• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سردیوں میں کن غذاؤں کا استعمال کریں؟

سردیوں کے موسم میں نزلہ، زکام، کھانسی اور فلو جیسی بیماریاں عام ہیں، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چکن سوپ، رس دار پھل، لہسن، پیاز، ادرک، مچھلی اور کالی مرچ کا کھانے میں استعمال مذکورہ بیماریوں سے بچنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔

ماہرین کے مطابق موسم سرما کی روایتی بیماریوں سے بچنے کے لیے کچھ غذائیں ایسی ہیں جنہیں روزمرہ غذا میں شامل کرکے سردیوں میں ان بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ جن میں قابل ذکر چکن سوپ یا مرغی کا شوربہ ہے، یہ ویسے تو ہر موسم میں بہتر غذا ہے لیکن خاص سردیوں کے موسم میں اس کا استعمال زکام کے وائرس سے بچانے میں بڑی مدد کرتا ہے اور اگر اس میں اُبلی ہوئی سبزیاں بھی شامل کرلی جائیں یعنی سادہ چکن سوپ کی جگہ چکن ویجی ٹیبل سوپ پیا جائے تو اس کے مفید اثرات اور بھی نمایاں ہوجاتے ہیں۔

سردیوں کے فروٹس مسمی مالٹا کینو وغیرہ اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں سے بھر پور ہوتے ہیں اور ان میں شامل وٹامن سی سردیوں میں ہماری صحت کے لیے انتہائی مفید ہے لہذا ان فروٹس کو اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں اور سٹرس فروٹس کے ساتھ ٹماٹر، سُرخ مرچ ، آلو اور شکرقندی کو بھی اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔

سبز پتوں والی سبزیاں:

سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک، ساگ، اجوائن کے پتے اور ہری پیاز بھی سردیوں کے ایسے کھانے ہیں جو ہمیں اندر سے مضبوط بناتے ہیں اور بیماریوں سے لڑنے کی قوت عطا کرتے ہیں۔ سردیوں میں جب امیون سسٹم کمزور ہوتا ہے تو ایسے کھانے جن میں زنک کی مقدار زیادہ ہو ہمارے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ زنک والے کھانوں میں کالے چنے، لوبیا، انڈے، گوشت امرود اور انار وغیرہ شامل ہیں۔

سردی کی آمد کے ساتھ ہی سردیوں کی سبزیاں اور فروٹس بھی بازار میں ملنا شروع ہوجاتے ہیں، ان سبزیوں اور فروٹس کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں اور نیچے دیئے گئے کھانوں کو اپنی خوراک میں شامل کریں تاکہ آپ کی قوت مدافعت سردی سے کمزور نہ ہو۔

شہد:

شہد اُم الشفا ہے جس میں وٹامنز اور منرلز کے ساتھ بے شمار اینٹی آکسیڈینٹ خوبیاں شامل ہیں، جو آپ کے جسم میں موسمی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتی ہیں اور سردی سے متاثر نہیں ہونے دیتی۔

ڈرائی فروٹس:

خشک میوہ جات سردیوں میں کسی اکسیر سے کم نہیں لیکن ان کا استعمال صبح کے ناشتے میں کریں تاکہ یہ معدے پر بھاری نہ ہوں اور معدے کو ان کو ہضم کرنے میں آسانی ہو اور جسم سارا دن ان کی توانائی سے مستفید ہو سکے، خشک میوہ جات میں بادام اخروٹ اور پستے کے علاوہ کشمش انجیر اور خشک خوبانی کو بھی شامل کریں۔

دیسی گھی:

دیسی گھیسے متعلق عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چربی کی وجہ سے نقصان دہ ہے مگربہت سی میڈیکل تحقیقات کے مطابق خالص دیسی گھی جسم سے بُری چکنائی کا خاتمہ کرتا ہے دیسی گھی کا ایک چمچ روازنہ صبح کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں تاکہ سردی کی خشکی آپ کو متاثر نہ کرے۔

کالی مرچ، اجوائن اور ہینگ:

ان تینوں چیزوں کو اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کریں خاص طور پر اپنی چائے اور قہوے میں ان کا استعمال بڑھائیں تاکہ آپ کو سردی نہ لگے۔ کالی مرچ، اجوائن اور ہینگ آپ کے جسم کی گرمائش کو برقرار رکھتی ہیں اور کم اور باریک لباس پہننے پر بھی آپ کو سردی نہیں لگنے دیتی۔

گُڑ اور شکر:

گُڑ اور شکر جہاں آپ کے نظام انہظام کو بہتر بناتے ہیں وہاں یہ جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے میں بھی انتہائی مدد گار ہیں۔ سردیوں میں اپنے قہوے اور میٹھے کھانے میں چینی کی بجائے گُڑ اور شکر کا استعمال کریں خاص طور پر چائے میں چینی کی جگہ شکر ڈالیں۔

لہسن:

اپنی اینٹی بیکٹریا اور اینٹی وائرل خوبیوں کی وجہ سے لہسن سردیوں کی سب سے زبردست خوراک ہے جو بیشمار خوبیوں کے ساتھ ساتھ سردی میں ہماری قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے اور ہمیں سردی کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے، ان کھانوں کے ساتھ ساتھ سردیوں میں دُودھ، مچھلی اور پانی کا استعمال بھی کریں۔

صحت سے مزید