• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈائیلاگ کوئی بھی ہو عمران کے بغیر نہیں ہوسکتا، فواد چوہدری


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ڈائیلاگ کوئی بھی ہو عمران خان کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

عمران خان کے بغیر گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی کیا حیثیت ہوگی،سیکرٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت وینٹی لیٹر پر کھڑی ہے سب کو معلوم ہے وہ وینٹی لیٹر کیا ہے۔

میزبان شہزاد اقبال نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارے بھی گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز کے حق میں نظر آرہے ہیں،سیکرٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال نے کہا کہ ن لیگ کا بیانیہ ہے کہ اسٹیٹس کو اب آگے نہیں چل سکتا ہے۔

ملک میں گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر آئین کی روشنی میں کوڈ آف کنڈکٹ بنائیں، سب نے غلطیاں کی ہیں ہمیں ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے، صرف سیاستدانوں نے غلطیاں نہیں کیں ملک میں انتشار بڑھتا جارہا ہے اندرونی کمزوری خارجہ پالیسی میں بھی جھلک رہی ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے سب سے پہلے میثاق پاکستان کا تصور پیش کیا تھا، سب کو معیشت اور جمہوری نظام کے استحکا م کیلئے اتفاق کی ضرورت ہے۔

ن لیگ نے پانچ سال میں توانائی کا بحران حل کیا، جدید انفرااسٹرکچر بنایا، امن و امان کی صورتحال ٹھیک کی اب ملک کو ٹیک آف کرنا تھا ۔

2018ء میں ہم سے حکومت چھینی گئی اس کا نقصان ہمیں نہیں ملک کی ترقی کو پہنچا ہے، ملک کو درپیش مسائل بتانے کے ساتھ ان کا حل بتانا بھی ہمارا فرض بنتا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی ہونی چاہئے، ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے،حکومت وینٹی لیٹر پر کھڑی ہے سب کو معلوم ہے وہ وینٹی لیٹر کیا ہے

پی ڈی ایم یہی کہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنی غیرجانبداری ثابت کرنا ہوگی، وزراء بار بار ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ہر کام اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر کررہے ہیں، فوج پی ٹی آئی کی فوج نہیں پورے پاکستان کی فوج ہے، اگر حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ فوج کی وفاداری ایک سیاسی جماعت کے ساتھ ہے تو یہ فوج اور ملک کے ساتھ زیادتی ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم فوج سے حکومت کو گھر بھیجنے کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت کو سیاسی جدوجہد اور عوامی دباؤ سے گھر بھیجیں گے، حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے تحریک عدم اعتماد کے ساتھ استعفے بھی دے سکتے ہیں، ہمارا کہنا ہے ہمیں حکومت کے ساتھ یکساں سیاسی میدان ملنا چاہئے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ن لیگ کی پالیسی ہے اعلیٰ قیادت سے اجازت اور آن ریکار ڈ بریفنگ کے بغیر کوئی رہنما اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات نہیں کرے گا، ن لیگ کے کچھ لوگوں کو ملاقات کیلئے اپروچ کیا گیا لیکن انہوں نے انکار کردیا، کوئی بھی بات چیت پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہونی چاہئے، موجودہ بحران کسی اناپرست لیڈر، کسی ایک جماعت یا کسی ایک ادارے کے قد سے بہت بڑا ہے، ہمیں ڈائیلاگ کی بات کرنے کیلئے کسی کے گرین سگنل کی ضرورت نہیں ہے۔

نواز شریف سیاسی ماحول کو پراگندہ کرنے والے حقائق کی نشاندہی کررہے ہیں، ماضی میں سیاسی نظام میں مداخلت سے تلخیاں پیدا ہوئی ہیں۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ سیاست میں بات چیت کے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے، اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

وزیراعظم اپوزیشن قیادت کے کیسوں کے علاوہ ہر معاملہ پر بات کرنے کیلئے تیار ہیں،اپوزیشن چاہتی ہے صرف ان کے کیسوں پر بات چیت ہو، ہم انتخابی اصلاحات، این ایف سی ایوارڈ، اٹھارہویں ترمیم کے بعد مسائل سمیت باقی اسٹرکچرل مسائل پر بات چیت کیلئے تیار ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن چاہتی ہے فوج ان کیخلاف مقدمات ختم کرنے میں مدد کرے، اگر احتساب کا نظام برا ہوتا تو سپریم کورٹ نیب قانون کو ختم کردیتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا، عمران خان اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں اپوزیشن کے کیسوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

تازہ ترین