آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ربیع الثانی 1442ھ 5؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

10 میں سے 9 پاکستانی طلبہ کا اعلیٰ تعلیم کی خواہش کا اظہار


ہر 10 میں سے 9 پاکستانی طلبا نے گیلپ پاکستان کے سروے میں اعلی تعلیم کے حصول کی خواہش کا اظہار کردیا مگر 83 فیصد نے یونیورسٹی تک رسائی کو استطاعت سے باہر قرار دیا۔

سروے میں 22 فیصد طلبا نے جامعات کی فیس کی ادائیگی کی ذمہ داری وفاقی حکومت اور 19 فیصد نے صوبائی حکومتوں کو دینے کا کہا۔

 گیلپ پاکستان نے ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد انٹر کے طلباء کی رائے پر مبنی اپنی نوعیت کا پہلا سروے جاری کردیا۔

پاکستانی طلباء اعلیٰ ڈگری کے حصول کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر یونیورسٹی کو عام آدمی کی پہنچ سے دور بھی قرار دے رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف گیلپ پاکستان کے سروے میں ہوا۔

گریجویشن کے بعد اعلیٰ ڈگری کے حصول کے سوال پر ہر 10 میں سے 9 طالب علم یعنی 90 فیصد نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اعلیٰ ڈگری حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ 10 فیصد نے اس کے برعکس رائے دی اور اعلیٰ ڈگری کے لیے رجسٹریشن نہ کروانے کا کہا۔

اعلی ڈگری کے حصول کی خواہش کا اظہار شہری 91 فیصد اور دیہی89 فیصد دونوں طلباء کی اکثریت نے کیا ، جبکہ صوبوں میں سب سے زیادہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر سے 94 فیصد جبکہ خیبر پختونخوا سے 92 فیصد نے اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے کی امید ظاہر کی۔

سروے میں یہ دیکھا گیا کہ ہر 5 میں سے 2 طلباء یعنی 42 فیصد ماسٹرز تک ڈگری حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں جبکہ ہر 3 میں سے 1 یعنی 32 فیصد پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصو ل کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

16 فیصد نے بیچلرز، 2 فیصد نے میڈیکل اور 2 فیصد نے ہی قانون کی ڈگری لینے کی توقع ظاہر کی، جبکہ 1 فیصد نے بیچلرز کی دو ڈگری لینے اور 4 فیصد نے دیگر ڈگریز لینے کا بتایا۔

جس کے بعد گیلپ پاکستان نے جامعات کے عام آدمی کے پہنچ میں ہونے کا طلباء سے سوال کیا، جواب میں 83 فیصد نے مہنگی فیسوں کے باعث جامعات کو عام آدمی کی استطاعت سے باہر کہا جبکہ 17 فیصد نے پہنچ میں ہونے کا بتایا۔

گیلپ پاکستان کے مطابق مہنگائی کے باعث جامعات تک رسائی نہ ہونے کا کہنے والے طلباء کی شرح ویسے تو تمام صوبو ں میں زیادہ تھی مگر گلگت بلتستان، آزاد جموں کشمیر میں 87 فیصد اور پنجاب میں 84 فیصد زیادہ نظر آئی۔


اس سوال پر کہ جامعات کی فیس کس کو ادا کرنی چاہیے؟ تو سروے میں شامل 22 فیصد طالب علموں نے وفاقی حکومت، تو 19 فیصد صوبائی حکومتوں کی طرف دیکھا۔ جبکہ ہر 5 میں سے 1 طالب علم یعنی 19 فیصد نے طالب علموں اور ان کی فیملیز کو جامعات کی فیس دینے کا کہا۔

سروے میں 39 فیصد نے فیسوں کی ادائیگی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت یا مختلف اداروں پر مبنی کوئی مجموعہ بنانے کی خواہش ظاہر کی جبکہ صرف 1 فیصد نے نجی اداروں کو جامعات کی فیس دینے کہا۔

جامعات کی قدر و قیمت کے سوال پر 51 فیصد نے اسے بہترین قرار دیا، 38 فیصد نے اسے اچھا جبکہ 10 فیصد نے مناسب کہا۔ 1 فیصد نے اسے خراب کہا۔

دنیا کے مقابلے میں پاکستانی تعلیمی نظام کے معیار کے سوال پر 35 فیصد نے اسے اوسط درجے کا قرار دیا۔ جبکہ 29 فیصد نے عالمی اوسط سے اوپر تو 15 فیصد نے عالمی اوسط سے کم قرار دیا۔ 15 فیصد طالب علموں نے اسے دنیا کے بہترین نظام میں سے ایک تو 5 فیصد نے ملکی تعلیمی نظام کو بہتر کہا۔

خاص رپورٹ سے مزید