آپ آف لائن ہیں
اتوار3؍جمادی الثانی 1442ھ 17؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سیاست سمیت دنیا کو دیکھنے کا ایک انداز تو یہ ہے کہ خالی دماغ سے آدمی ایک حادثے سے گزرے اور پھر اگلے حادثے تک اُسے بھول جائے۔ دوسرا طریق یہ ہے کہ انسان اُس حادثے کی تہہ تک اُترے۔ اُس کے محرکات کا جائزہ لے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرے۔ ایک عظیم آتش فشاں جب پھٹا تو لاوہ بہہ نکلا۔ بےشمار جاندار مر گئے۔ کچھ بھاگ نکلے۔ لاوہ ٹھنڈا ہو چکا تو چار ٹانگوں والے جانور واپس اِس خوفناک وادی میں آبسے۔ صرف انسان نے یہ جائزہ لیا کہ آتش فشاں ہے کیا چیز؟ یہ کب پھٹتا ہے؟ اُس نے مختلف آتش فشائوں سے نمونے لئے۔ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر دور بین سے اُن آتش فشائوں کے اندر جھانکنے کی کوشش کی۔ آج وہ بروقت محفوظ مقام پر منتقل ہو کر اپنی جان بچا لیتا ہے۔ جانور آج بھی ادھر کے ادھر ہی ہیں۔

ہزاروں، لاکھوں انسانوں میں سے صرف ایک دور اندیش ہوتاہے۔ وہ بروقت بتا دیتا ہے کہ یہ وادی ڈوبنے والی ہے۔ یہ شہر زلزلے کی فالٹ لائن پر واقع ہے۔ باقی لوگ تو اِس انتباہ کو مذاق ہی سمجھتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ حادثہ رونما ہو جاتا ہے۔

حیرت انگیز بات یہ نہیں کہ میاں محمد نواز شریف آج ایک سزا یافتہ مجرم ہیں۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ نواز شریف کو سیاست سے بےدخل کیے جانے کے فیصلے پہ عمل درآمد ممکن کیسے ہوا، وہ کوئی بڑی تحریک کیوں نہ اٹھا سکے جیسی افتخار محمد چوہدری کے لئے اٹھائی تھی؟ نواز شریف اور بےنظیر کو کوئی مائی کا لال سیاست سے نکال دینے کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔ بےنظیر قتل کا نتیجہ ساری دنیا نے دیکھا۔ میاں محمد نواز شریف کو سزا سنانا چند سال قبل تک اِسی طرح ناممکن تھا، جس طرح کہ افتخار محمد چوہدری کی معزولی۔ایک عظیم منصوبہ ساز نے کمال ہنر مندی سے نواز شریف کو سیاست سے بےدخل کئے جانے کو عوام کے لئے قابلِ قبول بنایا۔ سپریم کورٹ نے خود یہ فیصلہ صادر نہیں کیا کہ نواز شریف قصور وار ہیں، سرکاری افسروں کی ایک جے آئی ٹی بنائی گئی، وہ سرکاری افسر، جو اپنے تقرر اور ترقی کے لئے وزیراعظم کے محتاج ہوتے ہیں۔ جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تو نون لیگ نے جشن منایا تھا۔ اُس کی سربراہی مگر خدا نے واجد ضیا جیسے سرپھرے کو سونپ دی۔کبھی کسی افسر نے بھی وزیراعظم کو مجرم قرار دیا ہے اور وہ بھی پاکستان جیسے ملک میں؟ جے آئی ٹی تفتیش کرتی رہی، منی ٹریل مانگتی رہی۔ شریف خاندان کے مختلف افراد کے بیانات میں تضادات سامنے آتے رہے حتیٰ کہ یہ اظہر من الشمس ہو گیا کہ اُن کے پاس کوئی منی ٹریل ہے ہی نہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب نواز شریف کی نااہلی، برطرفی اور سزا عوام کے لئے بتدریج قابلِ قبول ہو گئی۔ نواز شریف جب ’’کیوں نکالا؟‘‘ کہتے ہوئے سڑکوں پر نکلے تو ایک عظیم الشان تحریک کی بجائے چھوٹی چھوٹی جلسیاں منعقد ہوتی رہیں۔ ’’کیوں نکالا؟‘‘ بجائے خود ایک مذاق بن کر رہ گیا۔

چند عشرے قبل عالمی سطح پر صحافیوں کے روابط محدود تھے۔ کسے خبر تھی کہ کیمرے عام ہونے سمیت، میڈیا کے اثر و رسوخ میں اضافے اور الیکٹرونک ریکارڈ میں نقب زنی سے ہر چیز آہستہ آہستہ طشت از بام ہوتی چلی جائے گی۔ وکی لیکس اور پانامہ لیکس سامنے آئیں گی۔ ایک وقت تھا کہ مختلف ممالک دنیا بھر کی اشرافیہ کو کالا دھن اکھٹا کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ نائن الیون کے بعد وہ ’’سنہری‘‘ دور باقی نہ رہا۔ باقی تاریخ ہے۔ اصل چیز حالات کا دھارا ہوتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے افغانستان پر حملے کے بعد حالات کا دھارا اِس طرف مڑا کہ مذہبی سیاسی جماعتوں نے پختون خوا اور بلوچستان میں حکومت بنا لی۔ اب تا قیامت نہ بنا سکیں گی۔

آپ خالی خالی نظروں سے حادثات کا جائزہ لینے کی بجائے ان کے محرکات تک اترنے کی کوشش کریں تو آپ پر انکشاف ہوگا کہ خدا کی طرف سے شریف اور زرداری اقتدار کی تباہی کا فیصلہ نافذ ہو چکا۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ کپتان بھی ساری عمر ہیرو رہتا، اگر اُسے اقتدار نہ ملتا۔ خدا جب فیصلہ کر ڈالتا ہے تو چالیس چالیس سال تک کوس لمن الملک بجانے والے صدام حسین، حسنی مبارک اور معمر قذافی بھی باقی نہیں رہتے۔ شریف اور زرداری خانوادوں کی حیثیت ہی کیا ہے؟ یہ بات اب پوری طرح واضح ہے کہ قدرت کی طرف سے عمران خان کو شریف اور زرداری اقتدار کی تباہی کے لئے پیدا کیا گیا تھا۔ اُس کے سوا عمران خان کوئی بھی کارنامہ سرانجام دینے میں ناکام رہے۔ بتایا تو یہ گیا تھا کہ اسد عمر جیسے آئن سٹائن کی قیادت میں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر بانٹے جائیں گے۔

رہی اپوزیشن تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟ اپوزیشن میں اگر دم خم ہوتا تو ایک کرکٹر آج ملک کا وزیرِاعظم ہوتا؟ اپوزیشن کی ساکھ ہی کیا ہے؟ پیپلزپارٹی اور نون لیگ پانچ پانچ سال حکومت فرما چکیں۔ مولانا فضل الرحمٰن پرویز مشرف کی بی ٹیم ہوا کرتے تھے۔ اے این پی اور محمود خان اچکزئی کو اقتدار ملا تو وہ کون سا تیر چلا سکے۔ اپوزیشن اُس کے باوجود حکومت نہ گرا سکے گی کہ حکومتی کارکردگی صفر ہے۔

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی متحارب سیاسی قوتوں کو قدرت کا اَن دیکھا ہاتھ آپس میں لڑا کے تباہ کر رہا ہے۔ قرآن میں لکھا ہے: اور اگر اللہ بعض انسانوں کو بعض کے ذریعے دفع نہ کر دیتا تو یہ زمین فساد سے بھر جاتی!

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین