• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خادم حسین رضوی نے ظفر اللّٰہ جمالی کیلئے کیا کہا تھا؟

مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک کے بانی خادم حسین رضوی گزشتہ روز انتقال کر جانے والے پاکستان کے سابق وزیراعظم میر ظفر اللّٰہ خان جمالی کے قومی اسمبلی میں ختم نبوت پر اپنے موقف پر ڈٹ جانے کی متعدد بیانات میں تعریف کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر خادم حسین رضوی کے اس بیان کا ایک کِلپ زیر گردش ہے جس میں انہوں نے کہا کہ جب کسی اسمبلی ممبر نے ختم نبوت پر کوئی بات نہ کی تو ایک ہی مرد مجاہد نے اپنی آواز بلند کی اور اسمبلی چھوڑ کر چلا گیا۔

خادم رضوی کا کہنا تھا کہ ’ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف بولنے پر قیامت تک اب کسی اور کا نام رہے نا رہے ظفر اللّٰہ خان جمالی کا نام رہے گا۔‘


یاد رہے کہ سابق وزیراعظم میر ظفر اللّٰہ خان جمالی نے قومی اسمبلی کی نشست سے اس لیے استعفیٰ‌دے دیا تھا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے ختم نبوت پربہت ڈاکہ ڈالا ہے۔

اس پر  میر ظفر اللّٰہ خان جمالی نے کہا تھا کہ وہ ایسی اسمبلی کا حصہ نہیں‌ بن سکتے جو اللّٰہ کے رسول کی ختم نبوت اورحرمت کا دفاع نہ کرسکے، اس کے بعد انہوں استعفیٰ دے دیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم میر ظفر اللّٰہ خان جمالی 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں، وہ گزشتہ تین روز سے وینٹی لیٹر پر موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔

میر ظفر اللّٰہ خان جمالی پاکستان کے 15ویں وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ وہ یکم جنوری 1944  کو بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہوئے۔

میر ظفر اللّٰہ خان جمالی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے واحد سیاستدان ہیں جو وزارت عظمیٰ کے منصب پہ فائز ہوئے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ہی مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے امیر مولانا خادم حسین رضوی انتقال کر گئے تھے۔

خاص رپورٹ سے مزید