آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پروٹین اور خلیات کے درمیان چل کر انہیں دیکھنا ممکن ہوگیا

اس ترقی یافتہ دور میں سائنس داںحیران کن چیزیں منظر ِعام پر لانے میں سر گرداں ہیں ۔حال ہی میں ماہرین نے خلیات کو اتنا وسیع کردیا ہے کہ اس میں چہل کر خلیات اور پروٹین کا اند ر سے نظارہ کیا جاسکتا ہے ۔یہ نظام کیمرج یونیورسٹی اور ایک نجی کمپنی نے مل کر بنایا ہے ۔اس سافٹ وئیر کو ’’وی لیوم ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ تھری ڈی امیج پروسیسنگ کا پورا نظام لیوم وی آر کمپنی نے تیار کیا ہے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام خردبین سے دیکھے گئے خلیات اور اجزا کو بڑھاتا ہے اور انہیں ورچول ریئلٹٰی میں لے جاتا ہے۔ جہاں کوئی بھی انفرادی پروٹین سے لے کر مختلف خلیات کے اندر کی تفصیل معلوم کرسکتا ہے۔ 

اس طرح حیاتیات کی بنیادی رازوں کو فاش کرنا ممکن ہوگا اور بیماریوں کے علاج کی راہ ہموار ہوگی۔اس کے بعد ورچول یونیورسٹی نظام یا عینک لگا کر آپ ہر انفردی خلیے کا تفصیلی نظارہ کرسکتے ہیں۔ اس نظام میں سب سے اہم سپر ریزولوشن مائیکرواسکوپی ہے۔ اس کی مدد سے نینوپیمانے پر تصاویر لی جاسکتی ہے اور سائنسداں سالماتی عمل کو سمجھ سکتےہیں۔یہ نظام تمام خلیات کو تھری ڈی انداز میں ظاہر کرتا ہے اور صرف ایک کلک سےآپ مجازی طور پر خلیات کے اندر جاپہنچتے ہیں۔ 

اس ٹیکنالوجی میں سپر ریزولوشن مائیکرواسکوپی ، ڈیٹا تجزیہ کاری اور کمپیوٹنگ کو باہم ملایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی یا تو انسان کو نینو پیمانے تک چھوٹا کردیتی ہے یا پھر خلیات کو انسانوں کے برابر بڑا کرکے ظاہر کرتی ہے۔حقیقی وقت میں خلیات کا نظارہ ہمیں حیاتیات کی ایک نئی دنیا سے روشناس کراسکتا ہے۔ اس طرح مزید دریافتوں کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید