آپ آف لائن ہیں
اتوار3؍جمادی الثانی 1442ھ 17؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انسانیت کش وبا کورونا کی اگرچہ ویکسین کی تیاری کی خبریں عام ہیں، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی دوسری لہر بھی پوری ہلاکت خیزی کے ساتھ حملہ آور ہے، روزانہ کی بنیاد پر درجنوں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں اور متاثرین کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ امریکہ، بھارت اور برازیل میں حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں لیکن ویکسین ابھی لیبارٹری ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہے۔ اس حوالے سے نت نئے انکشافات بھی ہو رہے ہیں مثلاً خواتین کی نسبت مردوں میں اس کی ہلاکت خیزی زیادہ ہے، قیاس تھا کہ اس کی وجہ مردوں میں تمباکو نوشی کا زیادہ ہونا ہے مگر اب شواہد یہ سامنے آئے ہیں کہ خواتین کے تولیدی ہارمونز ایسٹروجن اور پروجسٹرون انہیں کورونا سے تحفظ فراہم کرتے ہیں کہ یہ ہارمونز ان کے جراثیم کش قدرتی نظام اور قوت مدافعت کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ طبی جریدے ٹرینڈز اینڈ اینڈو کرینولوجی اینڈ میٹابولزم نے بھی متذکرہ تحقیق کو تسلیم کیا ہے کہ یہ ہارمونز وائرس سے متاثر ہونے پر پھیپھڑوں کی مرمت کا عمل تیز کرتے اور وائرس کو خلیات میں داخل ہونے میں مدد دینے والے ایس ٹوریسیپٹر کو بھی روکتے ہیں۔ امریکی یونیورسٹی بالے کی تحقیق بھی سامنے آ چکی ہے کہ خواتین کا جسم مردوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط مدافعتی نظام رکھتا ہے، عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مردوں کے ٹی سیلز

میں متحرک رہنے کی صلاحیت ختم ہونے لگتی ہے اور ایسے افراد پر کوڈ 19کے بدترین اثرات دیکھے گئے، اب محققین ان شواہد کی بنیاد کورونا ویکسین کی تیاری کر رہے ہیں۔ کچھ بھی ہو یہ حقیقت ہے کہ کورونا کی تادم تحریر ویکسین یا علاج میسر نہیں اور اگر ہے تو وہ صرف احتیاط، جس کو ہم در خور اعتنا خیال نہیں کر رہے حالانکہ روزانہ کورونا کی ہلاکت کاریوں کی دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آ رہی ہیں، خدارا مرد ہی نہیں خواتین بھی تمام تر احتیاطی تدابیر بروئے کار لائیں کہ یہ خود ہماری زندگیوں کا معاملہ ہے۔

تازہ ترین