آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

(گزشتہ سے پیوستہ)

آج بھی لاہور میں کئی جگہ کشمیری چائے ملتی ہے مگر وہ ذائقہ نہیں۔ اب تو لاہور میں مٹی کے مگوروں میں بھی چائے ملنا شروع ہو گئی ہے۔ کشمیری چائےکی رنگت گلابی ہوتی ہے اور اس کو بنانے کے لئے ایک خاص مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، اگر آپ نے اس مہارت سے چائے نہیں بنائی، تو پھر چائے خراب ہو جاتی ہے۔ کشمیری چائے میں بادام اور پستہ تو لازمی ڈالا جاتا ہے۔ آج لاہور میں کئی جگہ کشمیری چائے کےا سٹال ہیں ۔ کشمیری چائے/ سبز چائے کے ساتھ باقر خانی بھی ملتی ہے۔ اس شہر میں کبھی صفائی ہوتی تو یہ شہر یورپ کے کسی شہر کا مقابلہ کرتا۔ لاہور میں کئی قدیم چائے خانے تھے۔ دہلی مسلم ہوٹل، انارکلی (اس کے سامنے کبھی نظام ہوٹل بھی تھا) پھر لاہور میں نگینہ بیکری بھی کبھی ادیبوں اور شاعروں کا گڑھ رہی ہے، اب اس کا کچھ پتہ نہیں۔

لاہور میں انڈیا ٹی ہائوس، پاک ٹی ہائوس، کافی ہائوس ، وائی ایم سی اے ریسٹورنٹ، عرب ہوٹل، شیراز ہوٹل (جہاں کبھی بیلے ڈانس ہوا کرتا تھا) کسینو (بعد میں لارڈز کے نام سے مشہور ہوا۔ یہاں پر لائیو بینڈ بجا کرتا تھا۔ ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کو کئی مرتبہ یہاں بیٹھے دیکھا ہے) شیزان (جو ایک مدت تک نامور وکلا، ادیبوں اور ا سکالرز کا گڑھ رہا) شیزان کے دو ریسٹورنٹ تھے ایک مال روڈ پر اور دوسرا دیال سنگھ مینشن میں تھا۔ انڈس ہوٹل کا گرین روم جہاں پچاس پیسے کا سکہ ڈال کر آپ اپنی مرضی کے انڈین گانے سن سکتےتھے۔ کیا خوبصورت گرین روم تھا۔ چائنیز لنچ ہوم، گارنیا، لاہور ہوٹل، اورینٹ ہوٹل، پاکیشیا، ہیکو اور ٹی لائٹ چائے خانہ (یہ فلمی لوگوں کے لئے مخصوص تھا) پرانے لاہوریوں کو یاد ہو گا کہ کسی زمانے میں لاہور کے ہر بازار اور بعض گلیوں میں چائے کی دکانیں ہوا کرتی تھیں ان میں دھاگے کے ساتھ چائے کی پتیاں پروئی ہوتی تھیں اور یہ چائے کی پتی دو آنے اور ایک آنے کی ملا کرتی تھی۔ اس چائے کا اپنا ہی ایک مزہ تھا۔ پھر دودھ پتی بھی بڑے مزے کی ملا کرتی تھی۔ آج کل لاہور میں تندوری چائے کے بڑے چرچے ہیں۔ مٹی کے مگورے کو آگ میں /تندور میں رکھ دیا جاتا ہے جب وہ شدید گرم ہو جاتا ہے تو اس میں چائے ڈال دی جاتی ہے۔ چائے میں مٹی کی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے جس کو پینے کا اپنا ہی لطف ہے۔ اب ادرک، دار چینی، نمک والی اور شہد والی چائے بھی ملنا شروع ہو گئی ہے مگر شہر کے قدیم چائے خانوں والی چائے کا مزہ اب کہیں نہیں۔

چائے تو گورا پیا کرتا تھا۔ جب برصغیر میں انگریز حکمراں تھا تو ہر انگریز کی کوٹھی میں شام کو چائے ٹی کوزی میں ٹرالی پر سجا کر آیا کرتی تھی۔ کیا خوبصورت زمانہ تھا۔ ٹی پوٹ، ملک پوٹ اور شوگر پوٹ کیا سلیقے سے چائے آیا کرتی تھی۔ لاہور کے چائے خانوں کی زندگی جتنی دلفریب اور پرلطف تھی جس کو اس کا چسکا پڑ جاتا پھر زندگی بھر نہیں جاتا تھا۔ ہمیں بعض چائے خانوں خصوصاً شیزان اور پاک ٹی ہائوس میں ایک زمانے میںبیٹھنے والے ایسے افراد بھی ملے جو پچھلے 60/70برس سے ان چائے خانوں میں آ رہے تھے۔ اب یہ دونوں چائے خانے بھی زمانے کی نذر ہو گئے اور پھر بعض لوگ مخصوص ٹیبل ہی پر بیٹھنا پسند کرتے تھے۔ عرب ہوٹل لاہور میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کے نزدیک 1926ء میں کویت کے ایک عرب نے قائم کیا تھا۔ اس ہوٹل سے کئی ادبی تحریکوں نے جنم لیا تھا۔ ادب کی تاریخ میں اس عرب ہوٹل کا نام ہمیشہ یاد رہے گا۔ بڑے بڑے نامور لوگ یہاں بیٹھا کرتے تھے۔ نگینہ بیکری بھی 1925ء میں قائم ہوئی تھی۔ یہ چائے خانہ بھی کئی ادیبوں اور شاعروں کا گڑھ تھا۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ لاہور چائے خانوں میں بعض ادیب و شاعر اور دانشور کئی کئی چائے خانوں میں ایک ہی دن میں جاتے تھے۔ ایک چائے خانے سے اٹھے تو دوسرے چائے خانے میں چلے گئے اور وہاں سے تیسرے اور بعض اوقات ٹولیوں کی صورت میں جایا کرتے تھے۔ پاک ٹی ہائوس اور کافی ہائوس نے ادب کی دنیا کو کئی نامور لوگ دیئے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاک ٹی ہائوس ایک طویل مدت تک شاعروں اور ادیبوں کا مرکز رہا، دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پاک ٹی ہائوس کو بہتر بنانے اور اسے مستقل چلانے کے دعوے کئی حکومتوں نے کئے مگر پاک ٹی ہائوس کو ایک تاریخی چائے خانہ بنانے میں کسی نے دلچسپی نہ لی۔ یہ قدم چائے خانہ جس نے پاکستان کو بہترین ادیب، شاعر، گیت کار، دانشور اور موسیقار وغیرہ دیئے اب ان چائے خانوں میں وہ بات ہی نہیں رہی۔ وہ چائے خانے ہی نہیں رہے۔ وہ لوگ بھی نہیں رہے۔ ہم نے ہر روایت کو تباہ و برباد کر دیا۔

لاہور میں پہلی ڈرائی کلیننگ کی دکان 1927ء میں قائم ہوئی تھی۔ مال روڈ پر ایک زمانے میں کپڑے ڈرائی کلین کرنے کی کئی دکانیں ہوا کرتی تھیں اور گرم کپڑے پٹرول سے بھی صاف کئے جاتے تھے ،کپڑوں سے پٹرول کی ہلکی ہلکی بُو بھی آتی تھی۔ کبھی لوگ ریٹھوں سے گرم کپڑے دھوتے تھے اور سفید کپڑے دھونے کے بعد نیل میں دھوئے جاتے تھے جس سے سفید کپڑوں میں ایک نکھار آ جاتا تھا۔ کسی زمانے میں لاہور میں نیل کی بہت بڑی منڈی ہوا کرتی تھی۔ اس کے بارے میں پھر کبھی بتائیں گے۔ لوگ گھروں میں بھی پٹرول لا کر برش کے ساتھ کپڑے صاف کر لیا کرتے تھے۔ بہرحال یہ باتیں پرانی ہو چکی ہیں اب ایسے ایسے کیمیکلز آ چکے ہیں جن سے گرم کپڑے بغیر کسی بُو کے صاف ہو جاتے ہیں۔ لاہور میں کبھی دھوبی گھاٹ بھی ہوا کرتا تھا۔ دھوبی گھاٹ کے بارے میں آئندہ بات کریں گے۔ (جاری ہے) 

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین