آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پارلیمنٹ حملہ کیس، وزیرِاعظم عمران خان بری


اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے پارلیمنٹ حملہ کیس میں وزیرِ اعظم عمران خان کی بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں مقدمے سے بری کر دیا۔

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج نے محفوظ کیا گیا فیصلہ آج سنا دیا۔

عدالت کی جانب سے دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مقدمے کے دیگر ملزمان میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی شامل ہیں تاہم صدارتی استثنیٰ حاصل ہونے کے باعث ان پر مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔


وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، صوبائی وزیر علیم خان اور جہانگیر ترین بھی مقدمے میں ملزم نامزد ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے وزیرِ اعظم عمران خان کی مقدمے سے بریت کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر رکھا تھا۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے وکیل نے بریت کی درخواست پر تحریری دلائل جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عمران خان کو جھوٹے اور بےبنیاد مقدمے میں پھنسایا گیا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، نہ ہی کسی گواہ نے ان کے خلاف بیان دیا، یہ سیاسی مقدمہ ہے جس میں سزا کا کوئی امکان نہیں اس لیے انہیں بری کیا جائے۔

سرکاری وکیل نے عمران خان کی بریت کی درخواست کی حمایت کی تھی۔



پراسیکیوٹر نے عمران خان کے وزیرِ اعظم بننے سے قبل درخواست کی مخالفت کی تھی جبکہ وزیرِ اعظم بننے کے بعد حمایت کر دی تھی۔

گزشتہ سماعت پر پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کے خلاف مقدمہ سیاسی طور پر بنایا گیا، عمران خان کے خلاف مقدمہ صرف وقت کا ضیاع ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کو بری کر دیا جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ یہ سیاسی طور پر بنایا گیا مقدمہ ہے جس سے کچھ نہیں نکلنا اور صرف عدالت کا وقت ضائع ہو گا۔

عمران خان اس مقدمے میں اشتہاری رہ چکے ہیں اور وہ بریت سے قبل ضمانت پر تھے۔

قومی خبریں سے مزید