آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

 ٹیکنا لو جی کی دنیا کو مزید وسیع کرنے کے لیے رواں سال سائنس دانوں نے حیران کن دریافتوں اور یجادات کے بے شمار جھنڈے گاڑے ۔اور علم و حکمت ،دریافتوں اور ایجادات کے درخت میں متعدد شگوفے پھوٹے۔ دنیا بھرمیں پھیلی عالمی وبا ء کو رونا وائرس کے باوجود ایجادات کا سمندر مزید گہرا ہوا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تحقیق اور ایجادات کسی بھی ملک کی ترقی کے دواہم پہلو ہیں ۔

ان کے بغیر ترقی کرنا ممکن نہیں ۔ماہرین نے رواں سال فلکیات کی دنیامیں نت نئے سیارے دریافت کیے ،مختلف کاموں کے لیے روبوٹس تیار کیے گئے۔خون کے اسمارٹ خلیات بنائے گئے اور بہت کچھ منظر عام پر آیا ۔2020 ء میں ٹیکنالوجی کی دنیامیں مزید کیا کیا ہوا ،اس کا اندازہ آپ کو ایجادات کی جائزہ رپورٹ پڑھ کر ہو جائے گا ۔

چاند کی مٹی سے آکسیجن بنانے کے لیے پلانٹ تیار

چاند پر آبادیاں بسانے کی انسانی خواہش کو پورا کرنے کے لیے2020 ءمیں یورپی سائنس داں نے ایک چھوٹا پلانٹ تیار کیا جو چاند کی مٹی سے آکسیجن کشید کرسکتا ہے ۔اس مٹی کو ’’قمری ریگو لتھ ‘‘ بھی کہا جا تا ہے ۔چاند کے پتھروں میں 40 سے 45 فی صد آکسیجن ہوتی ہے ۔سائنس دانوں نے پگھلے ہوئے نمک کی برق پاشیدگی کے عمل کو استعمال کیا ہے ۔اس عمل کے لیے ماہرین نے پہلے چاند کی مٹی کو ایک پیالے میں ڈالا اور کیلشیئم کلورائیڈ نمک کو 950 درجے سینٹی گریڈ پر گرم کرکے پگھلا کر مٹی میں ملا یا ۔اس گرمی پر بھی ریگو لتھ ٹھوس ہی رہا ۔ 

بعدازاں اس آمیزے میں ہلکی بجلی شامل کی گئی توچاند کی گرد سے آکسیجن خارج ہونے لگی ۔ اس عمل میں پگھلے ہوئے نمک نے بجلی گزرنے میں الیکٹرولائٹ کی طرح مدد کی اور آکسیجن اس کے ایک سرے یعنی اینوڈ پر جمع ہوتی گئی۔اس چھوٹے پلانٹ سے ثابت ہوا کہ چاند کی مٹی سے آکسیجن نکالنا ممکن ہے، جس کو مزید عمل سے گزار کر انسانوں کے لیے چاند پر آکسیجن کی تیاری ممکن ہوجائے گی۔

گھر کاچوکیدار ڈرون

امریکی اور سوئس کمپنی نے رواں سال مشتر کہ طور پر ایک ڈرون تیار کیا ہے ،جس کا کام گھر کی چوکیداری کرنا ہے ۔یہ مشکو ک صورت ِحال کو دیکھ کر نہ صرف فون ایپ کو خبر کرتا ہے بلکہ خود اس کی تفصیلات بھی بتاتا ہے ۔اس کا پورا سیٹ کئی سینسر اور لانچنگ پیڈ پر مشتمل ہے ۔یہ دنیا کا پہلا ڈرون ہے جو مکمل طور پر گھر کی حفاظت کرے گا ۔اور یہ ہر طرح کے سینسر سے لیس ہے ۔

اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ڈرون مکمل طور پر خود مختار ہے اور گھر کے ساتھ باغ اور دالان پر بھی نظر رکھتا ہے ۔ماہرین نےاس کی قیمت 10 ہزار ڈالر مقرر کی ہے ۔اس ڈورن کے تین اہم حصے ہیں جنہیں سن فلاور بی ہائیویعنی سورج مکھی ،چھتے اور شہد کی مکھی کے نام دئیے گئے ہیں ۔ ان تینوں کے کام مختلف ہیں ،سن فلاور گھر کے لان میں لائٹوں کی طر ح لگے ہوتے ہیں جو حرکت اور سر سراہٹ کو نوٹ کرتے رہتے ہیں ۔

دوسری جانب سن فلاور سینسر جانور، انسان اور گاڑی وغیرہ میں امتیاز کرتےہیں اور پورے گھر کا نقشہ بناتے رہتے ہیں۔بی ہائیو خود کار ڈرون ہے جو گھر سے ٹکرائے بغیر جی بی ایس نظام کے تحت پرواز کرتا ہے اور حقیقی وقت میں ویڈیو نشر کرتا ہے۔ جبکہ چھتہ وہ جگہ ہے جہاں ڈرون بند رہتا ہے اور جوں ہی سورج مکھی گھر میں کسی مشکوک حرکت کی اطلاع دیتا ہے ڈرون فوراً اپنے چھتے سے باہر نکل کر پرواز شروع کردیتا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار نظام ہے اور یہ مکمل طور پر واٹرپروف ہے۔

خون کے ’’اسمارٹ خلیات‘‘

کینیڈا میں قائم مک ماسٹر یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے اس سال ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے ،جس کے ذریعے خون کے سر خ خلیوں میں دوا بھری جاسکے گی ،پھر انہیں انجکشن کے ذریعے انسانی جسم میں داخل کیا جائےگا اور یہ خود اپنا راستہ رتلاش کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچ کے کھل جائیں گے اور اندر بند دوا کا اخراج کردیں گے ۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے سائٹ ایفیکٹس بھی کم سے کم ہوں گے ۔مک ماسٹر یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے خون کے سرخ خلیوں کی بیرونی جھلی (سیل میمبرین) میں کچھ اس طرح سے تبدیلی کی ہےکہ کچھ خاص اعضاء، بافتوں یا جرثوموں (بیکٹیریا) سے چپکنے کے قابل ہوگئے۔ 

علاوہ ازیں، انہیں اس قابل بھی بنایا گیا ہے کہ وہ اپنا اندرونی مواد نکال سکیں، جس کی جگہ انہیں دوائی سالموں (ڈرگ مالیکیولز) سے بھرا جاسکے اور اس کے بعد ان کی جھلی دوبارہ سے بند ہوجائے گی اور وہ دوسرے صحت مند خلیوں کی طرح بن جائیںگے۔اس طرح کسی دوا سے ’’مسلح‘‘ خلیے نہ صرف اپنے مطلوبہ ہدف کو تلاش کرتے ہوئے، انسانی جسم میں اپنا سفر خود جاری رکھ سکیں گے بلکہ انہیں جسم کے قدرتی دفاعی نظام (امیون سسٹم) کی طرف سے بھی کسی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوگا۔

دنیا کا پہلا انسان بردار ڈرون

2020 ء میں ماہرین نے کروایشیا میں دنیا کا پہلا ڈرون تیار کیا ،جس میں ایک کے بیٹھنے کی گنجائش ہے ،یہ پہلا ڈرون ہے جو باقاعدہ طیارو ں کی طر ح کرتب بھی دکھاتا ہے اور اسٹنٹس کا مظاہرہ بھی کرتا ہے ۔ اسے ’’ایئروبیٹک ملٹی کا پٹر ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ،اس میں 12 روٹر نصب کیے گئے ہیں ۔انہی روٹر کی مدد سے یہ ہوا میں پلٹتا اور جھپٹتا ہے ۔

اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خطر ناک کرتب بھی دکھا تا ہے۔ کاربن فریم سے بنے اس ڈرون کے 6 وسیع بازو ہیں جو اسے سر یع الحرکت بنا تے ہیں ۔ اس ڈرون کو ایک مقابلے کے لیے تیار کیا گیا ہے ،جس کا ڈھانچہ خاص باد حرکیاتی انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے ۔اس کے درمیان میں ایک سیٹ لگی ہے ،جس پر پائلٹ کے علاوہ کوئی بھی بیٹھ سکتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پورا ڈرون گرائونڈ سے کنٹرول ہوتا ہے ۔

رات میں لوہے کی برسات کرنے والا انوکھا سیارہ

اس سال یونیو رسٹی آف جینیو اسوئزر لینڈ کے ماہرین فلکیات نے ایک ا نوکھا سیارہ دریافت کیا ہے۔جہاں رات کے وقت فولادی ذرات کی بارش ہوتی ہے ۔یہ نیا سیارہ 640 نوری سال فاصلے پر موجود سیارہ جھرمٹ ’’پائسس ‘‘ میں پا یا جاتا ہے ،جس کا درجہ ٔ حرارت 2400 درجے سینٹی گریڈ ہے ۔اس درجہ ٔ حرارت پر پایا جانے والا فولاد بھاپ بن کر اُڑجا تا ہے ۔اسے ڈبلیو اے ایس پی 76 بی کا نام دیا ہے ،یہ سیارہ مشتری (جو پیٹر ) کی طر ح انتہائی گرم ہے لیکن مشتری کے مقابلے میں اس کی جسامت 1.8 گنا زائد ہے ۔

یہ اپنے ستارے سے 50 لاکھ کلو میٹر دور ہے اور اس کے سورج کا درجہ ٔ حرارت خود ہمارے سورج سے بھی زیادہ ہے ۔ یہ سیارہ ہمارے چاند کی طرح مسلسل اپنا رُخ ایک جانب رکھتا ہے یعنی ایک علاقے پر مسلسل رات ہے تو دوسرے حصے پر مسلسل دن رہتا ہے۔دن کی گرمی سے وہاں موجود فولاد کی مقدار بھاپ بن کر اُڑتی رہتی ہے جب کہ رات میں لوہے کی بارش ہوتی ہے لیکن یہ لوہا دہکتا ہوا برستا ہے۔

ہاتھوں کو چہرے سے دور رکھنے والا اسمارٹ بینڈ

رواں سال واشنگٹن کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی نے ایک اسمارٹ بینڈ بنایا ہے جو ہاتھوں کو چہرے سے دور رکھنے میں مدد گار ثابت ہو گا ۔اس کو بنانے کا مقصد کورونا وائرس سے بچانا ہے ۔اس کو ’’دی ایموٹچ بینڈ ‘‘ کانام دیا گیا ہے۔ یہ باربار چہرے پر ہاتھ لگنے کے بعد خبر دار کرتا ہے۔ویسے تو یہ بینڈ چہرے کے بال اور خشک جلد کو اکھیڑنے اور ناخن کترنے جیسی عادات کو چھوڑنے میں مدد کے لیے بنا یا گیا تھالیکن واشنگٹن میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے کے بعد کمپنی نے اسے ہاتھوں کو چہرے سے دور رکھنے کے لیے متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ۔ 

اسے پہننے والا شخص جیسے ہی چہرے کو چھوئے گا یہ ڈیوائس اسے خبر دار کردے گی ۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اسمارٹ فون سے بھی منسلک ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ بلیو ٹوتھ کنیکشن اور فون سے منسلک ہوئے بغیر بھی قابل استعمال ہے ،تاہم فون سے منسلک ہونے کی صورت میں استعمال کرنے والے اس بات کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ انہیں کتنی بار اپنے چہرے کو ہاتھ لگایا ہے۔

پہیوں والا جیٹ ڈرون

طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے 2020 ء میں پہلا ڈرون بنایا جو پہیوں پر چلتے ہوئے بالکل ہوائی جہاز کی طر ح ٹیک آف کرتا ہے ۔کمپنی کی جانب سے اسے ’’لوئل وِنگ مین ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ،جس کے پہیےسارا وزن اُٹھاتے ہیں اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں طیارے جیسی قو ت بھی موجود ہے ۔اس کے پہیے بالکل مسافر طیارے کی طر ح کھلتے اور بند ہوتے ہیں ۔اس سلسلے میں آسٹریلیا کی رائل فورس نےتین ڈیزائن تیار کیے ہیں جو لوئل ونِگ مین ایڈوانسڈ ڈویلپمنٹ پروگرام کا حصہ ہیں۔ 

یہ عام ڈرون نہیں ہے بلکہ انسانی اور غیرانسانی طیاروں کے ساتھ ساتھ پرواز کرتاہےاور ایک بڑے مشن کا حصہ بھی ہے۔اس ڈرون کی لمبائی 38 فیٹ ہے۔ اس میں لگے سینسرضرورت کے مطابق بدلے بھی جاسکتے ہیں ۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر غیر انسان بردار جیٹ ڈرون ہے ،جس کی پرواز لڑاکا طیارے جیسی اوررینج 3700 کلو میٹر تک ہے ،علاوہ ازیں یہ ڈرون جاسوسی اور نگرانی کے کام بھی انجام دے سکتا ہے۔

دنیا کا پہلا اسمارٹ یووی ائیرکولر

رواں سال سائنس دانوں نے دنیا کا پہلا یووی ائیر کولرمتعارف کروایا ہے ،جسے انٹر نیٹ پر کرائو ڈفنڈنگ کے بعد تیا ر کیا گیا ہے ۔اس کو ’’نیکس فین الٹرا‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔اس کے اندر نصب الٹروائلٹ (بالائے بنفشی ) نظام جو ہوا بھیجتا ہے وہ مکمل طور پر جراثیم سے پاک ہوتی ہیں۔ نیکس فین الٹر ا صرف چند سیکنڈ وں میں ہی ٹھنڈی ہوا پھینکنا شروع کردیتا ہے ۔

اس کی خاص بات یہ ہے کہ آپ اس کو کہی بھی اُٹھا کر لے جا سکتے ہیں ،کیوں کہ اس میں 10ہزار ایم اے ایچ کا پاور بینک لگا ہوا ہے۔اس پاور بینک کی وجہ سے یہ روم کولر 12 گھنٹے تک مسلسل چلتا رہتا ہے ۔اس کو آن کرنے کے چند سیکنڈ بعد ہی یہ پانچ درجے سینٹی گریڈ تک ٹھنڈی ہوا خارج کرنے لگتا ہے ۔اس کو یو ایس بی سے بھی چارج کیا جاسکتا ہے ۔یہ بڑی جگہ کو بھی بہت اچھے سے ٹھنڈا کرسکتا ہے ۔ اس کا طاقتور اندرونی پنکھا پانچ فیٹ کی دوری تک سرد ہوا کی مسلسل فراہمی جاری رکھتا ہے۔

اس میں ایک مرتبہ پانی ڈال کر جتنا ہلایا جائے پانی لیک نہیں ہوتا۔ عام ایئر کولر 70 واٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں جب کہ یہ ایئرکولر صرف 10 واٹ بجلی استعمال کرتا ہے۔اس اسمارٹ یووی ائیر کولر میں بالکل بھی آواز نہیں ہے ۔آپ اس کو اپنی سہولت کے مطابق دو آپشن میں رکھ سکتے ہیں ،پہلا یہ نمی خارج کرتا ہے اور دوسرا ٹھنڈی ہو ا پھینکتا ہے ۔پانی بھرنےکے بعد اس کا وزن مشکل سے دو پونڈ ہو جاتا ہے ۔فی الحال اس کی قیمت 45 ڈالر مقرر کی گئی ہے ۔

چاند پر زنگ دریافت

2020 ء میں امریکی سائنس دانوں نے چاند پر زنگ (rust) دریافت کیا ہے جو ا س کی قطبین پر زیادہ ہے اور دیگر مقامات پر کم مقدار میں ہے ۔یہ دریافت اس لیے حیران کن ہے ،کیوں کہ چاند پر زنگ دو اجزا ء کی وجہ سے لگتا ہے ایک پانی اور دوسرا آکسیجن اور ان دونوں میں سے وہاں کوئی بھی موجود نہیں ہے لیکن پھر بھی وہاں زنگ دریافت ہوا ہے ۔یہ تحقیق جیٹ پر وپلشن لیبارٹر ی اور پانچ امریکی تحقیقی اداروں نے ناسا کی سر برا ہی میں مشتر کہ طور پر انجام دی ہے ۔ 

ان میں نصب آلات سے کیے گئے طیفی تجزیوں سے چاند کے قطبین پر آئرن آکسائیڈ کی ایک خاص قسم ’’ہیماٹائٹ‘‘ کی موجودگی کا انکشاف ہوا جسے آسان الفاظ میں ’’زنگ کا جڑواں‘‘ بھائی بھی کہا جاسکتا ہے، کیوں کہ اس کا بنیادی کیمیائی فارمولا وہی ہے جو زنگ کا ہوتا ہے۔ چاند پر یہ زنگ دراصل ’’ہیماٹائٹ‘‘ نامی ایک معدن کی شکل میں ہے جو زمین پر لوہے کی قدرتی کچ دھات میں بکثرت پائی جاتی ہے۔ چاند تک پہنچنے والی ہائیڈروجن (جو پانی کا اہم جزو بھی ہے) غالباً سورج سے آنے والی ’’شمسی ہواؤں‘‘ کے ساتھ وہاں پہنچی ہوگی جب کہ چاند پر آکسیجن کے بارے میں اندازہ ہے کہ یہ زمین کے بالائی کرۂ ہوائی میں موجود تھی جسے زمینی مقناطیسی میدان نے دھکیل کر چاند تک پہنچا دیا،کیوں کہ چاند کا وہ حصہ جو ہمیشہ زمین سے مخالف سمت میں رہتا ہے، اس پر زنگ موجود نہیں بلکہ صرف اسی حصے میں زنگ دریافت ہوا ہے جو اپنا رُخ زمین کی طرف رکھتا ہے۔

دنیا کی پہلی مصنوعی تھری ڈی آنکھ

ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ایچ کے ایس یوٹی ) کے تیکنیکی ماہرین نےاس سال ایک ایسی مصنوعی آنکھ تیار کی ہے جو بالکل قدرتی آنکھ جیسی گول یعنی ’’تھری ڈی ‘‘ ہے ۔ اسے ’’ای سی آئی ‘‘ یا ’’الیکٹروکیمیکل آئی ‘‘ کہا جاتاہے ۔اس سے پہلے مصنوعی آنکھ کے جتنے بھی نمونے تیار کیے گئے ہیں ،ان میں اسپاٹ 2Dسی سی ڈی /ڈیجیٹل کیمروں کا استعمال کیا گیاہے ۔اس لحاظ سے یہ پہلی مصنوعی آنکھ ہے جو کئی طر ح کے پیچیدہ حصوں کو گولائی میں تر تیب دے کر ایجاد کی گئی ہے۔بالکل اسی طرح جیسے قدرتی آنکھ ہوتی ہے۔

اس کی خاص بات یہ ہے کہ جس طرح قدرتی آنکھ میں پردہ چشم کے بالکل پیچھے اعصاب کا ایک گچھا ہوتا ہے جو دوسرے مختلف اعصاب سے ہوتا ہوا دماغ تک پہنچتا ہے اور بصارت کا احساس پیدا کرتا ہے، ٹھیک اسی طرح الیکٹروکیمیکل آئی میں بھی مائع دھات پر مشتمل ’’اعصاب‘‘ ہوتے ہیں جو اس سے دیکھے جانے والے منظر کو ڈسپلے ڈیوائس یا اسکرین تک پہنچاتے ہیں۔ فی الحال اس آنکھ سے حاصل ہونے والا عکس خاصا دھندلا ہے لیکن اس تھری ڈی مصنوعی آنکھ سے بننے والے عکس کا دارومدار اس سے منسلک مائع دھاتی اعصاب کی تعداد پر ہے۔ مستقبل میں جیسے جیسے یہ تعداد بڑھے گی، ویسے ویسے اس آنکھ کا منظر بھی واضح ہوتا جائے گا، یہاں تک کہ مصنوعی تھری ڈی آنکھ سے دیکھا جانے والا منظر، انسانی آنکھ سے بھی زیادہ بہترہوجائے گا۔

74 کروڑ صفحات سمانے والی چھوٹی سی ڈسک

رواں سال ایک نجی کمپنی نے سالڈ اسٹیٹ ڈرائیو کا نیا ورژن متعارف کروایا ہے ،جس میں ڈیٹا کی گنجائش 1 ٹیرا بائٹ (1024 گیگا بائٹ)سے لے کر 8 ٹیرا بائٹ(8192 گیگا بائٹ ) تک ہے ۔8 ٹیرا بائٹ والی ڈسک ڈرائیور میں تقریباً74 کروڑ صفحات جتنے مواد کی گنجائش ہے۔

اس ڈرائیوز کے نئے ورژن میں ’’کیو ایل سی ‘‘ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے ،جس کے ذریعے کم سے کم جگہ میں زیادہ سے زیادہ ڈیٹا محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اسی بناء پر ان ہارڈ ڈرائیوز کی جسامت صرف 2.5 انچ ہے۔فی الحال ’’870 کیو وی ڈی ساٹا ایس ایس ڈی‘‘ کے نام سے چار نئی ڈرائیوز پیش کی گئی ہیں جن کی گنجائش 1 ٹیرابائٹ، 2 ٹیرابائٹ، 4 ٹیرابائٹ اور 8 ٹیرابائٹ ہے ۔ان تمام ماڈلز میں ڈیٹا ٹرانسفر کی رفتار 530 میگابائٹ فی سیکنڈ سے 560 میگابائٹ فی سیکنڈ کے درمیان ہے۔

منٹوں میں آبدوز بن جانےوالی اسٹیلتھ کشتی

2020ء میں بر طانیہ کی بحریہ اور فوجی کشتیاں بنانے والی کمپنی وکٹا نے ’’سب سی کرافٹ ‘‘نامی ایک کشتی تیار کی ہے ،اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اسٹیلتھ ہونے کے علاوہ ضرورت پڑنے پر صرف چند منٹوں میں کشتی سے آبدوزبن جاتی ہے ۔اس کو مضبوط اور ہلکا رکھنے کے لیے کاربن فائبر کے ساتھ ساتھ خاص طرح کے ڈائی ایب (Diab) فوم کا استعمال بھی کیا گیا ہے ۔اس میں8 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے ۔

جن میں 6 غوطہ خور سپاہیوں کے علاوہ ایک پائلٹ اور ایک نیوی گیٹر شامل ہیں ۔ یہ 39.2 فٹ لمبی اور 7.5 فٹ چوڑی ہے۔کشتی کے طور پر یہ اپنا 725 ہارس پاور والا ڈیزل انجن استعمال کرتے ہوئے 74 میل فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ تیز رفتار سے سفر کرسکتی ہے، جب کہ اس کی اوسط رفتار 56 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ایک مرتبہ مکمل طور پر ایندھن بھرنے کے بعد یہ 463 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہے۔جب اسے کشتی سے آبدوز بنانا ہوتا ہے تو ایک خاص نظام کے ذریعے اس میں پانی بھرنا شروع ہوجاتاہے، جس کے دو منٹ بعد ہی یہ آبدوز کی طرح پانی کی گہرائی میں اترنے لگتی ہے۔

اس کےلیے سب سی کرافٹ میں سوار تمام افراد پہلے ہی سے غوطہ خور ماسک اور لباس پہنے ہوتے ہیں، جن میں سانس لینے کا نظام اس کشتی پر موجود’ ’اوپن ایئر سرکٹ سسٹم‘‘ سے منسلک ہوتا ہے۔یہ واٹرپروف نظام خاصی گہرائی میں جانے کے بعد بھی پانی سے متاثر نہیں ہوتا اور آبدوز میں موجود تما م لوگوں کو 4 گھنٹے تک آکسیجن کی فراہمی جاری رکھ سکتا ہے۔

آبدوز میں تبدیل ہوجانے کے بعد یہ کشتی اپنے 6 الیکٹریکل تھرسٹرز استعمال کرتی ہے جو اسے زیرِ آب رہتے ہوئے 15 کلو میٹرفی گھنٹے کی رفتار سےآگے بڑھاتے ہیں ۔ یہ تھرسٹرز لیتھیم آئن بیٹری پیک سے توانائی حاصل کرتے ہیں اور ایک بار مکمل چارج ہونے کے بعد کم از کم 2 گھنٹے تک سب سی کرافٹ کو زیرِ آب حرکت میں رکھتے ہیں اور اس دوران یہ 46 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہے۔

چاول کا معیار جانچنے والا سافٹ وئیر

پاکستانی طلبانے چاول کا معیار جانچنے کے لیے 2020ء میں پہلا آرٹی فیشل انٹیلی جنس سافٹ وئیر تیار کیا ۔یہ سافت وئیر چاول کے دانوں کا سیکنڈوں میں مشین لرننگ کے ذریعے تجزیہ کرکے اس کے معیار کا تعین کرتا ہے ۔اس کو ’’رائس کوالٹی اینا لائزر ‘‘ کا نام دیا ہے ۔جو ایک منٹ میں چاول کے دانوں کا تجزیہ کرکے چاول کی لمبائی ،موٹائی ،ٹوٹے ہوئے دانوں کا تناسب ،اوسط وزن اور دیگر اہم خصوصیات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان میں چاول کی مقامی طلب اور ایکسپورٹ کے حجم میں اضافہ کے لحاظ سے سافٹ ویئر کی مدد سے چاول کی جانچ کی ضرورت عرصہ سے محسوس کی جارہی تھی ،تاکہ کم سے کم وقت اور لاگت سے زیادہ سے زیادہ چاولوں کی جانچ کی جاسکے۔ مقامی سطح پر اس جدید سافٹ ویئر کی تیاری سے چاول کی درجہ بندی کی لاگت کم اور جانچ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور ایکسپورٹ کے آرڈرز کم سے کم وقت میں مکمل ہوسکیں گے۔یہ سافٹ ویئر چاول کی 7اہم خصوصیات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

2020 ء میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں چھانے والے روبوٹس

 خلیات سے تیار کردہ دنیا کا پہلا روبوٹ ’’زینو بوٹ‘‘

رواں سال یونیو رسٹی آف ورمنٹ کے کمپیوٹر سائنس دانوںنے مینڈک کے اسٹیم سیل کی مدد سے دنیا کا پہلا زنیو بوٹ بنایا ہے ۔اس عمل میں 500 سے 1000 خلیات کو ایک جگہ جمع کر کے ملی لیٹر سے بھی چھوٹی جسامت کا ایک بلبلہ نما روبوٹ بنایا گیا ہے ۔ یہ خود سے منظم ہونے والی زندہ مشین ہے ۔زینوبوٹ تجرباتی ڈش میں ادھر ادھر اچھلتا ہے اور اب تک انسانی تاریخ میں بنائے جانے والی یہ ایک انوکھی شے ہے۔ اس کی بدولت معمولی سی تبدیلی سے کئی طرح کے روبوٹ اور ساختیں ڈھالی جاسکتی ہیں جنہیں بہت سے شعبے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ 

بعض اوقات یہ روبوٹ ازخود منظم بھی ہوجاتے ہیں۔انہیں ماحول میں کسی کام کے لیے بھی بھیجا جاسکتا ہے ۔یہ روبوٹ ایک زندہ شے ہے جسے ضرورت کے مطابق پروگرام کیا جاسکتا ہے ۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک محلول میں کچھ کھائے پیئے بغیر ایک ہفتے تک تیر سکتا ہے ۔اس میں پروٹین اور چکنائی کی صورت میں توانائی پہلے ہی بھری جاچکی ہے۔ ان کے ختم ہوتے ہی روبوٹ مرجائے گا۔ روبوٹ کو مائع میں آگے بڑھانے کے لیے دل کے دھڑکتے ہوئے خلیات لگائے گئے ہیں وہ ہلتے ہیں تو روبوٹ آگے بڑھتا ہے۔

کچرا چھانٹنے والا روبوٹ

jodone نامی کمپنی نے 2020ء میں کچرا چھانٹنے کے لیے ایک روبوٹ تیار کیا ہے ۔اس کے لیے کمپنی نے ایک سافٹ وئیر تیار کیا ہے ۔اس سافٹ وئیر کا مائیٹر ٹچ اسکرین کاحامل ہو تا ہےاور مزدور ٹچ اسکرین کی مدد سے کچرے کی نشان دہی کرتا ہے اور روبوٹ اس کچرے کو متعلقہ ڈسٹ بن میں پھینک دیتا ہے ،تا کہ بعد میں اسے تلف کیاجاسکے ۔ کمپنی نے اس پروجیکٹ کانامDouglas waste to energy facility رکھا ہے ۔ لیبارٹری تجربات کےدوران روبوٹ کی جانب سے Pick rate اڑھائی ہزار فی گھنٹہ تھا اور یہ انسان کے کام سے تین گنا زیادہ ہے اور روبوٹ نے یہ کام پچانوے فی صددرستی سے کیا۔ ان تجربات کی کامیابی کے بعد پائلٹ پروجیکٹ اور سافٹ وئیر کو باقاعدہ استعمال کیا گیا۔

سمندر میں پوشیدہ خزانے تلاش کرنے والا روبوٹ

اس سال اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوںنے سمندروں میں چھپے رازوںپر سے پردہ اُٹھانے کے لیے روبوٹ تیار کیاہے ۔اس کا روبوٹ کا نام ’’اوشن ون ‘‘(ocean one ) رکھا گیا ہے ۔اس کی مدد سےکنگ لوئس چودہ لالونے La Lune کا 350 سال پرانا سمندر بردہونے والے خزانے کو تلاش کیا گیا ہے ۔ اس خزانے کو شمالی فرانس کے علاقے ٹولن ( Toulon) سے در یافت کیا گیا ہے ۔یہ خزانہ 1664ء میں سمندر برد ہواتھا ۔اوشن ون روبوٹ کے دو ہاتھ ، ایک پائوںاور منہ ہے ،جس کے ساتھ روبوٹ کو پانی میں آگے دھکیلنے والے پنکھے نصب کیے گئے ہیں ۔

یہ روبوٹ مکمل طور پر واٹر پروف ہے اور پانی میں آگے دھکیلنے والے پنکھے موٹر آئزڈ ہیں ۔اس کو ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے ۔کنٹرول روم میں اس روبوٹ کا کنٹرولنگ یونٹ جوائے اسٹکس کی مدد سےاس روبوٹ کو کنٹرول کرتا ہے ۔ یہ روبوٹ خود کار انداز میں بھی کام کر سکتا ہے اور اپنے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کر سکتا ہے ۔

یہ گہرے پانی میں باآسانی جاسکتا ہے اور حساس کیمروں کی مدد سے زیر سمندر مناظر کی فلم کشی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ۔خزانے تلاش کرنے کے علاوہ سمندر میں موجود تیل کے کنوئوں کی مرمت ،گہرے پانیوں میں موجود انٹر نیٹ کیبل کی مرمت وغیرہ جیسے دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

آسانی سے خون نکالنے والا میڈیکل روبوٹ

2020ء میں رٹگرز یونیورسٹی اور مائونٹ سینائی ہسپتال کے ماہرین نے ایک ایسا میڈیکل روبوٹ متعارف کروایا ہے جو انسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہارت سے رگ تلاش کرنے اور درست مقام سے خون نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔یہ روبوٹ ان لوگوں کے لیے بہت کار آمد ثابت ہوگا جن کو بلڈ ٹیسٹ کرتے وقت رگ تلاش کرنے میں مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔31 مریضوں پر اس کی آزمائش کی گئی ہے اور 87 فی صد درست کارکردگی کا مظاہرہ کیا جب کہ رگیں واضح ہونے پر اس کی کار گر دگی 97 فی صد درست دیکھی گئی ہے ۔بازو میں رگ تلاش کرنے کے لیے الٹراسائونڈ کا استعمال کرتا ہے اور مصنوعی ذہانت سے لیس ایک الگورتھم سے استفادہ کرتے ہوئے مطلوبہ رگ کو شناخت کرتا ہے ۔یہ روبوٹ تیز رفتار ،محفوظ اور قابل ِبھروسہ ایجاد ہے جو مریضوں کو غیر ضروری پیچیدگیوں اور اضافی تکلیف سے بچاتا ہے ۔

کورونا کے مریضوں اور دیگر ٹیسٹ کرنےوالا روبوٹ

دنیا بھر میں پھیلی عالمی وبا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے کے لیے مصر کے ایک شخص نے روبوٹ تیا رکیا ہے جو نہ صرف کووِڈ 19 کے مریضوں کا ٹیسٹ کرے گا بلکہ ایکسرے ،ایکوکارڈ یو گرام اور الٹرا سائوند کرنے کا کام بھی انجام دے گا ۔علاوہ ازیں یہ کورونا کے مریضوں کےخون کے نمونے بھی لے گا ۔یہ بظاہر انسانی شکل جیسا لگتا ہے ۔اس کانام ’’سیرا 03 ‘‘ رکھا گیا ہے ۔ ٹیسٹ کے نتائج مریض اسکرین پر بھی دیکھ سکتاہے۔اس روبوٹ سے مریضوں سے وائرس طبی عملے میں منتقل ہونے کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے ۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید