• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محبت مختصر، مگر اسے بیان کرتی کہانیاں طویل ہوتی ہیں۔ بعض اوقات تو احساس بھی نہیں ہوتا اور کسی کی رُوح ہمارے اندرسرایت کر جاتی ہے۔ بہت دن یا کئی سال اس کے ہونے کا احساس تو رہتا ہے، مگر ہم اُسے شناخت نہیں کرپاتے۔ جب تک شناخت کا لمحہ آتا ہے، بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور اس وقت صرف ایک کہانی ہی بیان کی جاسکتی ہے، مختصر یا طویل..... یہ اس بات پر منحصر ہے کہ محبت کی شناخت کا لمحہ کتنے وقت کے بعد آیا اور اُس وقت ہم دُکھ کی کیسی شدّت سے گزرے۔ کہانی دراصل محبت کی نہیں، بلکہ ہجر کے دُکھ کی اُس شدّت کی ہوتی ہے، جس سے ہم محبت کی شناخت کے لمحے کے بعد گزرتے ہیں۔ اس کی بہت سی توجیہات پیش کی جاسکتی ہیں، جنہیں بیان کرتے ہوئے یہ کہانی بوجھل ہوسکتی ہے۔

میری اس کہانی میں محبت کی شناخت ہونے میں کوئی 28 برس کا فاصلہ حائل ہے، اب آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اُس شخص کے دُکھ کی شدّت کیا ہوگی، جو زندگی کی بھیڑ میں گُم اپنی تنہائی کابوجھ اٹھائے دل کی کسک کی وجوہ تلاش کرتا رہا ہو اور ایک دن اُسے معلوم ہو کہ وہ اپنی متاع کا لمحہ کوئی 28 برس پہلے کہیں بھول آیا ہے۔ ساری زندگی کے بے ثمر ہونے کے دُکھ کی شدّت ناپنے کا کوئی پیمانہ ابھی دریافت نہیں ہوا۔ انتہائی مختصراور بے شناخت محبت کی اس کہانی نے میرے دورئہ جاپان کے آخری مرحلے میں اچانک جنم لیا، جس کا ادراک مجھے اب ہوا ہے۔

’’یوتھ فورم‘‘ میں شرکت کے لیے ٹوکیو سے ساگامی جھیل جانے والی دوسری بس بھی ایشیائی اور جاپانی نوجوانوں سے بھرچکی تھی۔ مَیں بس کے دروازے پر کھڑا تھا۔ ہماری جاپانی گائیڈ، ریکو میرے لیے سیٹ کی تلاش میں بس کے درمیان تک گئی، پھر مجھے آنے کا اشارہ کیا۔ جب میں وہاں پہنچا، تو اُس نے جس سیٹ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا،اُس کے ساتھ والی سیٹ پر پہلے ہی ایک بہت خُوب صُورت، نازک اندام سی لڑکی بیٹھی تھی۔ اس کا تعلق جنوبی ایشیا سے نہیں تھا، مگر رعبِ حُسن ایسا تھا کہ اُس سے بات کرنا تو درکنار، اُس کی طرف دیکھنے کی بھی ہمّت نہ ہوئی اور دو گھنٹے گزر گئے۔ اس دوران بس کی کھڑکی کے باہر کتنے ہزار منظربدلے ہوں گے، مجھے کچھ معلوم نہیں۔ ریکو نے دس منٹ کے لیے بس رُکنے کی نوید سنائی، تو جان میں جان آئی۔ بس رُکی تو کچھ واش روم اور کچھ ٹک شاپس کی طرف نکل گئے۔ 

مَیں نے ٹک شاپس سے کولڈڈرنک کے دو ٹِن خریدے اور ایک ٹِن کھول کر پیتا ہوا اُسی سیٹ پر واپس آکے بیٹھ گیا۔ وہ ہنوز اپنی سیٹ پر تھی۔ مَیں نے اُسے دیکھا، وہ اپنی ناک کی سیدھ میں دیکھ رہی تھی۔ بہت ہی نستعلیق قسم کی لڑکی تھی، روایتی طور پر میں نے اُسے کولڈ ڈرنک کا ایک ٹِن پیش کیا، تو غیر متوقع طور پر اس نے قبول کرکے مُسکراتے ہوئے ’’شکریہ‘‘ کہا۔ بس پھر کیا تھا، باہمی گفتگو کا دروازہ کُھل گیا۔ اس کا نام یومیکو میزانو تھا اور وہ ٹوکیو یونی ورسٹی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی طالبہ تھی۔ ہاسٹل میں رہتی تھی، بہت اچھی تیراک اور ٹیبل ٹینس کی کھلاڑی یومیکو کی ماں جاپانی، باپ ہسپانوی تھا، جو بعد میں کچھ اختلافات کی بناء پراس کی ماں کو چھوڑگیا تھا۔ جس کا نہ صرف اس کی ماں کو قلق تھا، بلکہ اسی وجہ سے یومیکو نے بھی ابھی تک کسی کو بوائے فرینڈ کا درجہ نہیں دیا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ سارے مرد تقریباً ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ اور یہ شاید غلط بھی نہ تھا۔ 

اسی طرح کی باتیں کرتے کس طرح بقیہ دو گھنٹے بیت گئے، پتا ہی نہیں چلا اور ہم ساگامی جھیل کنارے واقع یوتھ ہاسٹل پہنچ گئے۔ گاڑی سے سامان نکالنا ہماری ذمّے داری نہ تھی، لہٰذا شانِ بے نیازی سے چلتے ایک بڑے ہال تک پہنچے، جس کی طرف رہنمائی کی گئی تھی۔ وہاں سب ایک قطار میں کھڑے ہورہے تھے، میں بھی اس لائن میں کھڑا ہوگیا۔ کاؤنٹر پر معلوم ہوا کہ کولڈ ڈرنکس کے چار چار کوپن مل رہے ہیں اور ساتھ والے کاؤنٹر سے ڈرنکس۔ کوپن لے کر میں نے ساتھ والے کاؤنٹر سے دو ڈرنکس لیے۔ جیسے ہی واپس مُڑا، پیچھے وہی حُسن کی دیوی، یومیکو کھڑی تھی۔ اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کسی روبوٹ کی مانند میں نے ایک ڈرنک اُس کی طرف بڑھادیا، جسے اس نے ایک لطیف مُسکراہٹ کے ساتھ بغیر کسی حیل و حجت کے قبول کرلیا۔

دو ہفتوں میں پروگرام کے چند ایک شرکاء سے اچھی دوستی ہوچکی تھی۔ اُن میں سے کچھ اُس بس میں بھی تھے، جن سے میں خوش گپّیاں کرتا ہوا آیا تھا۔ دوسرے روز لنچ کے وقت جیسے ہی ہال پہنچا بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والا عثمان یوسف میراہاتھ پکڑ کر تقریباً کھینچتے ہوئے ایک لمبی سی ڈائننگ ٹیبل کی طرف لے گیا، جہاں دیگر مشترک دوست بھی موجود تھے، جو پچھلی بس سے یہاں پہنچے تھے۔ صبح سے میری ان سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی، لہٰذا گپ شپ کی تشنگی باقی تھی۔ کوئی ایک سو کے لگ بھگ نوجوانوں کی بھیڑ میں وہ یومیکو کہاں گُم ہوئی، کچھ پتا نہ چلا۔ ہمارے گروپ میں ایک نئی رکن، یوکیکو کا اضافہ ہوا تھا، وہ بھی اگرچہ کافی خُوب صُورت تھی، مگر یومیکو سی بات نہ تھی۔ 

گپ شپ جاری تھی کہ جاپانی کھانا جاپانی وقت کے مطابق دوپہر کے ٹھیک بارہ بجے میزوں پرلگا دیا گیا۔ ساری قوم کھانے پر اس طرح ٹوٹ پڑی کہ کسی کو کسی کا ہوش نہ رہا،جب سب اپنی پلیٹیں بھر چکے، تو سکون سے کھانا لینے والوں کے لیے سامنے پڑی ڈشزخالی ہوچکی تھیں۔ میرے بائیں طرف ذرا دُور ایک ڈش میں کچھ چاول اور مچھلی نظر آئی، تو میں نے سیٹ سے اٹھ کر اُس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ کسی نے میری پلیٹ میں کھانا ڈالنا شروع کردیا۔ میں نے حیرانی سے دیکھا، وہ یومیکو تھی، جس کی نگاہیں صرف میری پلیٹ میں کھانا ڈالنے میں مصروف تھیں۔ اُس نے جُھکی نگاہوں کے ساتھ میرا شُکریہ قبول کیا۔ کھانا ختم ہوا، تو ایک بار پھرہمارے گروپ کو دوستوں کی طرف توجّہ کا خیال آیا،مگر میری نگاہیں یومیکو کو ڈھونڈ رہی تھیں، وہ ایک بار پھر غائب ہوچکی تھی۔

رات کو ڈنر کے بعد میوزیکل پروگرام طے تھا۔ میں نے جاپانی مچھیروں کا گیت پیش کرنے کا سوچ رکھا تھا اور جاپان کے دفتر خارجہ سے وابستہ دو افسران نے مدد کا وعدہ بھی کر رکھا تھا۔ ذرا دیر میں دونوں مجھے مل گئے اور ہم نے ’’سورن بشی گیت‘‘ کی خوب ریہرسل کی۔ ہم تینوں کے علاوہ کسی کو بھی علم نہ تھا کہ مَیں رات کے میوزیکل پروگرام میں کوئی جاپانی گیت گانے والا ہوں۔ ہاسٹل کے عوامی غسل خانوں میں ایک سونامی آیا ہوا تھا۔ ہر لڑکا آج کی رات کا ہیرو بننے کی ہر ممکن کوشش کررہا تھا۔ دائیں طرف کا علاقہ مردانہ تھا، جب کہ بائیں طرف حُسن کی بہاریں تھیں۔ ان دونوں کے درمیان صرف ایک اخلاقی دیوار تھی، جسے عبور کرنے کی ممانعت نہیں تھی، مجھے اس بات کا احساس اُس وقت ہوا، جب میں تیارہو کر اپنے کمرے سے نکل رہا تھا کہ سامنے اک شگفتہ پھول کی مانند کِھلی کِھلی یومیکو کھڑی تھی۔ 

مَیں حیران رہ گیا، وہ دوپہر کے کھانے کے بعد اب نظر آئی تھی اور وہ بھی میرے کمرے کے باہر اور میرے لیے۔ ہسپانوی اور جاپانی خون کا امتزاج، قد کاٹھ، شکل و صورت، بال سب متناسب۔ گلابی رنگ کے قدرے چُست لباس میں وہ انتہائی پُرکشش لگ رہی تھی۔ حیرت کی کیفیت میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بے اختیار میں نے ’’واؤو‘‘ کہا، تو اس نے مصافحے کے لیے ہاتھ آگے بڑھادیا۔ ’’تم بے حد اچھے لگ رہے ہو۔‘‘ اس کے منہ سے یہ الفاظ سُن کر مجھے لگا کہ میری سانس رُک رہی ہے۔ جب وہ میری تعریف کررہی تھی، تو دائیں، بائیں گزرتے لوگوں نے معنی خیز مسکراہٹوں کے ساتھ کن انکھیوں سے ایسے دیکھا کہ بس!!..... اُس نے میری محویت توڑتے ہوئے کہا ’’چلیں‘‘ اور میں بے اختیار ہی چل پڑا۔ ڈائننگ ہال رنگوں، خوشبوؤں سے کافی حد تک بھر چکا تھا۔ ہر طرف نوجوان جوس پیتے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ مَیں بھی اُن میں شامل ہوگیا، کچھ دیر بعد یومیکو کا خیال آیا، تو وہ ایک بار پھربھیڑمیں گم ہوچکی تھی۔ 

کھانے کا اعلان ہوا اورسب کو کھانے کی میز پر بیٹھنے کی ہدایت کی گئی۔ مَیں تذبذب میں تھا کہ کس کے ساتھ بیٹھوں، جس کے ساتھ بیٹھنے کی خواہش تھی، وہ نظر نہیں آرہی تھی۔ لمبی لمبی میزوں کے دونوں جانب یوتھ فورم کے شرکاء ایسے بیٹھے تھے، جیسے فوج میں نئے بھرتی ہونے والے نوجوان سرکاری ڈنرمیں شریک ہوں۔ پلیٹوں پر طبلہ بجاتے چمچوں کی آوازیں، انسانی آوازوں پر حاوی ہوچکی تھیں۔ سُوپ کے بعد کھانا پیش کیا گیا۔ کچھ مَن چلے وینڈنگ مشین سے آبِ جو (Bear) کے ٹن نکال لائے تھے، باقی سُوپ پینے اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔ شاید مَیں واحد شخص تھا، جو ابھی تک بیٹھنے کا فیصلہ ہی نہیں کرپایا تھا۔ اتنے میں ایک طرف سے عثمان نمودار ہوا اور مجھے کھینچتے ہوئے ایک میز کی طرف لے گیا۔ میں اِدھر اُدھر نظریں گھما رہا تھا، سامنے ٹوکیو یونی ورسٹی والی یوکیکو اور ہمارا گائیڈ کازو بیٹھا تھا۔ بائیں طرف عثمان اور دائیں طرف ایک نیپالی اپنے مخصوص لباس میں براجمان تھا۔

کھانے کے بعد سب آہستہ آہستہ بڑے ہال کی جانب بڑھنے لگے، جہاں میوزکل نائٹ تھی۔ ہال میں ایک طرف پوڈیم لگایا گیا تھا۔کچھ سازندے جاپانی اور مغربی سازوں کے ساتھ بیٹھے دھنیں بجا رہے تھے۔معاًایک طائرانہ نظر میں وہ گلابی رنگ کے لباس میں ملبوس نظر آگئی۔وہ کسی سے باتوں میں مصروف تھی اور مجھے دیکھ چکی تھی۔دل چاہا، اُس طرف جاؤں،لیکن پھر ارادہ بدل لیا۔یومیکو کی وارفتگی اور پھر یک دَم بے گانگی سمجھ سے باہر تھی،بے شک موسموں اور انسانوں کا موڈبدلتے دیر نہیں لگتی۔ مختلف ممالک کے لوگ اپنے اپنے گروپس میں کھڑے اپنی اپنی پرفارمینس فائنل کررہے تھے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک کے بعد جاپانی لڑکے، لڑکیوں نے پرفارم کیا۔ 

یومیکو بھی اپنے گروپ کے ساتھ گانے کے لیے آئی، سب ہی کو ان کی پرفارمینس کے مطابق داد ملی، پھر اچانک جاپانی دفترِ خارجہ کے نوجوان افسر نے میرا نام پکارتے ہوئے اعلان کیا کہ ’’پاکستان سے تعلق رکھنے والے منیر جاپانی مچھیروں کا گیت ’’سورن بشی‘‘ پیش کریں گے۔‘‘ تالیوں کی گونج میں مَیں اسٹیج پر پہنچا اور جب مَیں نے گیت گانا شروع کیا، تو سارا ہال میرے ساتھ گا رہا تھا۔ سازندے دُھن بجارہے تھے، گیت ختم ہوا اور میں تالیوں کی گونج میں واپس اپنی جگہ آیا، تو سامنے یومیکو کھڑی تھی۔ اس نے پوری گرم جوشی سے مجھے داد دی۔ ماہر سازندوں نے دوبارہ میوزک بجاناشروع کردیا تھا۔ کچھ حاضرین محوِ رقص ہوگئے اور کچھ آپس میں باتیں کرنے لگے۔ ہلکی سرد مہری کے ساتھ میں اس انتظار میں تھا کہ یومیکو اب کس لمحے اور کس طرف غائب ہوگی، مگر وہ مسلسل میرے ساتھ ہی کھڑی رہی اور جاپانی موسیقی سے متعلق بتاتی رہی۔ 

پروگرام ختم ہونے کے بعدہم دونوں صوفے پر جا بیٹھے اور پھر دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔رات اپنا سفر طے کرتے ہوئے آخری پہر میں داخل ہو چکی تھی۔ ہاسٹل کا یہ لائونج صرف ایک بلب کی روشنی میں دھیمی دھیمی سانسیں لے رہا تھا اور حسین ترین لڑکی کا رعبِ حسن میرے لیے اپنائیت میں ڈھل چکا تھا۔ کوئی بھی خُوب صُورت ساتھ خوابوں کے سرابوں کی رہ گزر ضرور بنتا ہے، مگر میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مجھے یہ احساس تھا کہ ساگامی جھیل کنارے گزرتی ہوئی خواب جیسی یہ رات اس کے بعد مجھ پر کبھی نہیں اُترے گی- زندگی میں کچھ لمحات صرف بے تعبیر خواب کی مانند اُترتے ہیں، یہ لمحات کم وقت میں مر جاتے ہیں، مگر ان کی یاد دل کے کتبے پر ابد تک کے لیے نقش ہو جاتی ہے۔

آج 28 برس بعد جب میں اس گم شدہ یاد کے قیمتی، خُوب صُورت احساس کے بارے میں لکھ رہا ہوں تو یقیناً مَیں اپنے اُس وقت کے احساس کی سچائی کا بھرم رکھ رہا ہوں۔ ہمیں معلوم ہی نہیں ہو تا اور بعض لمحات ہماری زندگیوں میں اَمر ہو جاتے ہیں۔ہم دنیا کی بھیڑ میں جس قدر بھی گم رہیں، یہ لمحے ہمیں ڈھونڈ لیتے ہیں اور ہمیں اپنے ساتھ وقت بسر کرنے پر اُکساتے ہیں۔ ہم محسوس کریں، نہ کریں یہ لمحات، ہر لمحہ اپنے زندہ ہونے کا احساس دلاتے اور ہماری زندگیوں میں مہکتے رہتے ہیں۔ مَیں خوش دلی سے یہ بات قبول کرنے کو تیار ہوں کہ میرے دل کے میوزیم کے ایک کونے میں دُبک کر بیٹھی وہ رات ابھی تک سانس لے رہی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اُس رات کے آخری پہر کے کسی لمحے میں نے اُس سے کہا تھا کہ تمہارے لیے میرے پاس ایک تحفہ ہے، تو وہ ششدر رہ گئی۔ 

مَیں تیزی سے اٹھا اور اپنے کمرے کا طرف لپکا، کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ مَیں نے بیگ سے کالے رنگ کا زنانہ روایتی بلوچی لباس نکالا، جس پر مختلف رنگوں کے دھاگوں سے کڑھت کی گئی تھی۔ اور یومیکو کے سامنے لاکر رکھ دیا۔ ایک انتہائی منفرد لباس دیکھ کر اس کے منہ سے بے اختیار خوشی سے لبریز چیخ نکل گئی۔ مَیں نے لباس اُسے دیتے ہوئے کہا ’’کیا تم مجھے یہ پہن کر دکھا سکتی ہو؟‘‘ یومیکو وہ لباس لے کر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی زنانہ واش روم کی طرف چلی گئی۔ کچھ دیر بعد اُس نے مجھے میرے نام سے پکا را۔ لائونج میں روشنی تھی۔ وہ اپنے گورے چٹّے رنگ اور ڈارک برائون بالوں کے ساتھ کالے رنگ کے روایتی بلوچی لباس میں کسی پری جیسی معلوم ہورہی تھی۔ 

میں نے اُس کی سحر انگیزی کی تعریف کی۔پھر ہم دونوں دیوار کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھ گئے۔ کب تک بیٹھے رہے، کچھ احساس نہ ہوا۔ پرندوں نے صبح کی حمد شروع کر دی تھی، ذرا دیر میں سامنے کی کھڑکی سے صبح کی پہلی کرن نمودار ہونے کے آثار نظر آنے لگے تھے۔ اپنے کمروں میں جانے سے پہلے میں نے یومیکو سے یہی لباس پہن کر یوتھ فورم میں شرکت کی درخواست کی، جو اس نے ایک خُوب صُورت مُسکراہٹ کے ساتھ قبول کر لی۔ صبح 9 بجے فورم تین الگ الگ گروپس میں شروع ہوا۔وہ کسی اور گروپ میں تھی اور مَیں کسی اور گروپ میں۔ جان پہچان والوں میں سے صرف یوکیکو ہی میرے گروپ میں تھی۔ سیشن سے فارغ ہو کر راستے میں یومیکو سے ملاقات ہوئی، اس نے وہی لباس پہنا ہوا تھااور ہرکوئی اس کی تعریف کر رہا تھا، وہ سب سے منفرد نظر آرہی تھی۔ مَیں نے اپنے کیمرے سے اس کی تصویریں بنانے کی خواہش ظاہر کی، تو اس نے بہت خوش دلی سے تصاویر بنوائیں، اور پھرحسبِ معمول غائب ہوگئی۔ نہ وہ بیڈمنٹن ہال میں تھی، نہ ہی لائونج میں، نہ ٹینس کورٹ میں، شام تک اس کی کمی کی شدّت بڑھتی رہی، یہاں تک کہ جانے کا وقت آگیا۔

ہاسٹل لائونج میں خالی وینڈنگ مشین کے پاس اکیلے بیٹھے مجھے بہت دیر ہو گئی تھی کہ زنانہ اور مردانہ حصّوں کے مکین اپنے اپنے سامان کے ساتھ نیچے اُتر کر بسوں کی طرف جانے لگے۔ تب میں نے بھی تیزی سے اپنے کمرے کا رُخ کیا، سامان اٹھایا اور بس میں سوار ہوگیا، مگر یومیکو کے ساتھ گزارے لمحوں کی مختصر سی پوٹلی وہیں کہیں رہ گئی۔ سہ پہر، شام کے دروازے پر اُتر آئی تھی اور ساگامی جھیل کنارے کی تنہائی اپنے شام رنگ سایوں کے ساتھ میرے من میں ہجر کا رقص کرنے لگی تھی۔

تازہ ترین