آپ آف لائن ہیں
اتوار10؍جمادی الثانی 1442ھ 24؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پیپلز پارٹی کے 53 سال اور پنجاب میں اسکی سیاست

کراچی( تجزیہ ،مظہر عباس) پاکستان پیپلز پارٹی 30نومبر 1967کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر قائم ہوئی. اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو خود سندھ سے تعلق رکھتے تھے لیکن پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی اہمیت کو سمجھتے تھے اس لئے اپنا سیاسی مرکز اسے ہی بنایا. یہاں بالخصوص جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کی جڑیں ہمیشہ گہری رہیں.

2013 کے انتخابات میں شکست تک ایسا ہی رہا. آج پیپلز پارٹی اپنا 53 واں یوم تاسیس پی ڈی ایم کی دس دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر منارہی ہے. کورونا کی بڑھتی وبا اور ریاستی جبر کے دوران یہ پارٹی کی نئی نسل کی پارٹی کے کم بیک کی کوشش ہے.

وبا کے دوران جلسے کے انعقاد پر معاشرے کے مختلف حلقوں کی طرف سے نکتہ چینی نے اسے کچھ متنازعہ بنا دیا ہے. پیپلزپارٹی کو ابھی بہت سفر کرنا ہے جو بھٹو یا ان کی صاحبزادی بینظیر بھٹو جیسی کسی شخصیت کی غیر موجودگی میں نوجوان بلاول بھٹو کیلئے اتنا آسان نہیں ہوگا، جو 2015 میں سیاست میں آئے ہیں.

مجھے معلوم نہیں کہ ملتان کے جلسے میں بینظیر کی سب سے چھوٹی بیٹی آصفہ کی موجودگی ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوگا یا وہ محض اپنے بھائی بلاول کی نمائندگی کریں گی جو کورونا وائرس کا شکار ہوکر قرنطینہ میں ہیں.

پیپلز پارٹی کے پاس کبھی پنجاب میں بہت بلند پایہ شخصیات تھیں مثلاً بانی سیکریٹری جنرل اور پارٹی کی بنیادی دستاویز لکھنے والے جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشر حسن، شیخ محمد رشید( بابائے سوشلزم)، خورشید حسن میر، غلام مصطفیٰ کھر، ملک معراج خالد، شیخ رفیق احمد، اعتزاز احسن، جہانگیر بدر، ڈاکٹر غلام حسین، مختار رانا وغیرہ. پیپلزپارٹی کے پاس اب بھی پنجاب میں یوسف رضا گیلانی، قمر زمان کائرہ، اعتزاز احسن، چودھری منظور احمد جیسے اچھے نام ہیں.

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ لیڈر بھی اس وقت تک کچھ زیادہ نہیں کرسکتے جب تک پارٹی مرکزی سطح پر اپنی سیاست کا عمومی اور 2008 کے بعد پنجاب میں ہونے والے نقصان کا سنجیدگی سے جائزہ نہ لے. پیپلز پارٹی کے سامنے پنجاب میں دو چیلنج ہیں.

ایک یہ کہ پی ٹی آئی کو کیسے چیلنج کیا جائے اور دوسرے مسلم لیگ ن سے تعلقات کیسے رکھے جائیں کیونکہ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے تک ان میں کشیدگی رہی ہے. پھر یہ ہے کہ مسلم لیگ ن ہی اب تک پنجاب میں واحد اکثریتی جماعت ہے. تحریک انصاف کی حکومت ناکام ہوتی ہے تو اس کا فائدہ پیپلزپارٹی کو نہیں مسلم لیگ ن کو ہوگا. پیپلز پارٹی کی واپسی تبھی ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی شان حاصل کرنے کیلئے کچھ نیا لیکر آئے.

اس کیلئے کم از کم جنوبی پنجاب میں کافی نشستیں جیتنا ضروری ہوگا. تاریخی طور پر پیپلز پارٹی کو ایک سازش کے ذریعے پنجاب سے نکالا گیا. یہ سازش اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے جنرل ضیاء الحق کی ہدایات پر جنرل غلام جیلانی جیسے کھلاڑیوں کے ذریعے کی گئی.

بھٹو کی موت کے بعد ان کا خیال تھا کہ" پارٹی از اوور" لیکن بعد میں انہیں پتہ چلا کہ نہ یہ مری ہے نہ ختم ہوئی ہے.

متبادل کی تلاش میں انہوں نے شریف خاندان کو دریافت کیا جو بھٹو کی نیشنلائزیشن کا زخم خوردہ تھا. ان کی اتفاق فونڈری نیشنلائز ہوگئی تھی.

جنرل ضیاء نے اس حکمت عملی کے تحت سندھ کارڈ بھی استعمال کیا اور 1985 میں غیر جماعتی الیکشن کے بعد ایک سندھی سیاست دان محمد خاں جونیجو کو وزیراعظم نامزد کردیا. پنجاب میں انہوں نے شریف کو آگے بڑھایا اور پیپلز پارٹی کے مقابلے کیلئے ہر طرح کی مدد فراہم کی. اسٹیبلشمنٹ نے پنجاب میں شریف خاندان کا پوری طرح ساتھ دیا.

اسلامی جمہوری اتحاد( آئی جے آئی) کی تشکیل آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کا منصوبہ تھا جس کا مقصد بینظیر بھٹو کا مقابلہ تھا جو خود اختیاری جلاوطنی کے بعد 10 اپریل 1986 کو لاہور واپس پہنچی تھیں.

اگرچہ پیپلز پارٹی 1988 سے 2008 تک ہمیشہ پنجاب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی کافی نشستیں جیتتی رہی لیکن 1977 کے بعد اعلیٰ ترین عہدہ حاصل نہ کرسکتی. بالآخر 2013 میں پیپلزپارٹی کا پنجاب سے صفایا ہوگیا، اس کا مضبوط گڑھ جنوبی پنجاب بھی اس کے ہاتھ سے نکل گیا. اس میں پیپلز پارٹی کی پنجاب میں اپنی سیاست کا بھی ہاتھ ہے.

اس نے مسلم لیگ ن کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے کے بعد 2008میں مخلوط حکومت بھی بنائی، جس کے نتیجے میں تیسری پارٹی کی گنجائش پیدا ہوئی اور تحریک انصاف نے شریف برادران اور زرداری دونوں کو نشانہ بنا کر اپوزیشن پارٹی کی حیثیت حاصل کرلی.

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں محبت اور نفرت کا تعلق رکھا ہے جو 2013 میں مسلم لیگ ن کی تیسری حکومت کے دوران اور بڑھا. عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کے ووٹ بنک کو کافی نقصان پہنچایا کیونکہ انہوں نے مسلم لیگی اور شریف برادران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جو پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو بھی بہت بھایا کیونکہ وہ بھی یہی کچھ کرتے پروان چڑھے تھے.

آصف علی زرداری کی مصالحت پالیسی کی اپنی تعریف تھی. 2008. میں انہوں نے گجرات کے چودھری برادران سے بھی دوستانہ تعلقات استوار کرلیے اور مونس الٰہی کیس میں انہیں بڑا فائدہ پہنچایا.

مسلم لیگ ن کے مخلوط حکومت سے نکل جانے کے بعد انہوں نے چوہدری پرویز الٰہی کو نائب وزیر اعظم تک بنادیا. ان دونوں شریف برادران اور چوہدری برادران سے ان تعلقات نے پنجاب میں پیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکنوں میں بے چینی پیدا کی.

2013 کے الیکشن میں ان کا خیال تھا تحریک انصاف مسلم لیگ ن کو نقصان پہنچائے گی لیکن ہوا اس کے الٹ، زیادہ نقصان پیپلزپارٹی کو پہنچا. اور اس وقت سے ان کا کم بیک نہیں ہوسکا.

2015 میں دبئی میں پیپلزپارٹی کی قیادت کے اجلاس میں بالواسطہ طور پر شکست کا ایک سبب زرداری کی سیاست اور امیج کو قرار دیا گیا. اور اعتزاز احسن اور ندیم افضل چن جیسے رہنماؤں نے آصف علی زرداری کو مشورہ دیا کہ وہ تمام اختیارات بلاول بھٹو کو دے کر خود پیچھے ہٹ جائیں. گزشتہ چند روز میں ملتان میں جو کچھ ہوا ہے، اس سے پیپلزپارٹی کے جنوبی پنجاب میں کم بیک کی امید پیدا ہوئی ہے.

پارٹی کے کارکنوں نے جس طرح پولیس اور انتظامیہ سے آنکھ مچولی کھیلی اس میں پیپلزپارٹی کے پرانے ڈی این اے کی جھلک نظر آئی. لیکن پارٹی کی انتخابی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ وہ اپنے سیاسی بیانیے کو اپنے بنیادی اصولوں کے قریب کس طرح لاتی ہے.

ذوالفقار علی بھٹو کے بدترین مخالف نے بھی ان پر کرپشن کا الزام نہیں لگایا.2008 کے بعد کی قیادت کیلئے یہ نہیں کہا جاسکتا. یہ اب نوجوان بلاول بھٹو زرداری کیلئے ایک چیلنج ہے کہ وہ پارٹی کا اعتبار بحال کریں اور سندھ کو ایک مثال بنائیں جہاں پارٹی 2008 سے برسراقتدار ہے لیکن گورننس پر اب بھی ایک سوالیہ نشان ہے.

خاندانی موروثی سیاست کی اپنی ڈائنامکس ہوتی ہیں اور عواقب بھی، بالخصوص پاکستان جیسے ملک میں جہاں انتخابات اور سیاست دونوں مینیج کیے جاتے ہیں، مقبول سیاست دانوں کو ہٹایا جاتا ہے، پھنسیاں دی جاتی ہیں، اور پر اسرار حالات میں ہلاک کیا جاتا ہے.

آج کوئی ذوالفقار علی بھٹو ہے نہ بینظیر بھٹو. ایک کو پھانسی دے دی گئی اور دوسری کو قتل کردیا گیا. اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ واحد پارٹی ہے جس کے لیڈروں اور کارکنوں دونوں نے جانیں اور قربانیاں دیں لیکن کوئی تنظیم یا جماعت محض ماضی کی تاریخ پر زندہ نہیں رہ سکتی.

اصل بات یہ ہوتی ہے کہ پارٹی اب کیا کررہی ہے اس لیے پیپلز پارٹی کو اپنی کھوئی ہوئی شان دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہوگا. وقت ہی بتائے گا کہ بلاول اور آصفہ بھٹو پارٹی کو موجودہ حالت سے وہ پنجاب دوبارہ جیتنے کی پوزیشن میں کس طرح لے جاتے ہیں، جہاں سے اس نے سیاسی سفر شروع کیا.

یہ دلچسپ بات ہے کہ تینوں بڑی پارٹیوں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کا قیام پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں عمل میں آیا. پیپلز پارٹی ان میں سب سے پرانی ہے لیکن عرصے سے لاہور سے کوئی نشست نہیں جیتی. کیا وہ اب ایسا کرسکے گی؟ یہ دیکھنے کیلئے انتظار کرنا ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید