسد قیصر اور ان کی ٹیم نے پرتپاک استقبال کیا، جس پر میر رحمٰن رحمانی نے ان کا شکریہ ادا کیا اور قومی اسمبلی میں رکھی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔

دوران ملاقات اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مستحکم تعلقات علاقائی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان سے تاریخی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے، پرامن اور خوشحال افغانستان پورے خطے کے امن و خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔


اسد قیصر نے مزید کہا کہ ایک پرامن اور خوشحال افغانستان کا خواب جلد پورا ہونے جا رہا ہے، دونوں ممالک کے پارلیمانی رابطوں میں اضافے سے دوطرفہ تعلقات مستحکم ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان دیکھنے کا خواہشمند ہے، پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کے لیے جاری مذاکرات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لیے ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، افغانستان کے پارلیمانی وفد کے دورے سے دو طرفہ پارلیمانی تعلقات کو فروغ حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ دورہ دو طرفہ تعاون میں اضافے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا، دونوں برادر ہمسایہ ممالک میں تجارتی اور معاشی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔

افغان اسپیکر میر رحمٰن رحمانی نے کہا کہ مستحکم تعلقات اور باہمی تجارت بڑھانےکے لیے اسپیکر اسد قیصر کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اسپیکر اسد قیصر کی کوششیں اہم ہیں۔

میر رحمٰن رحمانی نے مزید کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کا کردار قابل ستائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اپنی جغرافیائی اہمیت کو بروئے کار لاکر معاشی استحکام حاصل کرسکتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید