آپ آف لائن ہیں
ہفتہ14؍رجب المرجب 1442ھ 27؍فروری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کبھی آپ اس وقت کے بارے میں سوچیں، آدمی نے زمین پہ جب ہوش کی آنکھ کھولی۔ جملہ انسانیت اس وقت بقا کی جنگ میں مصروف تھی۔ پکی اینٹوں کے مضبوط گھرموجود نہ تھے۔ آدمی کو خوراک ذخیرہ کرنے کی سمجھ نہیں تھی۔ گھروںمیں پانی کی ٹینکیاں نہیں تھیں۔ نرم و نازک سا انسان موسم کی سختیاں برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا۔ انسان کے پاس ایسے ہتھیار نہیں تھے، جن سے وہ خوفناک درندوں کا مقابلہ کر سکتا۔ یہاں اس سیارے پر خطرات بہت تھے۔ خوفناک حد تک طاقتور جانوروں سے ہمیں اپنا دفاع کرنا تھا۔ ان کے دانت اور ناخن خنجر تھے۔ انسان ان کے لیے ایک آسان ہدف تھا۔ ان کی حسیات کہیں تیز تھیں۔ یہ بات درسست ہے کہ شیر چیتوں کے برعکس آدمی کی نظر رنگین ہے۔ یہ مگر ایک جمالیاتی خوبی ہے، بقا کی جنگ سے جس کا کوئی تعلق نہیں۔ درندے تو ہمیں بہت دور سے سونگھ لیتے تھے۔سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے آدمی نے اس وقت آگ بھی تو دریافت نہ کی تھی۔

ہماری ریڑھ کی ہڈی ایسی ہے کہ دو ٹانگوں پہ ہم سیدھے کھڑے ہیں۔ آج اس بات پہ ہم فخر کر سکتے ہیں۔ اس خوفناک جنگ میں تب ہماری عمودی ساخت ایک بہت بڑا سقم تھی۔ ہم زیادہ تیز دوڑ نہیں سکتے تھے۔ بندروں کی طرح درختوں میں چھلانگیں لگانے سے بھی قاصر تھے۔ جانوروں کے برعکس ہمارے کند ناخن بڑے ہوتے تو ٹوٹنے لگتے۔ سونے پہ سہاگہ، دو ٹانگوں پہ سیدھا کھڑے ہوتے ہوئے ہماری ریڑھ کی ہڈی میں جو تبدیلی رونما ہوئی، وہ جنسِ نازک کے لیے بڑی تکلیف دہ تھی۔ اولاد کی پیدائش میں، دوسرے جانوروں کی نسبت اسے کہیں زیادہ اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ انسانوں میں کمر درد میں مبتلا ہونے کی شرح دوسرے جانوروں سے کہیں زیادہ ہے۔ انسانوں کے برعکس اکثر جانوروں کے بچے پیدائش کے فوراً بعد اپنی ٹانگوں پہ کھڑے ہو جاتے۔ دوسری طرف بارہ پندرہ برس تک نرم و نازک انسانی بچّوں کی تربیت ایک کارِ دشوار تھا۔ اس سب کے باوجود ہم بچ نکلے اور آج حکمران ہیں کہ دماغ بہتر تھا۔ انسان جیسی منصوبہ بندی اور کوئی نہیں کر سکتا۔ پہلے آدم سے جو چیز ہم تک پہنچی وہ یہ ہے کہ انسان ہر چیز کا جائزہ لے کر اسے ایک نام دیتا ہے۔ پھر دوسروں کو اس کی افادیت کے بارے میں بتا دیتاہے۔ جانور لوہا سونگھ کر چھوڑ دیتاہے۔ انسان اسے بطور اوزار استعمال کر سکتاہے۔ باقی سب تو تفصیلات ہیں۔

آج کائنات تسخیر کرتاہوا، ایجادات کرتا ہوا انسان خود پہ ناز کر سکتاہے۔ بغیر ڈرائیور گاڑیوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔ انسان کوشش کر رہا ہے کہ ہائیڈروجن کو بھاری عناصر میں تبدیل کیا جائے۔ یہ کام اس سے پہلے صرف سورج اور دوسرے ستاروں کے اندر ہوتا تھا۔ آج تک کا انسان زمین میں موجود مفید عناصر سے فائدہ اٹھاتا رہا ۔یہ ایک ایسی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، جہاں انسان خود ہی مفید چیزیں تخلیق کرنے لگے۔ ممکن ہے کہ ایک دن انسان خود لوہا بنانے لگے، جو سب سے بھاری عنصر ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تھری ڈی پرنٹر عام استعمال ہو رہے ہیں۔ آپ ان میں خام مال ڈال کر اپنی ضرورت کی ہر شے گھر میں تیار کر سکتے ہیں۔ حکومتیں اور بڑے ادارے دیو قامت تھری ڈی پرنٹر استعمال کرتے ہوئے ہوائی جہازوں اور میزائلوں کے پرزے بھی بنا رہے ہیں۔ حیاتیاتی تھری ڈی پرنٹر بھی آزمائشی مراحل سے گزارے جا رہے ہیں۔ ایک دن آئے گا، جب انسان اپنے ضائع ہوجانے والے اعضا اگارہا ہوگا، جنہیں امیون سسٹم مسترد نہیں کرے گا۔ اس کے باوجود انسان خالی ہاتھ ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ آدمی نے آج تک ایجاد کچھ بھی نہیں کیا۔وہ صرف دریافت کرتا رہا ہے۔ انسان نے ریاضی، طبیعات اور دوسری سائنسز کو سمجھتے ہوئے، کششِ ثقل سمیت مختلف کائناتی اصولوں سے فائدہ اٹھایا۔ موبائل فون سے میری آواز اور انٹرنیٹ سے ڈیٹا دنیا کے ایک سرے سے دوسرے تک منتقل ہو جاتا ہے۔ ایسا ہرگز ممکن نہ ہوتا، اگرروشنی اس رفتار سے حرکت نہ کرتی اور حتیٰ کہ آواز کی لہریںبہت تیز رفتار سے حرکت نہ کرتیں۔ اگر آپ کے پاس کاپر اور سلور جیسے عناصر نہ ہوتے تو آپ بجلی کا کیا کرتے۔ گھاس، لکڑی اور ایندھن میں توانائی پہلے سے موجود تھی اور ہوا میں آکسیجن بھی۔انسان اگر انہیں یکجا کر کے آگ بنا لیتاہے تو اس میں اس کا اپنا توکوئی کمال نہیں۔

ہو سکتا ہے کہ انسان ہائیڈروجن سے بھاری عناصر بنا لے لیکن یہ عمل توسورجوں میں 13.7ارب سال پہلے سے جاری ہے۔ انسان تو نقالی کر رہاہے۔ آپ زراعت کو دیکھ لیں، میڈیکل سائنس اور دنیا کی کوئی بھی صنعت دیکھ لیں۔ آپ اگر شوگر انڈسٹری میں کام کرتے ہیں تو اس میں استعمال ہونے والا گنا زمین سے اگا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والی مشینری لوہے سے بنی ہے اور لوہا زمین سے نکلا ہے۔ آپ دنیا کی کسی بھی انڈسٹری میں چلے جائیں، آخر آپ پر انکشاف ہوگا کہ آپ زمین کے نیچے سے نکلنے یا اس سے اگنے والی کسی نہ کسی چیز کے محتاج ہیں۔ تین لاکھ سال میں انسان کائنات کوٹھیک طرح سے ماپ نہیں سکا۔ اب اس پہ انکشاف ہوا ہے کہ متوازی طور پر کئی کائناتیں موجود ہو سکتی ہیں۔ ایک طرف انسان متوازی کائناتوں کو کھوج رہا ہے۔ اسی وقت ایشیا سے یورپ اور افریقہ سے امریکہ تک آدمی جنگ و جدل، دہشت گردی اور ایک دوسرے کے بدترین استحصال کا شکار ہے۔ نفسیاتی امراض تیزی سے بڑھے ہیں۔ انسانیت ہیجان کا شکار اور تیسری عالمی جنگ کے دھانے پرکھڑی ہے۔ ایک وائرس آتا ہے اور وقت کا پہیہ الٹا گھما دیتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی تمام تر ترقی اور ایجادات کے باوجود اندر سے آدمی جانور ہی رہا اور جانور ہی رہے گا۔ ایک ترقی یافتہ جانور!

تازہ ترین