آپ آف لائن ہیں
ہفتہ2؍جمادی الثانی 1442ھ 16؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یوں تو یہ ایک ہاتھی کی کہانی ہے مگر اس کہانی میں ہمارے اجتماعی دکھ درد کی نشانی ہے۔’کاون‘ نامی ہاتھی جو اسلام آباد میں مرغزار چڑیا گھر نامی عقوبت خانے سے نکل کر کمبوڈیا کی آزاد فضائوں میں پہنچ چکا ہے ،وہ عمر میں مجھ سے چند ہی برس بڑا ہے۔

جنرل ضیاالحق برسراقتدار تھے تو سری لنکا کی حکومت نے کم سن ’کاون ‘کو پاکستان کے حوالے کردیا ۔1981ء میں پیداہونے والے ’کاون ‘کو اس وعدے کیساتھ قبول کیا گیا کہ اسے اپنے بچوں کی طرح رکھا جائے گا۔’کاون‘نہیں جانتا تھا کہ یہ سنگدل’مہاوت‘ اپنے بچوں سے کیا سلوک روا رکھتے ہیں؟’کاون ‘کو اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں رکھا گیا۔

انتظامیہ کے لئے یہ ہاتھی بہت قیمتی تھا کیونکہ اس کی سونڈ کے ذریعے پیسے جمع کئے جاتے۔لوگ دور دور سے ’کاون ‘کو دیکھنے آتے،بچے اس پر سواری کرتے۔’

کاون‘سب کو تفریح مہیا کرتا لیکن اس کی خوش طبعی کا سامان کرنے والا کوئی نہ تھا۔بدقسمت ہاتھی کو کوئی ساتھی بھی میسر نہ تھا جس سے دکھ درد بانٹ لیتا۔1991ء میں جب نوازشریف وزیراعظم تھے تو اُن کی بنگلہ دیشی ہم منصب خالدہ ضیا نے ایک ہتھنی کا تحفہ دیا۔

تحفے میں ملنے والی مادہ ہاتھی ’مانیکا‘ جو 1989ء میں سری لنکا میں پیدا ہوئی تھی ،پاکستان میں اس کا نام ’سہیلی‘رکھا گیا اور اسے مرغزار چڑیا گھر میں ’کاون‘کے ساتھ زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔

’کاون‘سخت جان تھا، اس لئے برسہا برس سے قید تنہائی کاٹ رہا تھا مگر اس کی ’سہیلی‘یہ اذیت زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکی۔ ’سہیلی‘ 2012ء میں صرف 23سال کی عمر میں مرگئی ۔جب ’سہیلی‘نے آخری سانس لی تو وہ اور ’کاون‘دونوں زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے۔

’کاون ‘ایک بار پھر اکیلا ہو چکا تھا ۔تنہائی کا روگ اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا اور وہ بتدریج ذہنی دبائو کا شکار ہوتا چلا گیا۔اسی کیفیت میں دن گزرتے چلے گئے یہاں تک کہ امریکہ سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آئی ، ڈاکٹر ثمر خان(ڈی وی ایم) نے اس کی حالت دیکھی ۔ثمر خان نے دیکھا کہ زنجیروں میں بندھا ’کاون ‘پریشانی کے عالم میں مسلسل اپنا سر دائیں سے بائیں طرف ہلائے جا رہا ہے۔

ثمر سمجھ گئی کہ یہ ہاتھی اکیلا ہونے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہے۔اس نے ’کاون ‘کی ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی۔جانوروں سے محبت کرنے والے یہ مناظر دیکھ کر تڑپ اُٹھے ۔’’فری دا کاون ‘کے نام سے اس ہاتھی کو آزاد کروانے کی مہم شروع کردی گئی۔چڑیا گھر کی انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی تو اعلیٰ حکام کو خطوط لکھ کر اس طرف توجہ دلائی گئی۔

نوازشریف ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کے منصب پر متمکن تھے ۔سینیٹ کمیٹی نے چڑیا گھر کی انتظامیہ کو طلب کیا اور حکم دیا کہ ’کاون‘کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔

چڑیا گھر کی انتظامیہ نے اس حکم کی تعمیل سے انکار کردیا کیونکہ ہاتھی ان کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھا ۔کہا گیا کہ ’کاون ‘کے لئے ایک اور بڑا ہاتھی گھر بنا دیا جائے گا۔اس دوران ایک امریکی گلوکارہ شیر کو ’کاون‘ کی حالت زار سے متعلق معلوم ہوا تو وہ بھی متحرک ہوگئی اور پیشکش کی کہ اسے کمبوڈیا یا سری لنکا بھجوانے پر جو اخراجات آئیں گے ،وہ ان کی ادائیگی کرنے کو تیار ہے۔

’کاون ‘کے خیرخواہوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی مگر اس کی آزادی کا خواب پورا نہیں ہو رہا تھا۔یہاں تک کہ اس معاملے پر عدالت سے رجوع کرلیا گیا۔عدالت نے انتظامیہ کی نااہلی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا کہ اس چڑیا گھر میں رہنے والے تمام جانوروں کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے اور ’کاون ‘ کو کمبوڈیا بھیجنے کا بندوبست کیا جائے۔ان احکامات کا پس منظر یہ تھا کہ مرغزار چڑیا گھر میں عملے کی نااہلی کے باعث کئی جانور موت کے منہ میں جا چکے ہیں ۔

ایک بار شیر کو اس کی کچھار سے باہر نکالنے کے لئے عملے نے آگ لگا دی تو شیر دم گھٹنے سے ہلاک ہوگیا۔اور پھر لاہور چڑیا گھر کی اکلوتی ہتھنی ’سوزی‘کسے یاد نہیں۔

35برس کی سوزی مئی 2017ء میں انتقال کرگئی۔اسے بھی تنہائی نے مارڈالا۔ماہرین جنگلی حیات کے مطابق جانوروں کو جب چڑیا گھر میں رکھا جاتا ہے تو وہ تنہائی کے باعث ذہنی دبائو کا شکار ہو کر جلد مر جاتے ہیں۔’سوزی‘کا بھی یورک ایسڈ بڑھ گیا تھا اور وہ آخری دنوں میں چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہی تھی۔

عدالتی احکامات کی روشنی میں غیر ملکی ڈاکٹروں نے ’کاون ‘کا معائنہ کیااور سفر کے قابل قرار دیدیا تو اسے کمبوڈیا روانہ کرنے کی تیاریاں ہونے لگیں۔’کاون ‘کو ہوائی جہاز کے ذریعے پاکستان سے کمبوڈیا منتقل کیا گیا جہاں اسے جنگلی حیات کے لئے مختص محفوظ علاقے میں رکھا جائے گا۔’کاون ‘اب نہ صرف آزاد فضائوں میں سانس لے گا بلکہ اپنے ساتھیوں کے درمیان باقی ماندہ ہ زندگی گزار سکے گا۔

سوچتا ہوں ’کاون‘کتنا خوش قسمت ہے ،اس کے استحصال پر بیشمار لوگوں نے آواز اُٹھائی اور آخر کار اسے ظلم وجبر سے نجات مل گئی۔’کاون‘کی طرح ہم سب بھی ایک بہت بڑے پنجرے میں قید ہیں ،زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔کٹھور اور سنگ دل مہاوت مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔

’کاون ‘کے لئے مختص فنڈز جس طرح چڑیا گھر کے حکام ہڑپ کر جاتے تھے‘ اسی طرح ہمارے مہاوت بھی سارا بجٹ خود کھا جاتے ہیں۔ ہم جس چڑیا گھر میں قید ہیں ،اس کی حالت زار بھی ’کاون ‘کے پنجرے جیسی ہے۔پے درپے مظالم کے باعث ہم دیواروں سے سر ٹکرا رہے ہیں۔

ہماراگمان تو یہی ہے کہ ہم بھی ’کاون‘کی طرح سخت جان ہیں مگر چڑیا گھر کے کئی مکین ان دیواروں سے سر ٹکراتے ہوئے مارے جا چکے ہیں۔’کاون ‘کو تو عدالت نے ریلیف فراہم کردیا مگر ہماری لاچارگی کا یہ عالم ہے کہ ہم تو اپنے مصائب و آلام لیکر یہ زنجیر عدل بھی نہیں ہلا سکتے کیونکہ ظالم مہاوتوں کی منشا و مرضی کے بغیر اس چڑیا گھر میں کوئی پتہ تک نہیں ہلتا۔لیکن’کاون‘کی آزادی سے اُمید کی شاخ پھر سے ہری بھری ہوگئی ہے ۔ سوچتا ہوںاک روز ہمیں بھی ان مظالم سے ضرور نجات مل جائے گی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین